- الإعلانات -

ہم ترقی کیوں نہیں کر پا رہے ;238;

انسانی زندگی میں تعلیم کی ضرورت اور اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ اس کی تکمیل کے لئے ہر دور میں اہتمام کیا جاتا رہا ہے ۔ لیکن اسلام نے تعلیم کی اہمیت پر جو خاص زور دیا ہے اور تعلیم کی جو فضلیت دی ہے، دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظام نے وہ اہمیت اور فضلیت نہیں دی ۔ قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے تمہارے لئے چاند اور ستارے مسخر کر دئیے اور یہ مبارک کلام ہ میں امام الانبیاء ، رحمت اللعالمین;248; اور ختم المرسلین کو وحی کے ذریعہ عطا کیا گیا اور بوقت بعثت جو پہلی وحی بارگاہ رب العزت کی طرف سے وجہ تخلیق کائنات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر عطا ہوئی ا س کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ’’پڑھ اللہ کا نام لے کر ‘‘ ۔

اسلام سے قبل جہاں دنیا میں بہت سی اجارہ اداریاں قائم تھیں ، وہاں تعلیم پر بھی مخصوص طبقے اور لوگوں کے لئے دروازے کھلے تھے اور اسلام کی آمد سے یہ اجارہ اداری ختم ہوئی ۔ دنیا کے تمام انسانوں کو چاہیے وہ کالے ہوں یا گورے، عورت ہو یا مرد، بچے ہوں یا بڑے، سب کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کی ہدایت دی ۔ اسلام نے نہ صرف یہ کہ علم حاصل کرنے کی دعوت دی بلکہ ہر شخص کا فرض قرار دیا ہے ۔ آسمان و زمین ، نظام فلکیات، نظام شب و روز، بادوباراں ، ہجر و دریا، صحرا و کوہستان، جاندار، بے جان، پرند و چرند، غرض یہ کہ وہ کون سی چیز ہے جس کا مطالعہ کرنے اور اس کی پوشیدہ حکمتوں کا پتہ چلانے کی کیا اسلام میں ترغیب نہیں دی گئی;238;

پیغمبر ﷺ نے ناخواندگی کے خلاف اعلان جنگ کیا، اگر تعلیم اہم نہ ہوتی تو پیغمبرﷺ ناخواندگی کے خلاف جنگ کیوں کرتے ۔ حالانکہ آپ ﷺ نے ناخواندگی کے خلاف جنگ میں کافی دلچسپی لی تھی ۔ عربوں میں ناخواندگی اس قدر عام تھی کہ اقوام عالم میں انہیں ’’ان پڑھوں کی قوم‘‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا ۔ رسول اللہﷺ نے انہیں لکھنے پڑھنے کی ترغیب دی ۔ تعلیم کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ اس عمل کو خوب سراہا ۔ اہل علم کی عزت افزائی کی گئی، لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی گئی، پیغمبرﷺ کی اس جدوجہد کی وجہ سے عربوں کا خواندہ معاشرہ ایک تعلیم یافتہ اور قابل تقلید معاشرہ بن گیا ۔

