- الإعلانات -

امید بنو،تعمیر کرو،سب مل کر پاکستان کی

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آئندہ جنگوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے دفاعی پیداوار کے شعبے میں خودانحصاری بے حد ضروری ہے اور اس کام کیلئے تکنیکی اپ گریڈیشن‘ جدید کاری اور داخلی وسائل سے ترقی بہت اہم ہے ۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے پیداوار کو بہتر بنانے کیلئے پی او ایف کی انتظامیہ اور عملے کی تعریف کی اور پی او ایف کو مسلح افواج کے پیچھے ایک ایسی قوت قرار دیا جو پاکستان کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے خدمت سرانجام دے رہی ہے ۔ بدقسمتی سے اس خطے میں ہ میں جس مکار،عیار دشمن پڑوسی سے پالا پڑا ہے اس سے اسکی بدنیتی اور توسیع پسندانہ عزائم کے تناظر میں ہ میں ہر لحظہ ہوشیار اور خبردار رہنا ہوگا اور وہ ہمارا کھلا دشمن ہے لہٰذا اس سے کبھی خیر کی توقع رکھنا عبث ہوگا چونکہ قیام پاکستان کے بعد بھارت کی ہندو بنیا لیڈرشپ نے پاکستان کو خلوص دل کے ساتھ ایک آزاد و خودمختار مملکت کی حیثیت سے تسلیم کیا ہی نہیں لہٰذا اسکے ساتھ کبھی سرحدی کشیدگی اور اسکے پیدا کردہ اندرونی و بیرونی خلفشارکبھی ختم نہیں ہوسکتے بھارت سرکار پاکستان کی آزادی و خودمختاری کا احترام کرے تو پرامن بقائے باہمی کے فلسفہ کے تحت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون سے اس خطے کو جنت نظیر بنا یا جا سکتا ہے اور یہاں خوشحالی و استحکام کا دور دورہ قائم ہوسکتا ہے اور آج ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں مگر ہمارے کینہ پرور پڑوسی بھارت نے تشکیل پاکستان کو شروع دن سے ہی قبول نہ کیا ہے کیونکہ اس کا قیام ہندو لیڈر شپ کے مہابھارت کے خواب چکناچور کرتے ہوئے بھارت کی کوکھ میں سے عمل میں آیا تھا چنانچہ بھارتی لیڈروں نے پاکستان کو بادل نخواستہ قبول کرکے شروع دن سے ہی اسکی سالمیت کمزور کرنے کی سازشوں کی بنیاد رکھ دی ۔ انہی سازشوں کے تحت بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں ‘ کشمیر پر اپنا تسلط جمایا‘ پاکستان کو دولخت کیا‘ اسے آبی دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی سازشیں کیں اور سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی در پے ہوگیا جس کیلئے اس نے خود کو ایٹمی قوت بنایا اور امریکہ‘ فرانس‘ برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے ساتھ ایٹمی دفاعی تعاون کے معاہدے کرکے خود کو ہر قسم کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرلیاہے اس تناظر میں دفاع وطن کیلئے خود کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنا اور جنگی اور ایٹمی ہتھیار تیار کرنا ہماری مجبوری بن گیا ۔ خدا کے فضل اور سیاسی و عسکری قیادتوں کے دفاع وطن کے بے پایاں جذبہ اور پھر عساکر پاکستان کی مشاقی و مہارت کے تحت آج پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت ہے اور ملک کے اندر بھی ایٹمی میزائل‘ ٹیکنیکل ہتھیار اور دوسرا جنگی سازوسامان تیار کرنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہو چکا ہے جن میں جدید ایٹمی اسلحہ بھی شامل ہے ۔ اس کیلئے واہ آرڈی ننس فیکٹریز کو کلیدی حیثیت حاصل ہے جبکہ ہمدم دیرینہ چین کی معاونت سے پاکستان نے تھنڈر جنگی جہاز اور دور تک مار کرنیوالے میزائل بھی تیار کئے ہیں ۔ اس میں یقیناً ہماری جری و بہادر عساکر پاکستان کی مشاقی کا عمل دخل ہے چنانچہ ملک کی عسکری قیادتوں کے ماتحت عساکر پاکستان آج دفاع وطن کیلئے عملاً سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ دشمن کے عزائم کو بھانپ کر افواج پاکستان شروع دن سے ہی چوکنا نہ ہوئی ہوتیں اور اپنی مشاقی و مہارت سے دشمن کی ہر سازش موقع پر ہی ناکام نہ بناتیں تو ہمارا یہ شاطر دشمن ہ میں کب کا ہڑپ کر چکا ہوتا مگر عساکر پاکستان نے 1971ء والے حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات میں بھی ملک کی سلامتی تاراج کرنے کے دشمن کے عزائم ناکام بنائے اور اس وقت عساکر پاکستان دنیا کی منجھی ہوئی عسکری قوت کے طور پر اقوام عالم میں اپنی جنگی استعداد و مہارت کا لوہا منوا چکی ہیں جبکہ بھارت کو گزشتہ سال 27, 26 فروری کو اپنے جارحانہ عزائم پر پاک فوج کے ہاتھوں جو ہزیمت اٹھانا پڑی وہ اس کیلئے مقام عبرت ہے ۔ اتنے جوتے کھانے کے باوجود بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف اسکی سازشوں میں کمی نہیں آئی جس کی سیاسی اور عسکری قیادتیں پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھی بڑ مارتی ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوجوں نے نہتے کشمیریوں پر مظالم کے نئے ریکارڈ بھی قائم کئے ہیں ۔ اس بنیاد پر ہ میں ہمہ وقت بھارتی سازشوں اور عزائم سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات ہمارے ایمان کاحصہ ہے کہ پاکستان کا استحکام‘ سربلندی اور دفاع ہماری مسلح افواج کے مرہون منت ہے اور ایسی صورتحال میں جب سی پیک روکنے کےلئے دنیا بھر کی طاقتیں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوں تو کوئی بھی لیڈر اگر پاکستان کا عسکری اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے تو یہ عوام کسی بھی صورت اس کے بیانیہ کو اہمیت نہیں دیں گے بلکہ فوج کے خلاف بیان کو ملک دشمنی ہی قرار دیا جائے گا اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ سب بیان بازی بھارتی ایما پرکی جارہی ہے ۔ ہ میں آپس کے فروعی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سالمیت اوراستحکام کی خاطراپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور دشمن کو بھر پور تاثر دینا ہوگا کہ پاکستان کی بقا کی خاطر ہم سب ایک ہیں با الفاظ جب ہم اندرونی طور پر مضبوط بلکہ خود کفیل ہوں گے تو کوئی دوسرا ملک ہ میں کبھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکے گا بلکہ معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مضبوطی میں ہی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا راز مضمر ہے کیونکہ جب کوئی قوم یا ریاست مادی طور پر خودکفالت کے اعزاز سے فیضیاب ہوتی ہے کہ امداد کی محتاج نہیں رہتی تو وہ ہر طرح کے خدشات بلکہ خطرات سے محفوظ و مامون رہتی ہے اس ضمن میں جاپان چین اور امریکہ و برطانیہ کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جنہیں کبھی دوسرے ممالک کے آگے دست سوال دراز کرنے کی نوبت نہیں آئی بلکہ ان کی فوجی اور اقتصادی طاقت دوسرے کمزور ممالک کی امداد کا سبب ہے جس کا صلہ،شکریہ ہی نہیں ، مالی منفعت بھی ہے آخر پر ایک شعر اپوزیشن کی نظر موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے ;223;گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے، گھر تو آخر اپنا ہے ۔