- الإعلانات -

آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے نجی ٹی وی چینل ;39;اے نیوز;39; کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں کیا حکمت عملی اختیار کرے گی ۔ ہ میں کوئی اندازہ نہیں لیکن جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ سے مقبوضہ کشمیر پر بات ہوئی اسی طرح نئی انتظامیہ سے بھی کریں گے ۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ چھیڑی اور اس کی بھاری قیمت پاکستان نے ادا کی ۔ ہم جوبائیڈن انتظامیہ سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ بھارت اور پاکستان سے تعلقات میں توازن رکھے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطین کو انصاف نہیں ملے گا تب تک پاکستان یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے بگڑے ہوئے تعلقات کی بنیادی ذمہ داری بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین دشمنی کی بڑی اور واحد وجہ مسئلہ کشمیر ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تین جنگوں کا باعث بن چکا ہے اور مزید جنگیں بھی ہو سکتی ہیں ۔ بھارت اورپاکستان جس طرح کے اسلحہ سے لیس ہیں ‘ جنگ ہونے کی صورت میں یہ آخری جنگ ثابت ہو سکتی ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی بھی آخری جنگ ہو گی ۔ یہ صرف پاکستان اور بھارت ہی کی جنگ پر موقوف نہیں ‘ دنیا کی کسی بھی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہونیوالی جنگ کرہ ارض کو تباہ کرنے پر منتج ہو گی ۔ حالیہ مہینوں پاکستان بھارت جنگ کے خطرات پیدا ہوگئے تھے، وقتی طور پر وہ ٹل گئے مگر جنگ کے بادل بدستور چھائے ہوئے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل تک یہ موجود رہیں گے ۔ جنگ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ مسئلہ کشمیر کے حل کی صورت میں موجود ہے ۔ پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے ہرممکن کوشش کی گئی ۔ مگر بھارت کے رویے صورتحال کو گھمبیر کئے جا رہے ہیں ۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آنے پر تیار ہی نہیں ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں ۔ اسے یقین ہے کہ قراردادوں کیمطابق استصواب ہوا تو وادی میں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہونے کے باعث کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرینگے ۔ 73 سال بھارت نے استصواب سے راہ فرار اختیار کرنے میں گزار دیئے اور بدستور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کیلئے تیار نہیں جبکہ اب وہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے سازشی جال تیار کرتا نظر آرہا ہے ۔ اس نے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر دیا اور کشمیر میں غیرکشمیریوں کو لاکر آباد ہونے‘ جائیدادیں خریدنے‘ ملازمتیں حاصل کرنے اور ڈومیسائل بنوانے کی اجازت دیدی جس کے بعد آر ایس ایس کے غنڈوں کی مدد سے لاکھوں شدت پسند ہندو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسائے گئے ہیں ۔ ماضی قریب میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکہ کی طرف سے بڑی بڑی یقین دہانیاں کرائی گئیں ۔ بل کلنٹن تھوڑے جذباتی بھی نظر آئے ۔ انتخابی مہم میں کشمیر ایشو کی بات کرتے رہے مگر صدارت کے منصب پر آنے کے بعد اس معاملے میں بات پھر وہی ڈھاک کے تین پات پر منتج ہوئی ۔ کلنٹن صدارت سے الگ ہوئے تو پھر مسئلہ کشمیر حل کرانے کی بات کرنے لگے ۔ اوباما بھی یقین دہانی کراتے اپنی دوٹر میں پوری کر گئے ۔ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم عمران خان کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا یقین دلایا اور مودی کوآمادہ کرنے کی بات کی ۔ عمران خان نے ٹرمپ کو ثالث بننے کی پیشکش کی ۔ ٹرمپ مان گئے مگر مودی نے صاف انکار کر دیا جس سے ٹرمپ ’’بے مزہ‘‘ نہ ہوئے ۔ ٹرمپ کی یقین دہانی فریب ثابت ہوئی ۔ اسکے بعد مودی اور ٹرمپ میں دوستی گہری ہو گئی ۔ دونوں میں دیگر اقدار کی طرح اسلامو فوبیا بھی قدرِ مشترک ہے ۔ مودی نے پاکستان اور اسلام کیخلاف انتخابی مہم چلائی اور ٹرمپ بھی اپنی مہم میں عالم اسلام پر شدید تنقید کرتے رہے اور پہلی ٹرم میں کامیاب ٹھہرے جبکہ دوسری ٹرم کیلئے امریکیوں نے ان پر اعتماد نہیں کیا ۔ ٹرمپ کے دور کے آخری دنوں میں امریکہ کا مکمل جھکاءو بھارت کی طرف ہو گیا تھا جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنا ۔ اِدھر صدارتی الیکشن ہو رہا تھا اُدھر امریکی وزیر خارجہ اور دفاع دونوں بھارت آکر معاہدے کر رہے تھے ۔ امریکہ اس جنگ کو سمیٹ رہا ہے جس سے خطے میں امن کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے مگر اس خطہ میں مکمل طور پر امن و امان مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے بعد ہی ہو سکتا ہے ۔ جوبائیڈن بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے معاملے میں امید افزاء باتیں کرتے رہے ہیں ۔ پاکستان کی خواہش یہ نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے جوبائیڈن انتظامیہ تلوار سونت لے‘ تاہم یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اصولی بات کریں ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں ان پر انکی روح کے مطابق عمل کرادیا جائے ۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اسی تناظر میں درست مشورہ دیا ہے کہ جوبائیڈن پاکستان بھارت تعلقات میں توازن رکھیں اسے تقدیر کا لکھا ہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کا امن تباہ کرنے والے عصر حاضر کے فرعونی ذہنیت کے امریکی حکمرانوں کا اپنا امن اور سکون برباد ہوگیا ۔ حالیہ انتخابات میں جوبائیڈن کے مقابلے میں ٹرمپ کو شکست کیا ہوئی، اس نے امریکی آئین اور جمہوری اقدار کو ہی پامال کردیا ۔ یہ امریکی تاریخ کا سیاہ دن تھا کہ نو منتخب صدر جوبائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کیلئے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس نائب صدر مائیک پنس کی زیر صدارت جاری تھا کہ اس دوران صدر ٹرمپ کے حامی سیکیورٹی حصار توڑ کر ایوان میں جا گھسے ۔ مظاہرین نے سپیکر نینسی پلوسی کی کرسی پر قبضہ کر لیا، پولیس کے روکنے پر مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت کے شیشے توڑ ڈالے ۔ حالات اتنے بے قابو ہو گئے کہ نائب صدر مائیک پنس اور دیگر ارکان نے بھاگ کر جان بچائی، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور عمارت خالی کرا لی گئی، پولیس سے جھڑپوں پر سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر شیلنگ اورفائرنگ کر دی حالات پر قابو پانے کےلئے سپیکر نینسی پلوسی کو فوج بلانا پڑی ۔ اب تک ہونے والے ہنگاموں میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے،پارلیمان کے گراءونڈ فلور سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ۔ یہ امریکی پارلیمانی تاریخ میں 159 سال بعد پیش آنیوالا اپنی نوعیت کا اہم واقعہ ہے کہ مظاہرین دوران اجلاس پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے یوں ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن کے مابین اس سیاسی جنگ نے امریکہ کی مسلمہ جمہوری اقدار پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ۔ جوبائیڈن اور ٹرمپ دونوں کے حامی ایک دوسرے کو امریکی آئین کی پابندی کا درس دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں امریکہ میں اس یوم سیاہ کے ذمہ دار نہیں ۔ ٹرمپ کے حامیوں کا بضد رہنا کہ وہ صدارتی انتخابات کے نتاءج کبھی تسلیم نہیں کرینگے، حالات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف لے جا رہا ہے ۔ ٹرمپ کا یہ مطالبہ بھی عقل سے بالا تر ہے کہ نائب صدر پنس صحیح کام کریں اور صدارتی نتاءج کی توثیق نہ کریں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہ میں یہ کام ملک کے نامور آئینی وکلا کے ذریعے کرنا ہے کہ ایسا کرنا ان کا حق ہے جبکہ نائب صدر مائیک پنس نے ٹرمپ کا یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے انہیں حلف کی پاس داری کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ انتخابات میں شکست خوردہ ٹرمپ نے امریکی آئین اور جمہوری اقدار کو پس پشت ڈال کر انتقال اقتدار کے سلسلے میں امریکی وکلا کی مشاورت کو کیوں اہمیت دی ہے ۔ امریکہ میں اقتدار کی رسہ کشی کے اس عالم میں بڑھنے والے سیاسی تناءو کے باعث حالات کی سنگینی کے پیش نظر مئیر مورئیل باءوزر نے واشنگٹن ڈی سی میں شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو لگا دیا تاکہ اس سیاسی تناءو میں جانی و مالی نقصان نہ ہو ۔ انتقال اقتدار کے موقع پر پیش آنیوالے حالات سے جوبائیڈن کو بھی سبق سیکھنا چاہیے خاص طورپر جوبائیڈن کو انسانی حقوق کے حوالے سے ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو منصفانہ ہو اور پس ماندہ ممالک کیلئے حوصلہ افزا ہو ۔