- الإعلانات -

افغانستان میں تمام دہشت گرد اکٹھے

وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات میں سانحہ مچھ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات کا عزم کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے لیکن ہمارے اداروں نے مسلکی تصادم کو روکنے کے لیے بہترین کام کیا ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اندرونی و بیرونی خطرات کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ دہشت گردی کیخلاف کامیاب آپریشن کیے گئے ۔ آپریشن رد الفساد میں 3 لاکھ 71 ہزار سے زائد آپریشن کیے ۔ دہشتگردی کیخلاف آپریشن سے سیکیورٹی صورتحال مجموعی طور پر بہتر ہوئی ۔ خودکش حملوں میں 97 فیصد واضح کمی آئی ۔ آج تمام قبائلی علاقے خیبرپختونخوا کا حصہ ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کراچی میں دہشتگردی میں 95 فیصد کمی آئی ۔ کراچی میں اغوا برائے تاوان میں 98 فیصد کمی آئی ۔ کراچی کا کرائم انڈیکس چھٹے نمبر پر تھا، اب 103 پر ہے ۔ سرحدی علاقے میں دہشتگردی 55 فیصد کم ہوگئی ۔ ہ میں بھارتی اشتعال انگیزیوں کا سامنا ہے ۔ ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں ۔ بھارت نہیں چاہتا پاکستان پر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ بھارتی افواج دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں ۔ پاک فوج نے بھارتی خلاف ورزیوں کا ہمیشہ بھرپور جواب دیا ۔ بھارت نے 2019 میں سب سے زیادہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں ۔ پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے ۔ بھارت کیخلاف ای یو ڈس انفارمیشن لیب کے ذریعے شواہد سامنے آچکے ۔ 70 سے زائد ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کی گئیں ۔ جعلی نیٹ ورک میں جعلی این جی اوز بھی شامل تھیں ۔ فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان کیخلاف سیمینار کیے گئے ۔ جعلی نیٹ ورک شری واستو گروپ چلا رہا تھا ۔ صرف یہی نہیں بھارت نے اقلیتوں کے حوالے سے بھی جھوٹا پروپیگنڈا کیا ۔ بھارت نے کشمیر کے محاذ پر اپنی جارحیت کو چھپایا ۔ کشمیر میں مودی سرکار نے 2019 میں اور اس کے بعد کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ دشمن قوتیں ہ میں تقسیم کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ جہاں تک میڈیا وار کا تعلق ہے تو پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا ۔ پاکستان نے ہمیشہ ذمے دار ریاست کا ثبوت دیا ۔ بلوچستان میں ملک دشمن قوتیں اس لئے امن و امان خراب کرنے کے درپے ہیں کہ وہاں پر 199 ترقیاتی منصوبوں پر جبکہ خیبرپختونخواہ میں 883 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ جہاں تک افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی بات ہے تو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی کہا ہے کہ افغانستان میں تمام دہشت گرد اکٹھے ہورہے ہیں ۔ دہشت گرد شیعہ سنی فسادات کرانا چاہتے ہیں ۔ ان میں مین کردار بھارت ادا کر رہا ہے ۔ بقول فوجی ترجمان سرحد پر باڑ فوج نے حکومت کے احکامات پر عوام کی سیکیورٹی کےلئے لگائی ۔ اس باڑ کو لگانے میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنا خون بہایا اور شہادتیں دیں ۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ باڑ کو اکھاڑ سکے ۔ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان سے امریکن گئے تو مسلح گروپ بن گئے ۔ سانحہ مچھ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی مگر اس کےساتھ بھارت بھی برابر کا ذمہ دار ہے ۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے فرقہ واریت کو ہوا دینے کے کئی بھارتی منصوبوں کا کامیابی سے پتہ لگایا ۔ ہاں یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ دہشت گردوں نے کم آبادی والے علاقے میں ہزارہ کے کارکنوں کو ہدف بنایا ۔ موجودہ حکومت کا ہزارہ برادری کے ساتھ پہلی بار تحریری معاہدہ ہوا ہے ۔ ان کے شناختی کارڈ اور سیکیورٹی کا بھی مسئلہ ہے ۔ امید ہے اب ہزارہ برادری کے مسائل حل ہو جائیں گے اور وہ امن وسکون سے اپنے گھروں میں زندگی بسر کر سکیں گے ۔ داعش کی طرف سے مقامی آبادی میں خوف پھیلانے‘ معاشی مفادات پر حملہ کرنے اور مقامی انتظامیہ کی ناکامی کا تاثر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سکیورٹی ادارے شہریوں کو دہشت گرد عناصر سے بچانے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں ۔ بلوچستان کا معاملہ گھمبیر ہے ۔ ایک عرصے تک بلوچستان کے امن کو ان قوتوں سے خطرہ رہا ہے جو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں ۔ بلوچستان میں دہشت گرد گروہ پچھلے دو ماہ سے اپنے حملے تیز کر رہے ہیں ۔ علیحدگی پسند تنظی میں اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے والے گروہ بلوچستان کی سرزمین پر بدامنی پھیلانے میں سرگرم رہے ہیں ۔ دنیا بھر میں دہشت گردی، خصوصاً دہشت گردی تنظیم داعش کی کاروائیوں ، کے سلسلے میں اہم انکشاف ہوا ہے اور بھارت کے داعش سے ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک میں روابط اور حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ امریکی ادارے فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت اور وسطی ایشیا سے ہے ۔ افغانستان میں طالبان ان دنوں حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن دوسری جانب داعش کی شدت پسند کارروائیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں ۔