- الإعلانات -

مودی رے مودی تیری کونسی کل سیدھی

گزشتہ برس 10 اگست کو بی بی سی نے ایک رپورٹ شاءع کی تھی کہ بھارت کی ریاست راجستھان میں پاکستان سے ہجرت کر جانے والے ایک ہی خاندان کے 11افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور صرف ایک فرد ہی زندہ بچ سکا ہے ۔ اس پاکستانی ہندو خاندان نے8سال قبل 2012 میں بہتر مستقبل کی امید پر سندھ سے بھارت نقل مکانی کی تھی لیکن بھارت جا کر ان کے لئے یہ نقل مکانی دور کے ڈھول سہانے ثابت ہوئی ۔ متاثرہ خاندان کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ میں شہداد پور سے ملحق گاؤں لنڈو کی بھیل برادری سے تھا ۔ پاکستان چھوڑ کر بھارت منتقل ہونے والے خاندان کی لاشیں راجستھان کے ضلع جودھپور میں ایک کھیت سے ملیں تھیں ۔ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا اس بارے بھارتی پولیس اب تک متاثرہ خاندان اور ان کے لواحقین کو کوئی حتمی رپورٹ دے رہی ہے، نہ ہی مرنے والوں کی راکھ ان کے حوالے کر رہی ہے ۔ اس مدعے کو لے کر متاثرہ خاندان پانچ چھ ماہ سے سراپا احتجاج ہے ۔ 25 ستمبر2020کو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہندو برادری کے سیکڑوں افراد نے مذکورہ 11 پاکستانی ہندووَں کے قتل کی خلاف وفاقی دارالحکومت میں سفارتی انکلیو کے اندر داخل ہو کر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا تھا ۔ گزشتہ روز 20 جنوری کو بھی قتل ہونے والے خاندان کے لواحقین اور پاکستانی ہندو کمیونٹی نے اسلام ;200;باد میں انڈین ہائی کمیشن اور وزارت خارجہ کے دفتر میں درخواست دائر کی کہ انسانیت کی بنا پر مرحومین کی میتوں کی راکھ کو ورثا کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں ۔ اسکے ساتھ ساتھ ورثا اور پاکستانی ہندو کمیونٹی نے وزارت خارجہ اور انڈین ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر اپنے ساتھی ہندووَں کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور عالمی اداروں سے درخواست کی کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور حقائق سامنے لائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ لواحقین کو میتوں کی راکھ نہ دینا بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہٰذا بھارت کو عالمی انسانی حقوق کے قوانین پر عملدر;200;مد کا پابند کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا بھی پابند کیا جائے ۔ یہ انسانیت سوز سلوک یقینی طور پر افسوسناک ہے جس کا بین الاقوامی اداروں کو بھی نوٹس لینا چاہئے ۔ ورثا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ11افراد طبی موت نہیں مرے بلکہ انہیں منصوبہ بندی سے قتل کیا گیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں ہندو برادری کے احتجاج کے موقع پر پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ دفترخارجہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ آپ کو انصاف ملے، جس دروازے پر بھی آپ دستک دینا چاہتے ہیں آپ ہ میں ساتھ پائیں گے ۔ ہم آپ کے اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ، جو اموات ہوئیں ان کا تعلق ہندو برادری سے تھا تاہم وہ پاکستانی تھے ۔ بدقسمتی سے ہ میں جو تعاون درکار تھا وہ بھارت سے نہیں ملا ۔ جو معلومات ہم ان سے مانگتے ہیں وہ ہ میں اس تفصیل سے آگاہ نہیں کرتے، لگتا یہ ہے کہ کوئی رازداری اور پردہ پوشی ہے اور وہ حقائق کو صحیح ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ جب حقائق ظاہر ہوتے ہیں تو وہ بے نقاب ہوتے ہیں انہوں کہا کہ بدقسمتی سے بھارت میں ایسا رویہ اپنایا گیا ہے کہ وہاں کوئی اقلیت محفوظ نہیں تاہم ہم یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہم اپنی ان اقلیتوں خاص طور پر ہندو برادری کو ایک بڑی ذمہ دار اقلیت سمجھتے ہیں ۔ انہیں نے کہا کہ آپ خود کو بالکل غیر محفوظ محسوس نہ کریں ، ملک کے آئین اور دین کے مطابق آپ کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور ہر فورم پرآپ کی آواز اٹھائیں گے ۔ اس موقع ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں جو بھی غیر مسلم اقلیت رہتی ہے ان کے حقوق کے حوالے سے حکومت اور ادارے تعاون کر تے ہیں ،ہم نے حال ہی میں دیکھا کہ سپریم کورٹ نے کرک سمادھی والے معاملے کا نوٹس بھی لیا ۔

