- الإعلانات -

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی کردارہے اورنہ ہی اسے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کی جائے ،کسی سے کوئی بیک ڈوررابطہ نہیں ، ہ میں معاملے سے دور رکھا جائے، حکومت نے فوج کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری سونپی فوج نے پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے الیکشن کرائے پھر بھی کسی کو اعتراض ہے تو ادارے موجودہیں ان سے رجوع کیاجائے ، الزامات لگانا اچھی بات نہیں ،فوج حکومت کا ماتحت ادارہ ہے ،حکومت تمام الزامات کا بہتر انداز میں جواب دیکر اچھی طرح ہمارادفاع کررہی ہے ،فوج اپوزیشن کے نام نہادالزامات کاجواب نہیں دے گی جس میں حقیقت اور وزن نہ ہو،فوج مخالف بیانات پر تشویش ضرور ہے مگرفوج کامورال بلند ہے اور وہ اپنا کام کررہی ہے، مولانا فضل الرحمن کے پنڈی آنے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی اوراگر وہ آئے توہم ان کوچائے پانی پلائیں گے، ان کی اچھی دیکھ بھال کریں گے ،ماضی کے مقابلہ میں آج پاکستان میں دہشت گردی کاکوئی منظم نیٹ ورک موجودنہیں ہے ، کراچی میں امن و امان کی صورتحال ترقی یافتہ ممالک کے دارالحکومتوں سے بھی بہتر ہے ، بلوچستان میں کچھ عرصے سے ملک دشمن قوتیں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے در پے ہیں ،سکیورٹی ادارے ان عزائم کو ناکام بنانے کےلئے شب و روز مصروف ہیں ، ،پاک افغان باڑ ہم نے اپنے جوانوں کے خون اور پسینے سے لگائی ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس باڑکو اکھاڑسکے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را افغانستان میں داعش کی معاونت کر رہی ہے افغان حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے ، کائنیٹک خطرات کے میدان میں ناکامی کے بعد بھارت نے ہائبرڈ اورففتھ جنریشن وار کا سہارا لیا ہے، پاک فوج بھارت کے ہراقدام کابھرپورجواب دینے کیلئے پوری طرح تیارہے، بھارت اپنے مورال کوبلندرکھنے کیلئے دعوے کرتا رہتا ہے ہ میں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ،ہ میں ان کی استعداد اورعزائم کا اچھی طرح سے علم ہے اور ہم پوری طرح تیار ہیں امریکا اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان روابط جاری ہیں ، ہم اس حوالے سے بہت پرامید ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 2020گزشتہ 10 برسوں میں ایک مشکل سال تھاتمام چیلنجوں کے باوجودریاست، قومی اداروں ، افواج پاکستان،انٹیلی جنس ایجنسیوں اورسب سے اہم پاکستانی عوام نے متحد ہوکران مشکلات کابھرپور مقابلہ کیا اوربحیثیت قوم الحمدللہ اللہ نے ہ میں سرخرو کیا ۔ پاکستان میں داعش کاکوئی منظم ڈھانچہ نہیں ہے ،بھارت جس طرح دفاعی اخراجات کررہاہے اس کے تناظر میں بین الاقوامی برادری کواس بات کا ادراک کرنا چاہئیے کہ اس سے روایتی توازن بگڑ سکتا ہے ۔ ادھروزیراعظم عمران خان سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں قومی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں مچھ کے بدقسمت واقعہ کی شدید مذمت کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگا ۔ ملاقات میں بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور ایل او سی پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پرتشویش کا اظہار کیاگیا ۔ دوسری جانب پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے مقبول پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترجمان پاک فوج کی پریس بریفنگ بہترین تھی ،جہاں تک پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا سوال ہے تو یہ راولپنڈی کی طرف نہیں آئے گا اور نہ ہی سیاستدانوں کو فوج کو سیاست میں گھسیٹنا چاہئے ۔ ایک بات یہ بھی حیران کن ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں پاک فوج کیخلاف تقاریر کی گئیں حکومت وقت کو بلیک میل کرنے کےلئے نت نئے حربے اور منصوبے بنائے گئے ۔ اصل میں حکومت کو دی گئی دھمکیوں اور کھڑاک کی کوئی حیثیت نہیں ،پاک فوج پر دباءو ڈال کر ایک منتخب حکومت کو ختم کرنا غیرآئینی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آرکی پریس بریفنگ یہ ثابت کرتی ہے کہ پاک فوج آئین اورقانون کے تحت اپناکام کررہی ہے اور اس کا سیاست کے ساتھ کسی قسم کاکوئی تعلق نہیں ۔ بلاشبہ حقیقت بھی یہی ہے کہ ملک میں پاک فوج نے ہرشعبے میں بہترین خدمات سر انجام دی ہیں مگرکچھ شرپسندعناصرنے پاک فوج کیخلاف عوام میں زہراگلنے کی کوشش کی جس میں وہ بری طرح ناکام رہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ ملک کے اندراوربیرون ملک جوبھی عناصرملک کی سلامتی سے کھیلنے کی کوشش کریگا اس کیخلاف سخت کارروائی ہوگی ۔ پاک فوج نے ہمیشہ غیرجانبداررہ کر اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ بریفنگ میں بلوچستان کی سکیورٹی کے لئے فول پروف اقدامات کا بھی ذکر کیا،بلاشبہ پاک فوج نے اس حوالے سے بہت کام کیا اور بھارتی سازشوں کو ایک ڈوزیئر کے ذریعے بے نقاب کیا ، بھارتی سازشوں پرمبنی ڈوزیئردنیا کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے جس پرعالمی برادری کو ایکشن لینا چاہیے ۔

