- الإعلانات -

2020ء :کشمیریوں پر کیا کیا قیامتیں ڈھا گیا

بدھ کی شام پاکستان کےخلاف جاری بھارتی پروپیگنڈہ بالخصوص بھارتی میڈیا کی جانب سے جاری ہائبرڈ وارفئیر کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا جسکی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی ۔ اجلاس میں اہم وزرا ء نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں پاکستان کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈے کا جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئے گئے غیر قانونی بھارتی اقدامات، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ، ہندو فاشسٹ ایجنڈے اور اس کے نتیجے میں علاقائی امن و امان کو درپیش خطرات سے توجہ ہٹانے کےلئے بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتا ہے جس کا مقصد عالمی برادری کی کشمیر سے توجہ ہٹانا ہے ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈہ کو ناکام بنانے اور اس حوالے سے عوام میں بہتر شعور اجاگر کرنے کے سلسلے میں بھرپور اقداماتکئے جائیں ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس مہم کا مقابلہ حقائق سے کیا جائے تاکہ عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ سامنے لایا جا سکے ۔ بلاشبہ بھارت پاکستان کے خلاف غیر روایتی جنگ کا باقائدہ آغاز کر چکا ہے،جس پر وہ بھاری سرمایہ خرچ کر رہا

ہے ۔ یورپین ڈس انفو لیب کے انکشافات اسکا ثبوت ہیں کہ کس طرح وہ جعلی این جی اوز، جعلی ویب ساءٹس اور سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے ہائبرڈ وار چلا رہا ہے ۔ اس جعل سازی سے جہاں پاکستان کے حقائق کو انکاونٹر کیا جاتا ہے وہاں کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے ۔ کشمیر میں کشمیریوں کےخلاف جو ریاستی سطح پر دہشت گردی ہو رہی ہے اس جانب عالمی برادری اگر پوری طرح متوجہ نہیں ہو رہی تو اس کی بنیادی وجہ بھارتی میڈیا مہم ہے ۔ جبکہ ہمارا قومی میڈیا معاملے کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔ کتنے ایسے حقائق ہیں جو کشمیر کے حوالے سے سامنے ;200;تے ہیں مگر قومی میڈیا نظر انداز کر دیتا ہے ۔ نیا سال شروع ہو چکا ہے اور گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر کیا گزری اس کا جائزہ لوکل میڈیا پر کہیں نظر نہیں آیا ۔ مثلاً2020 میں ہندوستانی قابض

افواج کی جانب سے124مسلح تصادم، 312کارڈن اینڈ سرچ آپریشن میں 474 شہید، 657 رہائش گاہیں تباہ کی گئیں ۔ شہید ہونے والوں میں 65شہری اور232 حریت پسند شامل ہیں ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں لیگل فورم فار اپرسڈ وائسز ;200;ف کشمیر (ایل ایف او وی کے) کی تیار کردہ تازہ سالانہ رپورٹ میں سال بھر ہونے والے مظالم کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس جائزہ میں یکم جنوری سے30دسمبر 2020کے عرصہ کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ سال 2020 میں بھارت نے رہائش گاہوں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر، صحافیوں اور سول سوساءٹی کی تنظیموں کے دفاتر پر دن دیہاڑے چھاپے مارے اور حملے کیے ۔ 1 جنوری سے لے کر 30دسمبر 2020 تک بھارتی قابض افواج نے نام نہاد312 کارڈن اینڈ سرچ ;200;پریشنز اور کارڈن اینڈ ڈسٹرائے ;200;پریشنز کا ;200;غاز کیا جس کے نتیجے میں 124مقابلے ہوئے جن میں 232 حریت پسند بھارتی قابض فوج سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔ کووڈ زدہ سال میں مقابلوں کے دوران شہری املاک کی تباہی میں اضافہ دیکھا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضلع بڈگام کے ایک پورے گاؤں کو تہس نہس کر دیا گیا جس میں بہت سے خاندان بے گھر ہوئے ۔ بھارتی پیشہ ور فورسز کے ذریعہ 2773 افراد کو حراست میں لیا گیا اور انہیں ہندوستان بھر کی مختلف جیلوں میں بند کیا گیا ۔ یہ سب کارروائی اس حقیقت کے باوجود ہوئی کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کورونا کے لاک ڈاوَن کے دوران متنازع علاقوں میں عالمی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا ۔ لیکن بھارت نے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور یو این کے سب سے بڑے رہنما کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنگی جرائم کے ارتکاب اور عالمی پالیسیوں کیخلاف ورزی کو جاری رکھا ۔ گزشتہ برس کشمیریوں اور بین الاقوامی میڈیا کےلئے کام کرنے والے صحافیوں کو بھارتی حکام کی طرف سے دباوَ دھمکیاں اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ متعدد صحافیوں پر مقدمات درج کیے گئے کئی صحافی اب سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔ اس سال انسانی حقوق پر بدترین حملہ ہوا جب بھارت نے اپنی ایجنسیوں کو کشمیر بھیج کر صحافیوں ،انسانی حقوق کارکنان اور سول سوساءٹی تنظیموں کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر چھاپے مروائے ۔ نومبر کے ;200;غاز میں بھارت کی انسداد دہشت گردی کی نام نہاد تنظیم این ;200;ئی اے نے خرم پرویز، پرویز بخاری و دیگر کی رہائش گاہوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دفاتر پر چھاپہ مارا ۔ بھارتی مقبوضہ افواج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں جس بے رحمی اور بے دلی سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی تذلیل ہوئی اسکی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی ۔ 2020ء میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی پرپابندی کے تسلسل کا مشاہدہ کیا گیاجو5 اگست 2019 سے نافذ ہے ۔ اس دوران 141انٹرنیٹ بلاک آوَٹ دیکھے گئے ۔ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کورونا وائرس کی وجہ سے ڈاکٹروں اورآن لائن تعلیم کےلئے طلباء کو انٹرنیٹ کی فراہمی بہت ضروری تھی ۔ ایسی رپورٹس کو میڈیا کے ذریعے عام کرنا ضروری ہے ۔ ہائبرڈ وار کو پروفیشنل آرمی نہیں لڑ سکتی اسکے لئے میڈیا ذراءع کو استعمال میں لا کر ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