- الإعلانات -

عالمی بینک کا مشورہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن

عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں مشورہ دیا ہے کہ پاکستان ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی استعداد بڑھا کر آئندہ 20سال کے دوران پانچ ارب ڈالر بچا سکتا ہے جو گردشی قرضوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ قدرتی ذراءع بجلی پیدا کرنے کا انتہائی سستا ذریعہ ہے جبکہ وطن عزیز ہوا، پانی اور شمسی توانائی جیسی دولت سے مالامال ہے لیکن زمینی صورتحال کے مطابق اِس وقت ہائیڈرل پاور سے بجلی کی 27فیصد ہوا اور شمسی توانائی سے پانچ، فرنس آئل16، قدرتی گیس12، ایل این جی26، کوئلہ9 اور جوہری توانائی سے پانچ فیصد ضرورت پوری ہورہی ہے گویا کل حاصل شدہ بجلی کے 54 فیصد کا دارومدار فرنس آئل، قدرتی گیس اور ایل این جی جیسے انتہائی مہنگے ذراءع پر ہے اور یہی عوامل ملک میں 2150ارب روپے کے گردشی قرضوں کی بڑی وجہ ہیں رہی سہی کسرلائن لاسز اور بجلی کی چوری نے نکال دی ہے نتیجہ یہ کہ گھریلو صارفین، صنعتوں اور تجارتی مراکز کو انتہائی مہنگے داموں بجلی مل رہی ہے ۔ بجلی چوری سے نمٹنے کیلئے ملک میں قانون موجود ہے لیکن نہ جانے کونسی مصلحتیں ہیں کہ صورتحال جوں کی توں ہے ۔ جہاں تک عالمی بنک کی متذکرہ رپورٹ کا تعلق ہے یہ بلاشبہ ایک اچھی تجویز ہے اس پر عمل ہونا چاہئے اس لیے کہ شمسی توانائی روزگار کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے ۔ صرف امریکہ میں 200,000 سے زیادہ ملازمین شمسی توانائی کی صنعت سے وابستہ ہیں کوئلے کے مقابلے میں تین گنا زیا دہ ۔ یہ تعداد 2020 کے اختتام تک دوگنی ہوجائے گی ۔ وسیع پیمانے پر شمسی توانائی کے استعمال سے ہوا کی آلودگی میں ڈرامائی کمی آئیگی جس کے نتیجے میں صحت اور اقتصادی شعبوں میں فوائد حاصل ہوں گے ۔ شمسی توانائی کے ذریعے دور دراز اور کم آمدنی والے لوگوں تک گرڈ کے مہنگے بنیادی ڈھانچے کے بغیر بجلی فراہم کی جاسکے گی ۔ اسی وجہ سے چینی، بھارتی اور امریکی حکومتیں شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیوں میں بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں ۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 2 سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کے اُس ہدف کو پورا کرنے کےلئے جو معاہدہ پیرس میں طے پا یا ہے ، شمسی توانائی اور توانائی کے دوسرے قابل تجدید وسائل کا وسیع پیمانے پر استعمال انتہائی ضروری ہے شمسی توانائی خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی سولر انرجی یا شمسی توانائی کہلاتی ہے ۔ دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ سورج کی کرنیں قدرت کا وہ عطیہ ہیں جو توانائی کے حصول کے لئے مفید ہیں ۔ دیگر ذراءع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی کرنوں سے کئی گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے ۔ سورج کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں ۔ دنیا میں شمسی توانائی کو عام طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، یہ دو سولر تھرمل اور سولر فوٹو وولٹائی ہیں ۔ سولر تھرمل بجلی پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ اس طریقے میں پانی کو بھاپ کی شکل دی جاتی ہے اور بھاپ کی مدد سے ٹربائنز کو چلایا جاتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے ۔ گیس یا کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں حرارت آگ سے لی جاتی ہے جبکہ سولر تھرمل میں حرارت آگ کے بجائے براہ راست سورج سے حاصل کی جاتی ہے ۔ اِس طریقے میں دھوپ کی شعاعوں کو ایک ہی نقطے پر مرکوز کرتے ہوئے کسی پاءپ میں موجود ماءع کو گرم کیا جاتا ہے ۔ آج کل جو کھانا پکانے کےلئے شمسی چولہوں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ سولر تھرمل طریقہ ہی ہے ۔ شمسی بیٹریوں کو سائنسی اصطلاح میں فوٹو وولٹک (پی وی) کہا جاتا ہے ۔ فوٹو کا مطلب روشنی اور وولٹک سے مراد بجلی ہے ۔ فوٹو وولٹائی سیل سورج کی روشنی کو میکانکی جنریٹروں اور تھرمو ڈائنامیک سائیکلز سے گزار کر بجلی میں تبدیل کرتے ہیں ۔ فوٹو وولٹائی کا مطلب ہے ، ایسی روشنی جو بجلی میں تبدیل ہو جائے ۔ کسی بھی عام آدمی کےلئے یہ بات قابل غور ہے کہ سورج کی روشنی سے توانائی کا حصول کیسے کیا جاتا ہے ۔ شمسی توانائی سے توانائی کے حصول کےلئے بنیادی عنصر سولر سیل کہلاتا ہے ۔ جب سورج کی شعاعیں پینل پر پڑتی ہیں تو سولر سیل کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق ایک سولر پینل بیس سے پچیس برس کےلئے کارآمد ہو سکتا ہے ۔ سولر پی وی کی مزید اقسام میں تھن فلم، کنسنٹریٹڈ اور ایکٹو سولر انرجی شامل ہیں ۔ تھن فلم سولر سیل کو تھن فلم فوٹو وولٹک بھی کہا جاتا ہے ۔ تھن فلم سولر سیل کو ایک یا ایک سے زیادہ فوٹو وولٹک مواد کی پتلی تہوں کو جمع کر کے بنایا جاتا ہے اور یہ شمسی توانائی کو بجلی بنا کر اپنے اندر محفو ظ کر لیتے ہیں ۔ تھن فلم بیٹری کا وزن کم ہوتا ہے اس لئے اس بیٹری کو بآسانی بڑی بڑی عمارتوں کی چھت پر لگایا جاتا ہے ۔ کنسنٹریٹڈ سولر سسٹم میں لینز اور شیشوں کی مدد سے سورج کی توانائی پیدا کی جاتی ہے ۔ جب سورج کی کرنیں توانائی میں تبدیل ہوتی ہیں تو یہ برقی توانائی کے جنریٹر کو چلاتی ہیں اور برقی توانائی پیدا ہوتی ہے ۔ آج کے دور میں کھانا پکانے، پانی گرم کرنے، مکانوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنے یا پھر پھلوں کو سکھانا ہو;234; ان تمام کاموں کےلئے شمسی توانائی کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ جب سورج کی یہ کرنیں سٹیم ٹربائن کا استعمال کئے بغیر شمسی توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہیں تو اسے کنسنٹریٹڈ فوٹو وولٹک (سی پی وی) کہا جاتا ہے ۔ کنسنٹریٹڈ ٹیکنالوجی چار شکلوں میں پیدا ہوتی ہے ۔ ان میں ڈش، ریفلیکٹر، شمسی ٹاور اور پاءپوں سے شمسی توانائی پیدا کی جاتی ہے ۔ اس طرح کے سسٹم گرم علاقوں میں لگائے جاتے ہیں جہاں تیز دھوپ ہو ۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کی سخت ضرورت ہے ۔ ہمارے ملک کے عوام بجلی کے بحران میں الجھے ہوئے ہیں اور پر قابو پانے کےلئے ہ میں ایسی توانائی استعمال کرنی ہو گی جو ملکی توانائی کی بچت بھی کرے اور عوام کو بلا تعطل توانائی کی فراہمی بھی ممکن ہو شمسی توانائی اس اعتبار سے بہترین ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق سورج سے ایک گھنٹے میں حاصل ہونےوالی توانائی پوری دنیا کی کل سالانہ پیدا کردہ مجموعی توانائی سے زیادہ ہے ۔ ایک جائزے کے مطابق دنیا کے صحراءوں کا اگر صرف آدھا فیصد بھی شمسی توانائی حاصل کرنے کےلئے استعمال کیا جائے تو اس سے دنیا میں توانائی کی طلب پوری کی جاسکتی ہے ۔ پاکستان میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے کافی مواقع موجود ہیں کیونکہ پاکستان کا ماحول اور موسم شمسی توانائی کے حصول کےلئے شاندار ہے ۔ شمسی توانائی سے بجلی فراہم کرکے توانائی کے بحران سے نمٹا جا سکتا ہے ۔ دنیا کے بیشتر ممالک شمسی توانائی کا استعمال اپنی روز مرہ زندگی میں کر رہے ہیں ۔ امریکہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں شمسی گھر تعمیر کئے گئے ہیں ۔ امریکہ میں انجینئر اور فن تعمیر کے ماہرین نے شمسی گھروں سے متعلق طرح طرح کے ڈیزائن تیار کیے ہیں ۔ ان شمسی گھروں میں کسی نہ کسی طرح سورج کی گرمی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے اور ضرورت کے حساب سے استعمال کیا جاتا ہے ۔ فرانس کے ماہرین تحقیقی ایک مقام پر شمسی توانائی کی مدد سے بھٹیوں کو چلا رہے ہیں ۔ یہ ساری بھٹیاں بہت بڑی ہیں ان میں سے ایک کا رقبہ 43 مربع فٹ ہے اور اس میں پانچ سو سولہ عکسی شیشے لگے ہوئے ہیں ۔ اس کے اسّی فٹ کے فاصلے پرایک شیشہ کا پیرا بولا ہے جو 31 فٹ چوڑا اور 33 فٹ لمبا ہے ۔ اس نظام سے جو گرمی پیدا ہوتی ہے وہ فی گھنٹہ ایک سو تیس پاونڈ لوہے کو پگھلا سکتی ہے ۔ ہمارے ایک نے اپنے ایک کالم ;3939; چار خوبصورت موسموں کی سر زمین ;3939; میں بڑے خوبصورت انداز میں پاکستان میں پائے جانےوالے وسائل کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہم لوگوں میں صرف خلوص کی کمی ہے اور متحد رہنے کی ضرورت ہے ساری دنیا پاکستان کی طرف آنکھیں لگائے ہوئے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کو قدرت نے بے پناہ وسائل سے نواز رکھا ہے ۔ پانچ دریا، وسیع و عریض گرم پانیوں کا سمندری ساحل لاتعداد جھیلیں اور سیاچن جیسے دیو ہیکل گلیشئرز اس کا وہ سرمایہ ہیں کہ خطے کے کئی ممالک رشک کرتے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کا محل وقوع ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں کہ چین جیسی معاشی قوت کو اپنے عظیم منصوبے ون روڈ ون بیلٹ انیشی ایٹو کےلئے سب سے پہلے پاکستان کا انتخاب کرنا پڑا اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے پاکستان خدا کا ایک بہت بڑا عطیہ ہے جس کی قدر سے ہم لوگ غافل ہوچکے ہیں ملک کے پاس ہائیڈرل پاور کے اس سے بھی زیادہ موثر ذراءع موجود ہیں جن سے بجلی کے ساتھ ساتھ ملک کا وسیع تر زرعی رقبہ سیراب کرنے کیلئے بھی پانی میسر آئے گا ۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ جس کی تعمیر کیلئے کئی برس پہلے مشینری تک حاصل کر لی گئی تھی یہ منصوبہ کس حال میں ہے اس پر بھی غور و فکر کی ضرورت ہے اس کی راہ میں رکاوٹیں ، تحفظات دور کر کے اسے بھی قابلِ عمل بنایا جاسکتا ہے ۔