چاہیے تو یہ تھا کہ عالم اسلام تعلیم اور سائنس پر بھرپورتوجہ دیتا مگر ہوا اس کے برعکس ہمارے رویوں کی وجہ سے ہم تعلیم پر اپنا فوکس نہ کر سکے ۔ جس کے باعث مسلم دنیا تعلیم اور سائنس کے شعبہ میں آگے نہ بڑھ سکی اور یہی بڑی دو وجوہات ہماری زبوں حالی کا باعث بنیں ۔ اگر آپ اسلامی ملکوں کا مطالعہ کریں تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خداوند کریم نے ہ میں بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے ۔ بدقسمت کے ہمارے رہبر اور قائدین نشہ حکمرانی میں مست رہے اور اللہ کی دی ہوئی قدرتی نعمتوں کا صحیح تودور ،اس کا عام استعمال بھی نہ کرسکے اور اغیار نے ان سے بھرپور استفادہ کیا اور اس وقت پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ جب مسلمانوں نے تعلیم کو ترجیح دی تو ان کا دور دورہ تھا لیکن جب مسلمانوں نے تعلیم کو پس پشت ڈال دیا تو ہم زوال کا شکار ہوتے گئے، مسلمانوں کی سرزمین پر کافی آ گئے اور اپنی حکومت قائم کی ۔ اب ہ میں سوچنا یہ ہے کہ اگر ہم ذرا سے کوشش کریں تو پوری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں ۔ اس وقت مسلم ممالک کی کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ طاقت ور ممالک جب چاہیں کوئی بوسیدہ بہانہ تراش کر کسی بھی اسلامی ملک پر حملہ کرکے اسے تہہ نہس کردیتے ہیں ۔ عراق، لیبیا اور دیگر کئی اسلامی ممالک اس کی زندہ مثالیں ہیں ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا پاکستان پر خاص کرم ہے کہ اس نے ذوالفقار علی بھٹو کے توسط سے محسن پاکستان عبدالقدیر خان کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر ناقابل تسخیر بنا دیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذریعے میزائل ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی اور دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔ ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ذکر آیا تو یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان میں سائنسی تعلیم کی کمی کا احساس کیا اور اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بدولت صوبہ خیبر پختونخوا کے مقام بنوں میں غلام اسحق خان سائنس انسٹی ٹیوٹ بنائی اور کے آر یل بھی تشکیل دی ۔ ان دونوں اداروں کا معیار کسی بھی طور پر بین الاقوامی معیار سے کم نہیں ۔ افسوس اس امر کا ہے کہ کوئی بھی مسلم ملک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پائے کا ایٹمی سائنسدان پیدا نہ کر سکا ۔ ماضی میں دیکھا جائے تو تقریباً چار سو برس سائنس کے ہر شعبہ میں مسلمان سائنسدانوں نے اپنا نام کمایا ۔ بعد ازاں مسلم ممالک کی اہلیت سے عاری قیادت کے بدولت ہم زوال کا شکار ہوگئے ۔ امریکہ ، یورپ اورجاپان تیزی سے سائنس کے شعبہ میں ترقی کرتے گئے اور جاپان اب کئی شعبوں میں امریکہ اور یورپ سے بھی کہیں آگے ہے ۔ اور تو اورپاکستان سے دوسال بعد آزاد ہونے والا ملک چین جو کبھی افیون کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا ۔ گزشتہ تیس برسوں میں اس نے اتنی ترقی کی کہ وہ ہم سے سو برس آگے ہے ۔ چین اس وقت ایسی عالمی طاقت بن کر ابھر رہا ہے کہ اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ جیسا سپر پاور ملک بھی اس کا مقروض ہے ۔

ایک طرف دنیا ترقی کی منازل کی تکمیل میں مصروف ہے اور ہم ہیں کہ جہالت کی گہرائیوں میں دھنستے چلے جارہے ہیں ۔ اب تو تیزی سے زوال کی طرف سفر نے خوف زدہ کردیا ہے کہ کہیں ہم نوشتہ دیوار نہ بن جائیں ۔ اس سے پہلے کہ اس قسم کی کوئی صورتحال ہم پر غالب آجائے ہم اپنے حکمرانوں اور عوام سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شکل میں جو عظیم شخصیت ہ میں عطا کی ہے ۔ ان سے پاکستان ہی نہیں عالم اسلام کو بھی سائنس کے شعبہ میں استفادہ کرنا چاہیے ۔ پاکستان میں جہاں ایک تانگہ بنانا بھی جان جوکھوں کا کام ہے ۔ کیا ہم نے چند برسوں میں ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کی;238; اگر ہم خواب غفلت اور ذاتی مفادات کے چنگل میں پھنسے رہے تو دنیا بہت آگے نکل جائے گی اور

ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں