- الإعلانات -

آر ایس ایس کی نگاہیں دیگربھارتی مساجد پر

اترپردیش کے ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کو 28 برس بیت گئے ہیں ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے بعد اب آر ایس ایس کی نظریں وارانسی میں گیان واپی مسجد کو مسمار کر کے وشوا ناتھ مندر، متھرا میں عید گاہ مسجد کی جگہ کرشن مندر اور بنارس کی عالم گیری مسجد کی جگہ شیو مندر کی تعمیرپر گڑھی ہوئی ہیں ۔ اس مقصد کے لئے آر ایس ایس بار بار بھارتی آئین میں عبادت کے مقام ایکٹ 1991 کے آئینی جواز کو چیلنج کر کے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ اس قانون کے مطابق 15 اگست 1947 کو بھارت میں مذہبی مقامات کی جو صورتحال تھی، اسے بدلا نہیں جا سکتا ۔ اگرچہ رام مندر کی تعمیر کی ضمن میں اس قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔ گذشتہ برس نومبر میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی تھی اور انصاف کا خون کرنے والے بھارتی چیف جسٹس رنجن گگوئی کو انکی خدمات پر ریٹائرمنٹ کے بعد بی جے پی نے اپنے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کا رکن بنا دیا ۔ بابری مسجد شہادت کیس کے تمام مجرموں کو رہا کرنے پر بھی بھارتی مسلمانوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ 28 سال بعد اس کیس کا فیصلہ سناتے یکم اکتوبر کو بھارتی سپریم کورٹ نے ایل کے ایڈوانی، اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی، سوامی چمیا نند سمیت تمام 32 مجرموں کو باعزت بری کر دیا تھا ۔ اس مقدمے میں 49 ملزمان نامزد تھے مگر 17 اس طویل ترین سماعت کے دوران دنیا چھوڑ گئے اور باقیوں کو یہ کہتے ہوئے باعزت بری کر دیا گیا کہ ’’جو کچھ ہوا اچانک ہوا تھا اس لئے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی‘‘ ۔ آر ایس ایس کے رہنماؤں نے اپنی ماہانہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ مکروہ عزم ظاہر کیا کہ بنارس کی عالمگیری مسجد کو مسمار (شہید) کر کے اس کی جگہ 600 کروڑ کی لاگت سے شیو مندر تعمیر کیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ پورے ہندوستان میں 3500 دیگر مسجدوں اور درگاہوں کی فہرست جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جلد ان تمام عبادت گاہوں کو مسمار کر دیا جائے گا ۔ آر ایس ایس نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تو تعمیر کرلیا مگر اس حوالے سے اس کا بیانہ لڑکھڑا چکا ہے ۔ نیپالی وزیراعظم نے متعدد بار دعویٰ کیا کہ اصل ایودھیا نیپال میں ہے ۔ رام بھگوان نیپال کے تھوری میں پیدا ہوئے اور بھارتی ایودھیا پہلے ساکیت نامی شہر تھا ۔ آج کل ہندو انتہا پسند بھارت میں موجود مسجدوں کے درپے ہیں ۔ بھارت کی تاریخی مسجد ٹیلے والی کے سامنے لکشمن کی مورتی نصب کرنے کی تجویز پر تنازعہ ہوگیا ۔ میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے کارپوریٹر رام کشن یادو اور ان کے چیف وہیپ رجنیش گپتا نے مسجد کے سامنے مجسمہ نصب کرنے کی تجویز بلدیہ میں پیش کی تھی جسے منظور کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا ۔ مسجد کے امام مولانا فضل المنان رحمان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ محفوظ ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کی اجازت کے بغیر کسی قسم کی تعمیر یہاں پر نہیں ہو سکتی ۔ مسجد میں جمعہ، عیدین اور دیگر نمازیں ادا کرنے کےلئے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان آتے ہیں ۔ اژدہام کے باعث بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر بھی نماز ادا کرتے ہیں ۔ مجسمہ کے سامنے نماز نہیں پڑھی جا سکتی لہٰذا مجسمہ کےلئے کوئی دوسرا مقام منتخب کر لیں ۔ مولانا کا کہنا ہے کہ پریورتن چوک پر پہلے سے ہی لکشمن کا مجسمہ نصب ہے ۔ اس کے باوجود اگر دوسرا مجسمہ نصب کرنا ہی ہے تو جگہ تبدیل کر لی جائے تاکہ لکھنوَ کے ادب و ثقافت، تہذیب و روایات پر آنچ نہ آئے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات کا وقت آیا تودوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ مسجد کی شہادت میں اس وقت کی حکومت کا بہت بڑا عمل دخل تھا ۔ رپورٹ میں ایل کے ایڈوانی منوہر جوشی اورکاٹھیا کومسجد کی شہادت کے منصوبے میں براہ راست ملوث پایا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق مرلی منوہر جوشی اورایڈوانی نے اپنی نگرانی میں تمام انتظامات کو حتمی شکل دی اورمسجد کی شہادت کے وقت یہ دونوں لیڈر مسجد کے سامنے واقع ’’رام کتھا کنج‘‘ کی عمارت میں موجود تھے جو بابری مسجد سے صرف دوسومیٹر دورتھا اس رپورٹ نے جہاں ہندوءوں کے سکیولر ازم اورلبرل ازم پر سے پردہ اٹھایا وہاں بھارتی لیڈروں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے الزام میں ایل کے ایڈوانی اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن بھارتی ایوان انصاف کوان کے اندرموجود مجرم دکھائی نہیں دے رہا اس لیے وہ اب تک آزاد پھر رہے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی نے دہلی کی تاریخی مساجد پر بھی اپنی میلی نظریں جما لی تھیں ۔ نئی دہلی کی 300 سال پرانی اور تاریخی قدسیہ مسجد پر بی جے پی کے با اثر انتہا پسند ہندو رہنما وجے گوئیل نے عرصے سے میلی نظریں رکھی ہوئی ہے اور مسجد پر قبضہ کرنے اور اسے ہندو مندر کی جگہ قرار دینے کی سازش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے وقتاً فوقتاً مسجد کی طرف آنیوالے مختلف راستے بند کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ نمازی مسجد میں نہ آ سکیں ۔ نامعلوم افراد نے کشمیری گیٹ بس اڈے کی جانب کھلنے والے راستے کو دیوار تعمیر کرکے بند کر دیا جس سے نمازیوں کو دقت اٹھانا پڑی ۔ مسجد کے خطیب اور امام نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والا یہ گیٹ کافی عرصے سے کھلا ہوا تھا اور ان کی غیرموجودگی میں بند کیا گیا ۔ رنگ روڈ کی جانب کھلنے والا راستہ بھی رکاوٹوں کی زد میں ہے ۔ مسجد پر قبضے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ آکر مسجد قدسیہ میں نماز ادا کیا کریں تاکہ شرپسندوں کو احساس ہو کہ مسجد کا پرسان حال صرف امام نہیں نمازی بھی ہیں ۔ قدسیہ مسجد کو مغل بادشاہ محمد شاہ کی تیسری اور لاڈلی بیوی قدسیہ بیگم نے 1748 ء میں شمالی دہلی کے علاقے میں دریائے جمنا کے کنارے قدسیہ باغ کے ساتھ تعمیر کرایا ۔ بھارتی محکومت کی طرف سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس عظیم الشان مسجد کی حالت خاصی خستہ ہو چکی ہے ۔