- الإعلانات -

مولانا ،ایک طرف نیب ایک طرف پارٹی بغاوت

گیارہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی باگ ڈور سنبھالنے والے مولانا فضل الرحمن ایک جانب کافی عرصہ سے نیب کے ریڈار پر ہیں ،دوسری طرف انہیں پارٹی کے سینئررہنماؤں نے بھی سینگوں پر رکھ لیا ہے ۔ حافظ حسین کے بعدایک اوربزرگ اور سینئر ترین رہنما مولانا شیرانی نے انہیں سلیکٹڈ قرار دے کر مولانا کے سارے بیانیہ کی ناس مار دی ہے ۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اب انہیں اپنی پارٹی کی سربراہی کے لالے پڑ گئے ہیں کیونکہ پارٹی کی اندرونی بغاوت بڑی خطرناک ہوتی ہے اور مولانا شیرانی نے خوفناک اشارے دیئے ہیں ۔ جہاں تک نیب کیسز کا تعلق ہے تو چند ماہ قبل مولانا فضل الرحمن کے بھائی کو نوٹس جاری ہوئے تو مولانا کا پارہ بلند ہونے لگا اور ہزیانی کیفیت سے دو چار ہوتے محسوس ہوئے تھے ۔ اگرچہ آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں انکے بھائی کو طلب کیا گیا تھا لیکن ان کا پارہ کیوں جامے سے باہر ہونے لگا، تجزیہ نگار اس کی وجہ نیب کے اس خطرے کو قرار دے رہے تھے جو ماہ ستمبر میں پھر براہ راست مولانا فضل الرحمن کی جانب بڑھ گیا ۔ اگست میں نیب خیبر پختونخوا نے مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمن کو طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے غیر قانونی اثاثے رکھنے سمیت متعدد الزامات پر پوچھ گچھ کےلئے 25 اگست کو تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی ۔ نوٹس میں کہا گیا کہ انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ ضیا الرحمن کے خلاف ثبوت موجود ہیں جو مذکورہ جرم کے ارتکاب سے متعلق ہیں ۔ ان نوٹس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے دن رات ایک کر کے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی ڈھال بنوا ڈالی جو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی بھی ضرورت تھی ۔ چنانچہ ناقدین اور تجزیہ نگاروں کاماننا ہے کہ پی ڈی ایم کی اصل وجہَ تخلیق نیب کیس ہی ہیں ، باقی بیانیہ تو محض کارکنوں کا لہوگرم رکھنے کےلئے ہے ۔ اپوزیشن اتحاد کے بعد نیب کو ڈرانے دھمکانے کی بہت کوشش کی گئی لیکن سب کوششیں لاحاصل جا رہی ہیں ۔ نیب جس ڈگر پر چل رہا تھا اسی پہ بلا خوف چلے جا رہا ہے ۔ مولانا کی دھمکیوں کے باوجود گزشتہ ہفتے بھی نیب خیبر پختونخوا نے مولانا کے دو فرنٹ مینوں کے وارنٹ کیلئے چیئرمین کو خط لکھا ہے، جس میں مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کی وجوہات بھی درج ہیں ۔ خط میں کہاگیا ہے کہ گل اصغر ولد نمر خان اور نور اصغر ولد گل اصغر مولانا کے فرنٹ مین کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں ۔ ڈی ;200;ئی خان میں 7ہزار کینال زمین گل اصغر کے نام پر ہے ، جبکہ 2ہزار کینال نوراصغر کے نام پر ہے ۔ دونوں کو دو دو مرتبہ طلبی کے نوٹس بھجے گئے مگر وہ پیش نہیں ہوئے ۔ اب تازہ کارروائی میں نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں خود مولانا فضل الرحمان کودوسرا نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 دسمبر تک اثاثوں کا مکمل ریکارڈ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔ اس نوٹس پر ہونا تو یہ چاہئے کہ قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے ادارے کے الزامات کو غلط ثابت کیا جائے لیکن ہمارے ہاں جو روایتی ہتھکنڈہ ڈرانے دھمکانے کا ہے اسے اختیار کرتے ہوئے نیب کے سوالنامہ بھیجنے کے معاملے پر مولانا کے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ نیب دھمکیاں کسی اور کو دے ۔ نیب کا کوئی نوٹس یا سوالنامہ نہیں ملا ہے،کوئی نوٹس آیا تو اس کی ردی کے سوا کوئی اہمیت نہیں ہو گی ۔ نیب انتقامی کارروائیوں کےلئے بنایا جانے والا ایک نا اہل ادارہ ہے، جو ہمارے قریبی رفقا کے خلاف بھی طویل عرصے سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔

اب دیکھنا یہ کہ ان دھمکیوں سے انہیں کچھ حاصل ہوتا ہے یا نہیں تاہم دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کو جماعت کے اندر سے قریبی ساتھیوں نے جس طرح آن لیا ہے وہ ان کےلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ کوءٹہ جلسے کے بعد حافظ حسین احمد نے مولانا کی رہبری سے براَت لیتے ہوئے پارٹی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا تو آج انکے سینئر پارٹی لیڈر مولانا شیرانی نے انہیں خود سلیکٹڈ کی بھپتی کس کر پارٹی میں نئی دراڑ ڈال دی ہے ۔ حافظ حسین احمد کہتے ہیں کہ مولاناشیرانی،گل نصیب اور دیگر رہنما جمعیت کی نئی پالیسی سے تنگ ہیں ، جے یو آئی موروثی جماعت بن چکی ہے، بطور جمعیت کے رکن میرے فارم پر تو خود مولانا مفتی محمود نے دستخط کیے تھے،آج پرانے رہنماؤں کو برداشت نہیں کیا جارہا ۔ مولانا فضل الرحمان سے پہلے جمعیت میں آیا تھا، میں 1973 میں جمعیت میں آیا اور فضل الرحمان 1980 میں رکن بنے تھے ۔ اسی طرح گزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین اورسینئر رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے ایک اور الزام بھی لگایاکہ مولانا فضل الرحمان سے ہمیشہ جھوٹ بولنے کے معاملے پر اختلاف رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا کیونکہ وہ جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پی ڈی ایم تحریک ذاتی مفادات کیلئے قائم ہوئی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کیلئے فضل الرحمان جلسے جلوس کررہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ فضل الرحمن خود سلیکٹڈ ہیں کسی کو طعنہ کیسے دے سکتے ہیں ، حافظ حسین احمد ہمارا پرانا اور عقلمند ساتھی ہے،ہم سب کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان اگلے پانچ سال بھی پورے کرینگے ۔ میرا ماننا ہے کہ یہ پارٹی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ، اگر کوئی ایسا سوچ رہاہے تو یہ اسکی خام خیالی ہے ۔ میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے بلوچستان کے تمام اضلاع میں پارٹی کے دفاتر قائم کرونگا، حافظ حسین احمد ہمارا پرانا، عقلمند اور سمجھدار ساتھی ہے ، ہم سب کےساتھ رابطے میں ہیں ۔ یہ سارے معاملات اب مولانا فضل الرحمن کےلئے درد سر بننے جا رہے ہیں ۔ دونوں باغی رہنماؤں نے مولانا کی قیادت پر اعتراض اور پالیسی کا ڈھول بجایا دیا ہے ۔ تجزیہ نگار امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے قبل جمعیت ٹوٹ پھوٹ سکتی ہے ، اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ بلوچستان سے نئی جمعیت کھڑی کر دی جائے،جس کی سربراہی حافظ حسین احمد کے پاس ہو،اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر مولانا فضل الرحمن کی جمعیت ڈیرہ گروپ بن جائے گی ۔