- الإعلانات -

بابری شہادت،بھارتی دہشتگردی اور عالمی ذمہ داریاں

ایک جانب پاک ترجمان نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی مین بھارت کے ملوث ہونے ،مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے لایا ہے اور یہ ڈوزیئر سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کیے گئے ہےں اور دنیا بھارتی سپانسرڈ دہشتگری پر بات کررہی ہے ۔ دوسری طرف بابری شہادت کی 28برسی منائی جا رہی ہے ۔ غالباً سبھی جانتے ہےں کہ بابری مسجد کی شہادت کے سنگین جرم میں ملوث تمام مجرموں کو بھارتی سپریم کورٹ نے 30 ستمبر 2020 کو بری کر دیاتھا ۔ بھارتی سی بی آ ئی کی خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ 28 برس قبل بابری مسجد کا انہدام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا اور اس میں نامزد ملزمان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے لہٰذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایس کے یادو 30ستمبر کو مذکورہ فیصلہ سنانے کے فورا بعد ریٹائرڈ ہو چکے ہےں ۔ اسی تناظر میں سنجیدہ مبصرین نے کہا ہے کہ یہ انڈیا کی ہندو مسلمان مشترکہ تاریخ میں ایک ایسا مرحلہ ہے جب ماہرین کے خیال میں بھارت اپنے نام نہاد سیکولرازم کے دعووں سے اعلانیہ طور پر ہٹ کر تیزی سے ہندوتوا کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ بھارت میں مذہب کی بنیاد پر شدت پسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن کو سیاسی رہنماؤں نے لگام کسنے کی بجائے نظرانداز کیا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ عام بات ہوتی جا رہی ہے ۔ دوسری جانب بھارتی پارلیمنٹ میں بھی مسلم نمائندگی بھارت کی تاریخ میں کم ترین سطح پر ہے ۔ جبکہ مودی حکومت شہریت کا ایک ایسا قانون لائی تھی جسے ماہرین ’غیرآئینی‘اور ’مسلمانوں سے تعصب پر مبنی‘ قرار دیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ گیتا پریس اینڈ دی میکنگ آف ہندو انڈیا‘ کے مصنف اکشے مکل ہندوستان کی موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ عام طور پر امید کا ساتھ نہیں چھوڑتے لیکن ان کےلئے یہ فیصلہ افسوس ناک ہے ۔ ’یہ فیصلہ مسلمانوں کو پوری طرح سے ہار کا احساس دے گا اور آخر وہ کس سہارے، کس بھروسے رہیں گے ۔ ‘اکشے مکل کہتے ہیں کہ ’اس بات سے ایک بات واضح ہو چکی ;242; ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کےلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور بھارت بہت تیزی سے ایسے حالات کی طرف گامزن ہے ۔ مبصرین کے مطابق انڈیا کے مسلمان اس بات پر ذہنی طور پر سمجھوتا کر چکے تھے کہ ایودھیا میں مسجد کو دوبارہ بنانے کی کوئی صورت نہیں ہے اور اگر مندر بننے سے ہندو مسلم تعلقات میں بہتری آ جائے تو شائد بھارت میں مسلمانوں کےلئے یہ راحت کی بات ہوگی ۔ اس ضمن میں بابری مسجد کے مقدمے میں مدعی اقبال انصاری نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اچھا ہوا یہ سب ختم ہوا ۔ ‘لیکن انڈیا کی عوام خصوصاً مسلم اقلیت کو یہ بھی توقع تھی کہ آخرکار یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا، گنہگاروں کو سزا ملے گی اور ایودھیا کے طرز پر دوسری مساجد اور مذہبی مقامات کو توڑنے کے مطالبے نہیں ہونگے ۔ لیکن اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انڈیا میں ایک اہم مثال بن سکتا ہے خاص طور پر یو پی میں متھرا اور واراناسی کی دو اہم مساجد کے لیے ۔ جہاں متھرا میں شاہی عید گاہ مسجد اور کرشن جنم بھومی مندر ایک ساتھ ہیں اور ہندو برادری اس جگہ کو دیوتا کرشن کی جائے پیدائش مانتے ہیں ۔ دوسری طرف واراناسی میں گیان واپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر ۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ اسد ویسی نے اپنی پارٹی کے ٹوءٹر اکاؤنٹ سے بابری مسجد انہدام کیس میں عدالتی فیصلے پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آج آپ لوگوں نے بابری مسجد کے گرائے جانے میں ملوث افراد کو مقدمے سے بری کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ چلو آگے بڑھو، کاشی متھورا پر جو چاہو کرو، ہم تمھیں کلین چٹ دیتے جائیں گے، جہاں تمھاری نام نہاد آستھا کا معاملہ آئے گا ہم اس پر تمہاری مدد کرتے جائیں گے ۔ ‘یاد رہے کہ اس مقدمے کے ملزمان میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے شریک بانی اور سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی، سابق مرکزی وزرا مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت کئی سینئر بھارتی سیاستدان شامل تھے ۔ بابری مسجد کی انہدام سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما ایل کے اڈوانی سمیت دیگر رہنماوں اور ان کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے کارکنان نے ایک رتھ یاترا نکالی تھی ۔ اس یاترا نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سیاسی منظر نامے پر ابھرنے اور تقویت بخشنے میں تو ضرور مدد کی تھی لیکن ساتھ ہی یہ یاترا فسادات کا باعث بنی تھی ۔ ان فسادات میں کم از کم 2000 لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔ اس زمانے میں ہندو اکثریت پسندوں کا نعرہ تھا ;39;ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی (وارانسی) متھرا ابھی باقی ہیں (یعنی یہ تو محض ایک ٹریلر ہے اصلی فلم تو ابھی شروع ہی نہےں ہوئی) ۔ یاد رہے کہ ہندو انتہا پسندوں کا موقف ہے کی انڈیا میں ایسی 2000 سے زیادہ مساجد ہیں جنھیں مندر توڑ کر بنایا گیا ہے ۔ لیکن یہ معاملہ انڈیا کے ماضی کی بحث سے باہر نکل کر آج بھارت کی سیاست کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے ۔ آج کے بحث مباحثوں میں 1947 کا قانون جو کہ مذہبی ڈھانچوں کو اس وقت کے حساب سے بیان کرتا ہے، ثانوی چیز بنتا جا رہا ہے ۔ یہ وہ معاملہ ہے جس کی تب بھارت کے نسبتاً اعتدال پسند حلقوں نے حمایت کی تھی ۔ لیکن ماہرین کے مطابق پھر ایک بھی شخص قصوروار نہ پایا جانا مسلمانوں اور معاشرے کے دوسرے کمزور فرقوں کے مستقبل کےلئے یقیناً ایک تشویش ناک بات ہے ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ آنے والوں دنوں میں انتہا پسند خیالات رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا ۔ اگر بابری مسجد اور اس کے انہدام کے بعد کے واقعات کے حوالے سے بات کریں تو دو افراد، پانچ ہوں یا 200 افراد، اس سے اب کچھ فرق نہیں پڑتابھارتی عدلیہ اور ہندوستانی معاشرے نے دنیا کو ایک ریڈی میڈ ماڈل دے دیا ہے ۔ ‘اگر 30 ستمبر کے فیصلے کی بات کریں تو اس میں 850 سے زیادہ گواہوں کو پیش کیا گیا، سینکڑوں دستاویزات اور تصاویر بھی عدالت کے سامنے رکھی گئیں لیکن اس کے باوجود ایک بھی ملزم کو قصور وار نہیں پایا گیا ۔ بھارتی عدالت نے فیصلے سے پہلے دونوں فریقین کی دلیلوں پر ضرور باریکی سے غور کیا ہوگا ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کی بابری مسجد شہید ہوئی تھی ۔ ماہرین کے مطابق ایسے میں ایک بھی شخص کا قصوروار نہ ٹھہرایا جانا بھارتی مسلمانوں اور معاشرے کے دوسرے کمزور فرقوں کے مستقبل کےلئے ایک تشویشناک بات ہے ۔ اس صورتحال کے اثرات جنوبی ایشیا کو کس طور متاثر کریں گے اس کا صحیح اندازہ آنے ولا وقت ہی بتائے گا ۔