- الإعلانات -

چند ’’درخت‘‘ اور ایک’’ کوا ‘‘

پاکستان بارہا بھارتی حکومت سے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے او آئی سی کی سفارشات سمیت انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور دیگر بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے،مگر بدقسمتی سے ہٹ دھرم مودی آر ایس ایس کی فاشسٹ سوچ کی پیروی میں تیزی کے ساتھ مسلم کشی پر گامزن ہے ۔ مسلمانوں کو جہاں بھی جس شکل میں بھی نقصان پہنچانے کا اسے موقع ملتا ہے وہ نقصان پہنچاتا ہے ۔ حال ہی میں انتہا پسند مودی حکومت نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے ریاست آسام میں حکومتی سرپرستی میں چلنے والے تمام مدارس ختم کرنے کا بل منظور کرلیا جس کے تحت ریاست آسام میں قائم تمام مدارس اپریل تک عام سکولوں میں تبدیل کردیے جائیں گے ۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس اقدام کوملک میں مسلم مخالف جذبات کو بھڑکانے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ گزشتہ چند برس میں مودی کے بھارت میں اقلیتوں کا مستقبل جس طرح تاریک ہوتا محسوس ہوا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔ سکھ دلت مسلمان اور مسیحی کمیونٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ بھارتی سرحدوں سے باہر دیکھا جائے تو کشمیر جس پر اس نے تہتر برس سے جابرانہ اور ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، وہاں بھی اس کا اصل ٹارگٹ مسلمان ہیں ۔ اسرائیلی طرز کی فوجی بستیوں کے قیام کی کوششیں ، مسلم ڈیمو گرافی کو بدلنے کےلئے غیر کشمیریوں کو لاکھوں ڈومیسائل کا اجرا ء اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تحفظ دینے والی ;200;ئینی شقوں کا خاتمہ ایسے اقدام ہیں جس سے مودی حکومت کافاشزم کھل کر سامنے آتا ہے ۔

خطے میں بھارت کے عزائم کی راہ میں اگر کوئی بڑی رکاوٹ ہے تو وہ پاکستان ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان پاکستان کےخلاف ہر محاذ پر سر گرم اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کےلئے جعل سازی کے کئی ہتھ کنڈے استعمال کرتا ہے ۔ جعل سازی اور حقائق کو توڑ موڑ پیش کرنے کی ہی عادت بد کے تسلسل میں پاکستان کے معروف سابق سفیر ظفر ہلالی کی بالاکوٹ واقعہ کے حوالے سے ایک گفتگو کے ویڈیو کلپ کو کانٹ چھانٹ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سابق سفیر نے اعتراف کیا ہے کہ بالاکوٹ میں بھارتی ایئر سٹرائیک میں 300دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے ۔ سابق سفیر ظفر ہلالی ایک منجھے ہوئے سفیر رہے ہیں ۔ یمن، ناءجیریا اور اٹلی سمیت دیگر میں ممالک میں بطور پاکستانی سفیر کے کام کرچکے ہیں ۔ ان کے والد ;200;غا ہلالی جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقا میں سے تھے جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت بیسیوں قیمتیں جائیدادیں چھوڑ کر قائد کے ساتھ پاکستان آنے کو ترجیح دی تھی ۔ یہ ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جسے اب دو بیرونی محاذوں (چین اور پاکستان) کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ دوسری طرف داخلی سطح پر سکھ کسان دہلی کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں ۔ پلوامہ ڈرامہ کے تناوَ کے بعد مودی کی شرانگیزی نے دونوں ممالک کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا ۔ بالاکوٹ کے درختوں پر بھارتی فضائی سٹرائیک نے اس کی اپنی فوج کی نا اہلی اور جھوٹ بے نقاب کیا اور سبکی اٹھائی ۔ پوری دنیا نے اعتراف کیا کہ انڈین ایئر فورس کے حملے میں ایک کوا اور کچھ درختوں کو نقصان پہنچا ۔ جواباً بھارتی فوج کی نا اہلی کا سب سے زیادہ تصدیق شدہ ثبوت پاک فضائیہ کے آپریشن سوءفٹ ریٹارٹ کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم مودی کا اپنا ایک بیان ہے ، جس میں اس نے کہا تھاکہ اگر رافیل طیارے انڈین ایئر فورس کے پاس ہوتے تو اس کا نتیجہ مختلف ہوتا ۔ کرسٹین میلے نے نئی دہلی میں 2019ء میں ہندوستانی فوج کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ میں نہ تو نام نہاد دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور نہ ہی پاک فضائیہ کے کسی طیارے کو نشانہ بنایا ۔ پاکستان کا ردعمل نپے تلے اور پر عزم انداز میں سامنے ;200;یا،پی اے ایف نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر بھر پور جوابی حملہ کیا ۔ پاک فضائیہ کی برتری کا اعتراف سینئر ہندوستانی دفاعی تجزیہ کار مسٹر پروین سہنی نے بھی کیا کہ پاکستانی فوج نے تکنیکی آپریشنل اور اسٹریٹجک ڈومینز میں ہندوستانی فوج کو خوب پچھاڑا ۔ ایسے بے شمار عوامل ہیں جن کی وجہ سے بھارت کو گاہے گاہے سبکی کا سامنا رہتا ہے جس کے نتیجے میں ساری بھارتی انتظامیہ کو بوکھلاہٹ کے دورے پڑتے ہیں ۔ اگلے دن اقوام متحدہ میں بھی بھارت کو سفارتی شکست ہوئی ہے ۔ بھارت القاعدہ، داعش پر پابندیوں ، افغان امور، ایٹمی عدم پھیلاوَ کی کمیٹیوں کا سربراہ بننا چاہتا تھا،لیکن رکن ممالک نے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ۔ ارکان نے کہا کہ بھارت پاکستان کیخلاف منفی ایجنڈے کو بڑھا کر کمیٹیوں کو اپنے مکروہ عزائم کیلئے استعمال کرسکتا ہے جس سے افغان امن عمل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں ۔ اس طرح اقوام متحدہ میں بھارت کا انسداد دہشت گردی اور طالبان سے متعلق اہم کمیٹیوں کی صدارت کا خواب ادھورا رہ گیا ۔ اقوام متحدہ میں بھارت کی یہ واضح بڑی سفارتی شکست ہے، بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پرابھی حال ہی میں جگہ ملی ہے ۔ مگر اس نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے ۔