بھارت امریکہ کی ہلہ شیری پر جنوبی ایشیا میں تھانیداری کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ اس خواب کی اسے تعبیر ملتی ہے یا نہیں لیکن اس عرصہ میں خطے کا امن ضرور داوَ پر لگا ہوا ہے ۔ فاشسٹ اور انتہا پسندی کی جس ڈگر پر مودی رجیم نے بھارت کو گامزن کر دیا ہے اس کے تباہ کن اثرات نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ۔ خدشہ ہے کہ مودی کا مزید اقتدار میں رہنا خطے کے لئے مکمل تباہی لائے گا ۔ 26فروری 2019 کو بالاکوٹ پر حملہ اور اس سے قبل پلوامہ ڈرامے کے ضمن میں ارنب گیٹ میں جو کچھ سامنے آیا ہے وہ اس خدشے کی دلیل بھی ہے اور امن کے ضامن عالمی اداروں کےلئے چیلنج بھی ہے ۔ جبکہ خود بھارتی ذی ہوش عوام کے لئے بھی سوالیہ نشان ہے کہ ان کی سیاسی و عسکری قیادت ہوش کا دامن کیوں ہاتھ سے چھوڑ بیٹھی ہے ۔ اگرچہ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے ارنب گوسوامی کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاہم بات اس سے آگے کی ہے،کیونکہ اس سے قبل ڈس انفو لیب کے انکشافات بھی مودی کے خطرناک عزائم کا پردہ چاک کرتے ہیں ۔ ارنب کی لیک ہونے والی وٹس اپ چیٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مودی حکومت کی جانب سے پلوامہ اٹیک اور پاکستان میں 26 فروری2019کو ہونے والے بالاکوٹ واقعے سے اینکر پہلے ہی باخبر تھا اور حکومتی سطح پر ہونے والی منصوبہ بندی شیئر کی گئی تھی ۔ بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی اور ریاست مہاراشٹر کی مقامی پارٹی شیو سینا نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ 26 فروری 2019 کو بھارتی لڑاکا طیاروں نے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا تھا اور اس حوالے سے نئی دہلی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جنگجووں کا کیمپ تباہ کردیا ہے ۔ ان جھوٹے دعووں کو پھر جعلی ویب ساءٹس کے نیٹ اوراور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلایا گیا کہ پاکستان کا بہت زیادہ نقصان کیا گیا ہے ۔ تاہم بعد ازاں بھارتی وزیر دفاع نے بھی حملے سے متعلق نقصان کی تفصیلات بتانے سے معذرت کرلی تھی کیوں کہ ان کے پاس بتانے کے کچھ نہیں تھا ۔

وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ خودبھارتی میڈیا نے ایسے گھناءونے گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا ہے جو جوہری صلاحیت کے حامل خطے کو ایسے تنازع کے دہانے پر لا رہا ہے جس کا یہ متحمل نہیں ہوسکتا ۔ ٹوءٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سال 2019 میں ، انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس حوالے سے بات کی تھی کہ بھارت کی فاشسٹ مودی حکومت نے بالا کوٹ حملے کو کس طرح مقامی انتخابات میں فائدے کیلئے استعمال کیا ۔ بھارتی صحافی کے رابطوں سے مودی حکومت اور بھارتی میڈیا کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ کا انکشاف سامنے ;200;یا جو پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے نتاءج کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے انتخابات جیتنے کیلئے ایک خطرناک فوجی مہم جوئی کا باعث بنا ۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی سپانسر شپ، انڈیا کے غیرقانونی قبضے والے کشمیر میں اسکے مظالم اور بھارت کی عالمی ڈِس انفارمیشن مہم ;200;شکار ہوچکی ہے ۔ یہی وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت کو اسکے جارحانہ اور عسکری ایجنڈے سے روکے قبل اسکے کہ مودی حکومت خطے کو ایسے تنازع میں دھکیل دے جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے ۔