- الإعلانات -

بے لگام سوشل میڈیا کو لگام ڈالنا ضروری ہے

پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی نے انٹرنیٹ کی معروف ترین کمپنیوں گوگل اور وکی پیڈیا کو پیغمبر اسلام کے خاکوں اور غیر مستند قر;200;ن کے پھیلاو کے حوالے سے نوٹس جاری کیے ہیں ۔ پی ٹی اے نے گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی مواد کو فی الفور ہٹائے ۔ پی ٹی اے کی جانب سے ایسے ویب پیجز کے نام فراہم کئے گئے ہیں جہاں مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے متصادم معلومات اپ لوڈ ہیں ۔ ساتھ ہی گوگل پلے اسٹور سے قر;200;ن کے غیر مستند نسخے کو ہٹانے کےلئے بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ پی ٹی اے کی جانب سے یہ بہت بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائے ۔ سوشل میڈیا جس طرح ہمارے معمولات زندگی میں دخیل ہوا ہے، اس سے مکمل جان نہیں چھڑائی جا سکتی ۔ تاہم اب ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی ساکھ تنزلی کا شکار ہو رہی ہے اور سنجیدہ حلقوں کا اس سے اعتماد اٹھتا جا رہا ۔ یو ٹیوب، فیس بک، ٹوءٹر وغیرہ سوشل میڈیا کے ایسے طاقتور پلیٹ فارم ہیں جہاں حقیقت سے لےکر مبالغہ، الزام اور دشنام تک سب چلتا ہے کیونکہ اس کےلئے نہ تو دانشور ہونا ضروری ہے اور نہ ہی تجزیہ کار ہونا لازمی ہے ۔ پھر خبر جتنی سنسنی خیز اور مصالحے دار ہوتی ہے اتنی ہی تیزی سے پھیلتی ہے ۔ یوں نہ ہینگ لگتی ہے نہ نوشادر رنگ بھی چوکھا چڑھ جاتا ہے ۔ جعلی خبروں یعنی فیک نیوز کے بارے میں ہونےوالی ایک تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی خبریں بہت تیزی سے اور بہت دور تک پھیلتی ہیں ۔ اس حد تک کہ درست خبریں بھی ان کے سامنے دم توڑ جاتی ہیں ۔ پچھلے دس برسوں میں 30 لاکھ افراد کی سوا لاکھ سے زیادہ ٹویٹس پر تحقیق کے بعد محققین کے سامنے یہ نکتہ واضح ہوا کہ جعلی خبریں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں ۔ تحقیق کرنے والوں کا ماننا ہے کہ ہماری ریسرچ میں یہ واضح ہوا ہے کہ یہ انسانی مزاج کی کمزوری ہے کہ وہ ایسا مواد پھیلائے ، مطلب یہ ہے کہ افواہیں پھیلانا یا ان پر یقین کر لینا انسانی مزاج کا حصہ ہے اور سوشل میڈیا انھیں ایک ;200;سان ذریعہ مل گیا ہے ۔ محققین کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی خبروں کے بازار میں ایک نئے نظام کی ضرورت ہے ۔ جس سے جھوٹ کے بجائے سچ کو بڑھاوا مل سکے ۔ بد قسمتی سے ایسا سسٹم لانے میں دنیا کو ناکامی کا سامنا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ شتر بے مہار ;200;زادی ہی اس میڈیا کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ اظہار رائے کی ;200;زادی کے خوبصورت لولی پاپ کی وجہ سے ایسے سیاسی سماجی اور مذہبی مسائل کھڑے ہو گئے ہیں کہ جن کا تدارک ناممکن ہوتا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر میں اس میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ سوشل میڈیا کی بڑھتی تباہ کاریوں کی روک تھام کےلئے شدید مزاحمت کے باوجود پاکستان بھی مستعدی کے ساتھ اقدام اٹھا رہا ہے ۔ شعور اور تعلیم کی کمی کے پیش نظر سخت قواعد و ضوابط وقت کا تقاضہ ہے ۔ حکومت نے رواں سال کے ;200;غاز میں سوشل میڈیا کےلئے نئے رولز کی منظوری دے دی تھی ۔ نئے رولز کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قابل اعتراض مواد پر کارروائی کا اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پرتوہین مذہب، مذہبی منافرت، پاکستان کے وقار، سلامتی، دفاع، قانون نافذ کرنیوالے اداروں ،سیاستدانوں ، نظریاتی اساس اور ثقافتی اقدار کے خلاف مواد بلاک کرنے کیلئے متعلقہ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے ۔ ان نئے قواعد کے تحت یوٹیوب، فیس بک، ٹویٹر، ٹک ٹاک، گوگل پلس سمیت سوشل میڈیا یا کسی بھی ویب ساءٹ پر ہتک آمیز، گستاخانہ مواد، نازیبا تصویر شاءع کرنے پر پی ٹی اے کو شکایت درج کرائی جاسکتی ہے ۔ اتھارٹی کی جانب سے شکایت کنندہ کی حفاظت کے پیش نظر اس کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھتا جاتا ہے ۔ پی ٹی اے نے گوگل اور وکی پیڈیا کو گستاخانہ مواد پھیلانے کے معاملے پر جو نوٹس جاری کیا وہ غیر قانونی ;200;ن لائن مواد کو ہٹانے اور بلاک کرنے کے نئے قواعد 2020 کے تحت جاری کیے گئے ہیں ۔ پی ٹی اے کے مطابق پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی موجودگی اور وکی پیڈیا پر شاءع کردہ مضامین کے ذریعے گمراہ کن، غلط، فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی معلومات سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ مذکورہ پلیٹ فارمز کی جانب سے عدم تعمیل کی صورت میں پی ٹی اے پریوینشن ;200;ف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016(پی ای سی اے)اور قواعد 2020 کے تحت مزید کارروائی کر سکتا ہے ۔ یہ ضرورت اس لئے بھی پیش ;200;ئی کہ گزشتہ دنوں یہ معاملہ ایک سینٹ قرارداد میں بھی اٹھایا گیا تھا ۔ قرارداد میں سینیٹ آف پاکستان کی طرف سے اسلاموفوبیا کے تسلسل اور مسلمانانِ عالم کو گمراہ کرنے کی مذموم سازشوں پر مبنی مذکورہ واقعات کی جانب وفاقی حکومت کو متوجہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ گوگل، وکی پیڈیا اور دیگر ذراءع پر موجود اسلام مخالف اور اسلام دشمن مواد کو فی الفور ختم کروانے کےلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرے ۔ سینٹ میں قومی نمائندوں کی حساس مذہبی معاملات پر تشویش میں وزن ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں بہت ہی گمراہ کن معلومات کو پھیلایا گیا ۔ یقینا ایسا منظم سازش کے تحت کیا جاتا ہے ۔ یہاں تشویش کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ جب بھی سوشل میڈیا کے متعلق ضابطے بنانے کی تجویز سامنے ;200;تی ہے تو اظہار رائے کی ;200;زادی کا گلا گھونٹے کا شور مچ جاتا ہے ۔ رواں سال جب نئے قواعد منظور ہوئے تو انہیں عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ۔ یہ معاملہ اب زیر سماعت ہے لیکن ہ میں توقع ہے ہماری قابل احترام عدلیہ وسیع تر ملکی مفاد ، تحفظ شعار اسلام اور نئی نسل کو گمراہی کی دلدل سے بچانے کے حق میں فیصلہ صادر کریگی ۔ دوسری طرف اگر سوشل میڈیا مقدس ہستیوں کی توہین کو نہیں روک سکتا تو پھر پاکستان میں ایسے میڈیا کی ضرورت نہیں ہے ۔ اظہار رائے کی ;200;زادی کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ;200;پ جو کچھ جس طرح چاہتے ہیں اسے کہنے کےلئے ;200;پ ;200;زاد ہیں ،;200;پ کو یہ حق بالکل حاصل نہیں کہ ٹیکنالوجی کے پیچھے چھپ کر ;200;پ وار کرتے رہیں اور کوئی ;200;پ سے پوچھے بھی نہیں ، ایسا تو صرف جنگلوں میں ہوتا ہے ۔ پاکستان جنگل نہیں مہذب عالمی معاشروں کا فعال رکن ہے ۔ ہ میں جن یورپی اور مغربی معاشروں کی تقلید کا درس دیا جاتا ہے اب وہاں بھی سخت قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔ یورپی یونین نے چند دن قبل فیس بک، گوگل، ایمیزون اور ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کےلئے سخت قوانین کا مسودہ جاری کیا ہے ۔ یورپی یونین کے مطابق ان بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں کو قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کا سامنا ہوگا، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی شہریوں کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے اور قوانین کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزیوں پر یورپی یونین میں عارضی پابندی لگ سکتی ہے ۔ اب ڈیجیٹل سروس ایکٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ سے یورپی یونین کے 27 ممالک میں انٹرنیٹ کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ گمراہ کن مواد اور نفرت انگیز تقاریر کو روکیں ۔ ان سخت پابندیوں کو فیس بک کی طرف سے ویلکم کیا گیا ہے ،فیس بک کے ایک ترجمان نے نئے مسودہ قانون کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ مجوزہ قوانین انٹرنیٹ کی اچھائی کو برقرار رکھنے کےلئے درست راستے کی نشاندہی کرتے ہیں ، اس حوالے سے کمپنی یورپی قانون سازوں سے رابطے میں رہے گی، لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جب یہ ضابطے مسلمان ممالک کی طرف سے لاگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر جمہوریت اور اظہار رائے کی ;200;زادی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ اس سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یعنی متعلقہ کمپنیوں سے زیادہ ان لے پالک مینڈکوں کی طرح ٹرٹرانے لگتے ہیں ۔ روایتی ذراءع ابلاغ کی طرح سوشل میڈیا کےلئے قاعدے قوانین کا ہونا بیحد ضروری ہیں ، ورنہ اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا گیا تو پھر جہاں اس کی اہمیت کم ہوتی چلی جائے گی وہاں نسل نوع محفوظ رہے گی نہ ادیان عالم ۔ پاکستان میں روایتی میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلز پر صحافتی اخلاقیات کی پابندی کے اچھے نتاءج بر;200;مد ہو رہے ہیں ، اس لئے سوشل میڈیا کے سمندر کو کسی ضابطہ اخلاق کے کوزے میں بند کرنا ناممکن نہیں ہے ۔