- الإعلانات -

بابری مسجد کی شہادت اور ہندوؤں کے عزائم

بھارت کے شہر ایودھیا میں ساڑھے چار سو سال پرانی مسجد برصغیر میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی پہچان تھی ۔ مگر افسوس! ہندو جنونیوں نے اسے منہدم کر کے مسلمانوں کے خلاف اپنے بغض اور عناد کا کھلم کھلا اظہار کیا ۔ اس مسجد کا وجود، متعصب ہندوؤں کی آنکھ میں کھٹک رہا تھا ۔ ہندوؤں نے 6 دسمبر 1992 میں مسلمانوں کی اس عظیم پہچان کو زمین بوس کر دیا ۔ مسجد کی تعمیر کے کئی سو سال گزرنے کے بعد ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ یہ جگہ دراصل رام کی جنم بھومی تھی اور اس مقام پر ایک مندر تعمیر تھا جسے گرا کر اس مقام پر مسجد تعمیر کر دی گئی ۔ برصغیر کی تقسیم کے کچھ عرصہ بعد 1948 میں ہندوؤں نے اس مسجد میں مورتیاں رکھ دی تھیں اور اس طرح مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے بعد بھارتی انتظامیہ نے اس مسجد میں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روک دیا اور مسجد کے دروازوں پر تالے ڈال دیے ۔ مگر ہندو جنونی اس ہندو نواز فیصلے پر بھی مطمئن نہ تھے اور وہ مسجد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے تھے اور اس کی جگہ مندر تعمیر کرنا چاہتے تھے ۔ بالآخر 6 دسمبر 1992ء کو انہوں نے یہ مسجد شہید کر دی اور اس طرح اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ۔ یہ ساری کاروائی حکومت کی ایما پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمل میں لائی گئی ۔ بھارت کے اس مجرمانہ عمل سے انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اور ہندوؤں کی اس بہیمانہ کاروائی کے نتیجے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی بھی توہین ہوئی اور انصاف کی مقدس قدروں کا خون بھی ۔ لیاقت، نہرو معاہدے کی رو سے دونوں ملک، اقلیتوں کو تحفظ دینے کے پابند ہیں مگر جنونیوں نے اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور یوں بھارتی سیکولر ازم کی اصل ماہیت کھل کر سامنے آگئی ۔ بھارت کی اس ہندو نواز کاروائی نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت میں بسنے والوں کی عافیت اس میں ہے کہ وہ ہندو بن کر رہیں یا پھر ملک چھوڑ جائیں ۔ ایسی سوچ، ہندو ازم کی عدم برداشت اور عدم رواداری کی پالیسی کی مظہر ہے ۔ بھارت کا سیکولر ازم، اصل حقیقت میں ہندو ازم کا دوسرا نام ہے ۔ متعصب ہندو قوم کے نزدیک سیکولر بھارت سے مراد، ہندو بھارت ہے اور جمہوریت کا مطلب بھی صرف اونچی ذات کے ہندوؤں کے حقوق کی پاسداری ہے ۔ ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر کے اپنی پستہ ذہنیت کا ثبوت دیا ۔ بابری مسجد کی شہادت میں ہندو فاشزم نے بدترین انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا ۔ اس بہیمانہ کاروائی نے جمہوریت سیکولرازم اور قانون کی حکمرانی کے تمام دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں بھارتی نیشنلزم کے ماتھے پر ہزاروں افراد کے خون کے ایسے داغ لگ گئے ہیں جو کبھی مٹائے نہیں جا سکتے ۔ بھارت میں اگر مذہبی طور پر مسلمان محفوظ نہیں رہ سکتے تو اجتماعی طور پر دوسری لسانی اور ثقافتی تنظی میں بھی قائم نہیں رہ سکتیں ۔ بھارت میں جمہوری اقدار کا یہ عالم ہے کہ صدیوں سے محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے شودروں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے اور سکھوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے کےلئے ’’انتخابی مہم‘‘ کے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’’ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں کامیابی کے فوری بعدرام مندر کی تعمیر کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچائے گی ۔ رام مندر کی تعمیر ہماری اولین ترجیح ہوگی‘‘ ۔ گذشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور سرتاپا پاکستان دشمنی کا مظہر تھا ۔ اس منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کروائی گئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت اور قیام کےلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پر ہر ممکن کوشش کرے گی نیز یہ کہ خطے میں رام راج کا غلبہ بی جے پی کا خواب ہے ۔ بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ ہونے تک اس سرزمین پر کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوسکتی ۔ مقدمہ کی ہار اور جیت دونوں صورتوں میں مسجد تحویل شدہ اراضی پر ہی بنے گی ۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم ویشواہندو پریشد انٹرنیشنل کے صدر اشوک سنگھل نے بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کےلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی ممکن نہیں تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر ریفرنڈم کرائے ۔ بھارتی انتہا پسند جانتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کو دہشت ذدہ کر کے ان کی آواز بند کر دی گئی ہے اور اب ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں جو انہیں بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے سے روک سکے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقع کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایڈوانی کا اس واقع میں کیا کردار تھا ۔ انہوں نے ہی رتھ یاترا کا اہتمام کیا اور پورے ہندوستان کے ہندوؤں کے جذبات کو بھڑکایا ۔ پھر جب ہندو بابری مسجد شہید کر رہے تھے تو ایڈوانی وہاں موجود تھے بلکہ اس موقع پر انکی تصویریں بھی اخبارات میں چھپی تھیں ۔ انکی بہو نے بھی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی شہادت میں پوری طرح ملوث تھے ۔ اگر ایل کے ایڈوانی رتھ یاترا کا اہتمام نہ کرتے اور ہندوؤں کو اشتعال نہ دلاتے تو بابری مسجد کا وجود برقرار رہتا ۔ اصل بات یہ ہے کہ ایڈوانی سابق حکمران جماعت کے مرکزی لیڈر اور بھارت کے نائب وزیر اعظم تھے بلکہ سابق وزیراعظم واجپائی ان کے مشورے کے بغیرکوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے ۔ گزشتہ برس نومبر میں بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے ۔ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں ۔ تاریخی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی زمین پر نہیں کی گئی تھی ۔ مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے ۔ 1949ء میں بابری مسجد گرانا بت رکھنا غیر قانونی ہے ۔ مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہندووَں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازع ہے جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کےلئے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے ۔ عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