;34;راست;34;کا اجرا مثبت اقدام

پاکستان کے پہلے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ;34;راست;34;کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سب سے کم ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے ،کم ریونیو کے باعث ہم ملکی تعمیر وترقی پر زیادہ خرچ نہیں کر سکتے،پاکستان کی 22کروڑآبادی میں سے صرف 20لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں اور ان میں سے بھی 70 فیصد ٹیکس صرف تین ہزار افراد دیتے ہیں باقی 19لاکھ 97ہزار افراد کا حصہ صرف 30فیصد ہے ۔ راست نظام کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم ہے اس سے ادائیگیوں کے نظام کو محفوظ اور موثر بنا یاجاسکے گاراست پروگرام سے غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی ۔ ریکارڈ ترسیلات زر آنے سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہوا ۔ احساس پروگرام کے ذریعے غربت پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اسٹیٹ بنک کی کوششوں سے ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا کرنٹ اکاءونٹ سرپلس ہونے سے روپے کی قدر پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ کرنٹ اکاءونٹ خسارے میں ہو تو روپے پر دباءو بڑھتا ہے اور تیل اور دیگر ضروریات زندگی مہنگی ہوجاتی ہیں ۔ دوسری جانب گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام راست سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔ اس نظام سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھی فائدہ ہوگا اور سرکاری ادائیگیوں میں غیرضروری تاخیر اور مشکلات ختم ہوں گی ۔ تیز تر ادائیگی کے نظام سے خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں اور افراد کو سہولت دینے سے معاشی نمو کے پھیلاءو میں مدد ملے گی ۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پربوجھ

نیپرا نے اکتوبر اور نومبر کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک روپے چھ پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی، اتھارٹی نے تیس دسمبر دوہزاربیس کو دونوں مہینوں کی ایف سی اے پر عوامی سماعت کی تھی، فی یونٹ اضافے کو رواں ماں کے بلوں میں شامل کر کے موصول کیا جائے گا ، اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لاءف لائن صارفین پر ہو گا ، صارفین پر آٹھ ارب روپ کا بوجھ پڑےگا ۔ آئے روز بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام کےلئے سردرد بنتا جا رہاہے ۔ حکومت جہاں معیشت کی بہتری کی نویدسناتی ہے تواس کو چاہیے کہ وہ قیمتوں میں بھی کمی لائے تاکہ عوام کے مسائل کم ہوں ۔ مختلف چیزو ں کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ غریب عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اورپھراشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ دو روز قبل ادارہ شماریات کی رپورٹ بھی آئی کہ دو ہزار اکیس کے پہلے ہفتے میں مہنگائی میں صفراعشاریہ چھ فیصداضافہ ہوا ہے ادھر چینی کی قیمتیں پھر سے بڑھنا شروع ہو گئی ہیں ۔ مارکیٹ میں یہ افواہیں بھی زیر گردش ہیں کہ قیمتیں سوروپے کلو تک جاسکتی ہیں ۔ اس معاملے کو ابھی سے قابو پایا جانا ضروری ہے ۔ قیمتوں میں اضافے سے اپوزیشن کو بھی جوازمل جاتاہے کہ عوام پرظلم کیاجارہاہے ۔ وزیراعظم عمران خان کواس جانب فوری توجہ دینی چاہیے کیونکہ عمران خان کاتوویژن ہی عوام کی زندگی میں بہتری لاناہے نہ کہ اس کے مسائل میں مزیداضافہ کرنا ۔ لہٰذاحکومت کو چاہیے کہ وہ آئے روز بڑھتی قیمتوں میں اضافے پرقابوپائے ۔