- الإعلانات -

ڈی جی آئی ایس پی آرکا اہم انٹرویو

بھارت کی جانب سے خطے میں اورخصوصی طورپرپاکستان میں جو دہشت گردی کے واقعات کئے جارہے ہیں اس حوالے سے جو ثبوت بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان نے رکھے ہیں اس کی وجہ سے اب بھارت بالکل بے نقاب ہوچکاہے، اس کی ہندوتواپالیسی سب کے سامنے آچکی ہے ،پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کو دنیا سنجیدگی سے رہی ہے کیونکہ اب دنیاکی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوچکی ہے کہ مودی خطے میں دہشت گردانہ کارروائیوں کوہوادے رہاہے اسی سلسلے میں ترجمان پاک فوج نے ایک بین الاقوامی ادارے کوانٹرویودیتے ہوئے کہاکہ عالمی برداری نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوتوں کو سنجیدگی کے ساتھ لیا ہے، 5اگست 2019 کے اقدام کے بعدعالمی سطح پر بھارت کی پوزیشن کمزور ہوئی ، بھارت فالس فلیگ آپریشنز جیسے ڈرامے رچا رہا ہے اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔ دنیا اب بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کی بات کر رہی ہے، پاکستان دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کا ڈوزیئر سامنے لایا ہے ۔ پاکستان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پیش کئے ، ڈوزیئر سامنے آنے کے بعد دنیا بھارتی دہشت گردی پر کھل کر بات کر رہی ہے، دفتر خارجہ نے ڈوزیئر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو پیش کیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی ڈوزیئر پیش کیا گیا، او آئی سی کی وزرائے خارجہ کے اعلامیہ میں بھی اس پر بات کی گئی ،ہم عالمی سطح پر بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے معاملہ کو مزید آگے لے کر جائیں گے ۔ اقتصادی راہداری صرف پاکستان کی ن ہیں بلکہ خطے کی قسمت بدل دے گا لیکن بھارت سی پیک کے راستے میں لگاتار رکاوٹیں کھڑی کررہاہے اوراس کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی’’را‘‘ نے اس سلسلے میں باقاعد ہ ایک گینگ قائم کررکھا ہے جو سی پیک کوسبوتاژ کرنے کے لئے اپنی مذموم سرگرمیوں میں ملوث رہتاہے لیکن شاید دشمن کویہ معلوم نہیں کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند،شہد سے زیادہ میٹھی اورسمندر سے زیادہ گہری ہے ۔ ہراچھے برے وقت دھوپ اورچھاءوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کےساتھ کندھے سے کندھاملاکرکھڑے رہے ۔ بھارت بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے اورچین بھی اسے اس حوالے سے بارہامتنبہ کرچکاہے لیکن چونکہ مودی کی تربیت ہی دہشت گردتنظیم آرایس ایس نے کی جوہٹلرکے نظریے سے مرعوب ہے اور وہ اکھنڈبھارت بنانے کے منصوبے پر عمل پیراہے ۔ اسی وجہ سے بھارت نے اقلیتوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں اچھوتوں اورخصوصی طورپر دلتوں کی زندگی انتہائی تنگ کردی گئی ہے برہمن شودروں کو جینے نہیں دیتے مسلمانوں کاعرصہ حیات تنگ ہے یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کوپاکستان دنیا کے سامنے لے آیاہے ۔ یقینا اقتصادی راہداری ایک گیم چینجر منصوبہ ہے، اس منصوبہ میں پورے خطہ سے روابط کی صلاحیت ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ کی خوشحالی کا منصوبہ ہے ۔ چینی پارٹنر سی پیک منصوبے کی سیکورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں ۔ سی پیک کو نقصان پہنچانے کی ہر بھارتی سازش کو ناکام بنائیں گے اور انشا اللہ سی پیک ہر روز پہلے سے زیادہ ترقی کرے گا ۔ ہ میں خطے کی صورتحال کو نارملائز کرنے کی ضرورت ہے، افغان امن عمل کے متعلق انہوں نے کہاکہ ہم افغان قیادت سے اس مسئلے پر بات کرتے رہتے ہیں ، اس سلسلہ میں ایک باقاعدہ میکنزم موجود ہے، کورونا صورتحال پر انہوں نے اس سلسلہ میں میڈیا کے کردار کی تعریف کی اور کہاکہ کورونا صورتحال سے متعلق آگاہی کیلئے این سی او سی بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر میں جو خامیاں سامنے آئیں انہیں ہنگامی بنیادوں پر دور کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں اور دوسری لہر کی تیاری پہلی لہر کے مقابلے میں خاصی بہتر ہے ۔ ہم کورونا کی دوسری لہر کا بہتر طور پرمقابلہ کر رہے ہیں کورونا کی دوسری لہر میں ہم سب کو زیادہ احتیاط اور ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے ۔

وزیراعظم کا کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے 10نکاتی ایمرجنسی پلان

کوروناکی وباء سے عالمی کسادبازاری عروج پر ہے پاکستان کویہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ نہ صرف اس وباء سے بہترین طریقے سے لڑا بلکہ دنیانے اس بات کو تسلیم کیاکہ جس طرح پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاءون کاقلیہ اپنایا اگرامریکہ بھی اس طرح عمل کرتاتواس کے اربوں ڈالرپس انداز ہوجاتے ۔ اس وقت کوروناسے مقابلہ کرنے کےلئے بین الاقوامی برادری کو ترقی پذیرممالک کاخیال رکھناچاہیے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ورچوئل اجلاس سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب میں کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے 10نکاتی ایمرجنسی پلان پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ کورونا وبا دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو درپیش ایک سنجیدہ مسئلہ ہے غریب ممالک سمیت پوری دنیا وبا کی زد میں ہے کورونا کے باعث بڑی معاشی بدحالی کا سامنا ہے ہم کورونا کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں آئی ایم ایف نے شرح نمو میں اضافے کیلئے زور دیا ہے کورونا سے متاثرہ غریب اور پسماندہ ملکوں کے قرضے معاف کم ترقی یافتہ ملکوں کیلئے رعایتی قرضے کی سہولت دی جائے ہنگامی طور پر 500ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جائے کرپٹ سیاستدانوں اور مجرموں کی لوٹی رقم واپس لائی جائے کورونا وائرس کی ویکسین ہر کسی کیلئے میسر ہونی چاہیے پاکستان کو اب کورونا وبا کی دوسری سخت لہر کا سامنا ہے،پاکستان نے بجٹ خسارے پر قابو پانے کا عزم کیا ہوا ہے ، قرضوں میں ریلیف پر جی 20کے شکر گزار ہیں ،پانچ ترقی پذ یر ملک پہلے ہی ڈیفالٹ کرچکے ہیں ،ورلڈ فوڈ پروگرام نے خشک سالی کا خدشہ ظاہر کیا ہے قرضوں میں ریلیف کورونا وبا کے خاتمے تک جاری رکھا جائے ۔ ہم کورونا کی وبا کا بھر پور مقابلہ کر رہے ہیں ۔ پسماندہ ممالک کو ریلیف دینے کے لئے قرضوں میں سہولت دینی چاہیے تاکہ ان کانظام بہترانداز سے چلتارہے ۔ وزیراعظم کاخطاب انتہائی کلیدی نکات پرمشتمل تھاوزیراعظم کویہ اعزاز ہے کہ ترقی پذیرممالک کے باربارآوازاٹھاتے رہتے ہیں ۔

بھارت میں زورپکڑتاکسانوں کا احتجاج،ٹرانسپورٹرزبھی شامل

مودی سرکار کے غیر منصفانہ زرعی بل کے خلاف بھارتی کسانوں کا ملک گیر احتجاج ;200;ج ;200;ٹھویں روز میں داخل ہوچکا ہے جبکہ ہندوستانی ٹرانسپوٹروں کی سب سے بڑی تنظیم ;200;ل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس نے بھی کسانوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسانوں کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ 8 دسمبر سے پورے بھارت میں پہیہ جام ہڑتال شروع کردیں گے ۔ واضح رہے کہ اس سال ستمبر کے مہینے میں مودی سرکار نے زرعی اصلاحات کے نام پر ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت اہم زرعی اجناس کی کم سے کم قیمتوں کے تعین پر حکومت کا کنٹرول مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے نجی سرمایہ کاروں کو ;200;زادی دے دی گئی ہے کہ وہ کسانوں سے براہِ راست بھا تا کرکے اپنی من پسند قیمت پر زرعی اجناس خرید سکیں ۔ اس بل کی منظوری کے خلاف بھارتی کسانوں کا احتجاج جاری ہے اور حالیہ دہلی چلو مہم کے تحت لاکھوں کسان بھارتی دارالحکومت دہلی کا گھیرا تنگ کرچکے ہیں ۔ دریں اثنا بی جے پی حکومت کے مختلف عہدیداروں نے بھی کسانوں سے مذاکرات کیے اور انہیں احتجاج ختم کرنے پر ;200;مادہ کرنے کی پوری کوشش کی لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ۔ کسانوں کی حمایت میں اب تک بھارتی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے علاوہ خود حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں بھی سامنے ;200;گئی ہیں جبکہ بعض بھارتی ریاستوں میں خود بی جے پی کے اپنے رہنما بھی نئے زرعی قانون کے خلاف بولنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور گروپ بھی کسانوں کی حمایت میں کھڑے ہورہے ہیں جن میں طلبہ تنظیموں اور پنچایتوں کے علاوہ ممتاز بھارتی کھلاڑی بھی شامل ہیں جنہوں نے 5 دسمبر کو کسانوں کے حق میں دہلی مارچ کا اعلان کیا ہے ۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ مودی اپنے آپ کو کسانوں کا دوست کہتا ہے لیکن اس نے بینکوں کو مراعات دینے کے سوا اور کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے کسانوں کے لئے قرضہ لینا اور بھی مشکل ہو چکا ہے ۔