- الإعلانات -

آئرن لیڈی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف ایک موثر آواز دخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ انداربی بھارت کی تہاڑ جیل میں ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ شدید بیمار ہیں ۔ آسیہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی سخت حامی رہی ہیں ۔ اسی پاداش میں ان کی زندگی کا بیشتر حصہ بھارتی جیلوں میں گزرا ہے ۔ ان کی تنظیم دختران ِملت کشمیر جسکی بنیاد انہوں نے 1980 میں رکھی ، بھارت سے علیحدگی کے لیے کام کرنےوالی آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہے ۔ ان کے حامی انہیں آئرن لیڈی کہتے ہیں ، 1960 میں پیدا ہوئیں ، ایک ایلیٹ کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اورا علیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ دختران ملت نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو سیاسی طور پر باشعور کرنے کےلئے اہم کردار ادا کیا ۔ 1992سے اب تک وہ کئی بار جیل جا چکی ہیں ۔ آسیہ کے شوہر ڈاکٹر عاشق حسین فکتو کو بھی قید ہوئے27 برس ہو گئے ہیں ۔ خود آسیہ اندرابی ان دنوں 2016 سے قید ہیں ، انہیں مودی حکومت نے پاکستان کا پرچم لہرانے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کر رکھا ہے ۔ پاکستان کے یوم آزادی پر انہوں نے ایک تقریب میں پاکستانی پرچم لہرایا تھا ، پھر 12 ستمبر 2015کو ایک گائے ذبح کر کے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا تھا ۔ نو لاکھ افواج کے قبضے والے کشمیر کی سر زمین پر ایسے باغیانہ اقدامات یقینی طور مودی حکومت کے سینے پہ مونگ دلنے کے مترادف تھے ۔ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ اس تنظیم کا پہلا تنازع 1987 مارچ میں ہوا تھا جب انہوں نے عریانیت اور عورت کے استحصال کے خلاف ایک مظاہرہ کیا ۔ اس مظاہرے میں انہوں نے بسوں اور ویگنوں میں خواتین کی علیحدہ نشستوں کا مطالبہ کیا تھا ۔ مظاہرے کے بعد دختران ملت کے تمام دفاتر سیل کر کے حکومتی تحویل میں لے لیے گئے ۔ 1990 میں بھارتی قبضے کےخلاف جب جہاد کشمیر کا آغاز ہوا تو دختران ملت پہلی تنظیم تھی جس نے ڈنکے کی چوٹ پر اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا ۔ آسیہ اندرابی کی داستان حریت کا ہر لفظ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے ۔ تہاڑ جیل کی صعوبتیں سہتے سہتے اب ان کی سانسیں اکھڑنے لگی ہیں اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ یہ افسوسناک خبر ملک بھر میں دکھی دل کے ساتھ سنی گئی کہ انہیں سانس لینے میں دقت پیش ;200; رہی ہے ۔ پاکستان نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ انہیں کشمیر پر خاموشی توڑنا ہوگی،انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارتی ظلم و ستم پر آواز اٹھانی چاہئے ۔

مودی کی فاشسٹ حکومت نے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2018 میں انہیں سری نگر سے تہاڑ جیل منتقل کر دیا تھا جہاں ان کی صحت اب بگڑ گئی ہے ۔ چوتھے جینوا کنونشن کی شق 49 قابض حکومت کو حراست میں لئے گئے کسی فرد یا گروہ کو مقبوضہ علاقے سے باہر کسی اور علاقے میں منتقلی کی اجازت نہیں دیتی ۔ مگر مودی حکومت نے انہیں سری نگر جیل سے نکال کر بھارت منتقل کر دیا ۔ کشمیری خواتین پر ہونےوالے ظلم و ستم کی مثال نہیں ملتی، سید علی گیلانی، شبیر شاہ سمیت دیگرکئی کشمیری رہنما جیلوں میں بند ہیں ۔ مودی سرکار مسلسل انسانی حقوق اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے اور ان کے حقوق کی پامالی کے دائرے کو وسعت دے رہی ہے ۔ جینوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے ڈاکٹر فکتو ،;200;سیہ اندرابی ، سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، اشرف سحرانی، ڈاکٹر فیاض، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، مسرت عالم بھٹ اور کئی دیگر کشمیری اسیر رہنماوں کو بھارت کی مختلف جیلوں خصوصا ًبدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے ۔ اس پر ڈاکٹر شیریں مزاریں کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی حراست روم سٹیچیوٹ آف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی دفعہ 82(2;66;، ;86737373;)اور چوتھے جینوا کنونشن کے ;200;رٹیکل 143کے تحت ایک جنگی جرم ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت چوتھے جینوا کنونشن کے ;200;رٹیکل 76کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہو رہا ہے جو انٹرنیشنل کمیٹی ;200;ف ریڈ کراس کے نمائندوں کو قیدیوں سے ملاقات کا حق دیتا ہے ۔ ان کے مطابق یہی ;200;رٹیکل 76 حکم دیتا ہے کہ خواتین قیدیوں کو الگ جگہوں پر قید کیا جائے اور خواتین عملہ براہ راست ان کی دیکھ بھال کرے ۔ وزیر انسانی حقوق نے نشاندہی کی کہ یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے نومبر 2012 کے ایک فیصلے میں ’’ مرنے تک‘‘ کو عمر قید کی تعریف قرار دیا ہے جسے بھارتی حکومت آسیہ اندرابی کو تاعمر زندان میں ڈالنے کیلئے ایک نظیر کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ وزیر انسانی حقوق نے اقوام متحدہ، اس کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور انسانی حقوق کونسل، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن راءٹس واچ کے ساتھ انٹرنیشنل پارلیمنٹری وویمن کاکس سمیت خواتین کی تنظیموں سے معاملے پر اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے ۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہ میں خواتین کے خلاف ظلم و ستم پرآواز بلند کرنی چاہئے، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر دبا ڈالے ۔ بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق اور عالمی انسانی قوانین خصوصاً تحفظ کی ذمہ داری کے اصول (;82;2;80;) جس کی 2005کی عالمی سمٹ کے دوران اقوام متحدہ کی تمام رکن ریاستوں نے توثیق کی ۔ آسیہ اندرابی کی واحد تنظیم ہے جوکشمیر میں خواتین کو حق خودارادیت کے پلیٹ فارم پر لائی، اس تنظیم کو اگر ختم کیا گیا تو یہ تمام خواتین پر حملہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کے 18خصوصی نمائندوں کو خط لکھے ۔ برطانیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کو لازم قراردے رکھاہے،لہٰذا بھارت کے خلاف انہیں ایکشن لینا چاہئے ۔ یورپی یونین کی فارن پالیسی میں بھی یہی رول ہے، مقبوضہ علاقے میں جہاں خاص طور پر عالمی قوانین ہیں ، وہاں ایکشن ہونا چاہئے ۔ کشمیری رہنماؤں کو اپنے سیاسی نظریات کی بنیاد پر قید اور تشدد اور غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد آر ایس ایس،بی جے پی حکومت کی انتہا پسندانہ ذہنیت کی حقیقی عکاس ہے جس کو کشمیری عوام کے انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں ۔ آسیہ اندرابی جنہیں 18 جنوری کو تا عمر قید کی سزا سنائے جانے کا خطرہ ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن کے عدالتی قتل کو روکے اور بھارت کو مجبور کریں کہ وہ ان کے خلاف تمام من گھڑت الزامات کو واپس لے ۔