- الإعلانات -

زرداری پر ہاتھ ڈالا تو۔۔۔۔۔

Asif-Mehmood

میٹر ریڈر سے اپوزیشن لیڈر ی تک آنے والے شاہ جی فرماتے ہیں :’’ زرداری پر ہاتھ ڈالا تو جنگ ہو گی‘‘
کسی بھی طاقتور ادارے کو اس کی آئینی حدود میں رکھنے کے لئے قانون کی عملداری ناگزیر ہے اوریہ وہ بھاری پتھر ہے جسے صرف کردارکی طاقت سے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اب یہ جاننے کے لئے کسی آئن سٹائن کی ضرورت نہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کتنی باکردار ہے۔قانون اور انصاف کی بات چلے تو اسے دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔یہ اس وقت تلملا اٹھتے ہیں جب ان کی دم پر کسی ضابطے یا قانون کا پاؤں آئے۔اور اگر ان کی دم سلامت رہے تو چاہے آسمان ٹوٹ پڑے ان کا راوی چین لکھتا ہے۔بلوچستان جلتا رہا پارلیمان خاموش رہی،ڈرون حملوں پر اس کی قراردادیں پامال ہوتی رہیں اس نے چپ کا روزہ رکھے رکھا،مہنگائی آسمانوں کو چھونے لگی یہ آسودہ رہی،آمر دندناتے ہوئے ملک سے نکل گیا یہ مسکراتی رہی،ملک لہو لہو ہو گیا اس کے آنگن میں شادیانے بجتے رہے،پی اے سی کے شور مچانے کے باوجود رانا بلند اختر ملک سے فرار ہو گیا یہ گونگی بہری بنی رہی لیکن دوہری شہریت کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے ایک حلف نامہ کیا مانگ لیا خداوندانِ سیاست برہم ہوگئے۔ارشاد ہوا ’’ پارلیمنٹ عدلیہ یا الیکشن کمیشن کی لونڈی نہیں‘‘۔استحقاقی مخلوق نے بجا ارشاد فرمایا ،پارلیمنٹ واقعی عدلیہ یا الیکشن کمیشن کی لونڈی نہیں،لیکن انہیں صرف مطلع پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے تھا کہ مطلع کے ساتھ مقطع بہت ضروری ہوتا ہے۔اس کے بغیر غزل مکمل نہیں ہو تی۔اور مقطع یہ ہے کہ پارلیمنٹ صرف اس کی لونڈی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں اسے دینے کے لئے ڈیڑھ فٹ کی چھڑی اور پاؤں میں دو تین کلو کے بوٹ ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ قائدین ملت اس وقت بھی بے مزہ نہیں ہوتے جب ایک آمر تہران میں کھڑے ہو اپنی ڈیڑھ فٹ کی چھڑی ہلا کر کہتا ہے’’ سیاست دانوں کی کیا اوقات ہے،جب چاہوں اشارہ کروں یہ دم ہلاتے آ جائیں گے‘‘۔وقت بدل گیا مگر سیاست دانوں کی چھڑی اور بوٹ کے آ گے اب بھی وہی اوقات ہے،اب تو اشارہ ہو نہ ہو ،ابھی ماضی قریب کی بات ہے یار لوگ اصولی سیاست کی چادر اوڑھ کر راتوں کو حاضر ی لگوا آتے ہیں اور گنگناتے ہوئے واپس آ تے ہیں کہ’’ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا ہے‘‘۔

بلاول بھٹو،میراث میں آئی ہے جنہیں مسندِ ارشاد،بیرون ملک کھڑے ہو کر اپنی سپریم کورٹ پر برس پڑے،کہا گیا سپریم کورٹ نے حدود سے تجاوز کیا ہے،ایک صاحب نے تجویز دی سپریم دوہری شہریت کا معاملہ پارلیمنٹ کے پاس بھیج دے۔حیرت ہوتی ہے کہ سپریم کورٹ سے وہ کام کرنے کا کہا جا رہا ہے جس کا بادی النظر میں اس کے پاس اختیار ہی نہیں۔عدلیہ پارلیمنٹ کے پاس کوئی معاملہ تو تب بھیجے جب اس میں کوئی ابہام ہو۔یہاں تو آئینِ پاکستان میں صاف لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کر لے تو وہ پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے۔اہلِ سیاست کو اگر اس فیصلے پر اعتراض ہے اور وہ کچھ خاص لوگوں کو ان کی کچھ خاص ہم نصابی سر گرمیوں کی بنیاد پرپارلیمنٹ میں رکھنا چاہتے ہیں تو وہ آئین میں ترمیم کر لیں۔جب تک ایک چیز آئین میں موجود ہو گی عدالت تو اس کے مطابق فیصلہ دینے کی پابند ہے۔بلاول زرداری کو بھٹو بنے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں انہیں 1973کے اس آئین کی کاپی اٹھا کر دیکھ لینا چاہیے جو بھٹو صاحب نے قوم کو دیا تھا۔اس میں بھی یہی بات لکھی ہے کہ کوئی فرد اگر کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیا ر کر لے تو وہ رکن قومی اسمبلی بننے کا اہل نہیں رہے گا۔تو کیا اب یہ سمجھا جائے کہ بلاول’ بھٹو‘زرداری کا سیاسی ویژن ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ تھا؟

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میاں مٹھا یاد آ گئے،ان ہی گرمیوں کی ایک شام وہ میرے پاس تشریف لائے ،اچانک کہنے لگے’میں سیاست چھوڑنا چاہتا ہوں‘۔میں نے وجہ پو چھی تو کہنے لگے’یہ زرداریوں کی پارٹی بن گئی ہے یہ اب بھٹو والی پارٹی نہیں رہی‘۔ابھی کوئٹہ سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ناصر علی شاہ تھوڑی دیر پہلے بتا رہے تھے حکم صرف’ شہنشاہ‘کا چلتا ہے، بے چارے وزیر اعظم کی تو اوقات تو ایک مہرے جتنی بھی نہیں۔ایک مہرہ ابھی پٹ کر ملتان پہنچا ہے تو اس کو سمجھ آئی ہے اسے کب کب کہاں کہاں اور کیسے کیسے ’شہنشاہ‘ نے ایک ٹشو کی طرح استعمال کیا اور آخر میں اپنے محل میں جانوروں کے باڑے کے پاس پھینک دیا۔ٹشو پیپر کو اب پتا چل رہا ہے کہ پارلیمنٹ بے اختیار ہے۔جب ٹشو پیپر ایم بی بی ایس تھا یعنی ’میاں بیوی بچوں سمیت‘ تھا تب اسے معلوم نہ ہو سکا کہ پارلیمنٹ کی اوقات کیا ہے۔بات وہی ہے جب تک اپنی دم سلامت تب تک ’ستے خیراں‘۔دم ہی پر پاؤں پڑنے کے خطرات کو بھانپ کر ایم بی بی ایس نے پارلیمنٹ میں کہا تھا،عدلیہ ہماری جان کو آ گئی ہے ،ہمیں اکٹھا ہونا ہو گا ۔مصیبت میں تو کوے میں بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ہو سکتے؟۔۔اب کے ارشاد ہوا ہے زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا تو کھلی جنگ ہو گی۔۔۔۔صدقے شاہ جی میٹر والے کے۔