- الإعلانات -

عزیر احمد خان کا تکلف برطرف حوثی اور امریکی یوٹرن،مریم نواز کی سیاست باپ کو لے ڈوبی

امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن کے حلف اٹھانے کے بعد دنیا کے حالات تبدیلی کی جانب گامزن ہیں، جیسا کہ ہم نے ایک دن پہلے ہی بتادیا تھا کہ امریکہ کی کیا پالیسی ہوگی اور وہ خطے میں کس طرح کی تبدیلیاں لائیگا، اب ہم یہاں یہ بتانے جارہے ہیں کہ جوبائیڈن نے جو بات کہی ہے کہ وہ دنیا کی طاقتور ترین قوم ہیں تو اب یہ اس کی خام خیالی ہی ہوگی۔ آنیوالے وقتوں میں چین دنیا پر راج کرنے کیلئے تیار ہے، وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خاموشی سے اپنی معیشت کو مضبوط کررہا ہے آج وہ اس جگہ پر آگیا ہے جہاں وہ امریکہ کا باقاعدہ مقابلہ کرسکتا ہے اور امریکہ کو بھی اس سے خطرہ ہے اسی وجہ سے امریکہ اور چین کے مابین معاشی جنگ جاری رہتی ہے، آج سی پیک کی وجہ سے دنیا بھرمیں چین چھا رہا ہے۔ یہاں ہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں، کپتان کی خارجہ پالیسی انتہائی کامیاب رہی انہوں نے سب سے پہلے جوبائیڈن کو مبارکباد دی اس اعتبار سے عمران اور ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مبارکباد کے مستحق ہے،خطے میں جس طرح حالات کروٹ بدل رہے ہیں، امریکی صدر جوبائیڈن کے نامزد وزیر خارجہ انٹونی ہلنکن نے کہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ حوثی باغیوں کو دہشتگرد قرار دینے اور یمن میں جاری جنگ کے معاملے پر سعودی عرب کی حمایت پر نظر ثانی کریگی۔ سعودی عرب نے یمن میں بدترین انسانی بحران پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں باغیوں پر جو پابندیاں عائد کیں ہیں ان کی وجہ سے حوثیوں کو مذاکرات کے میز پر لانا مشکل ہوگا۔ یہ بات انتہائی معنی خیز ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں امریکہ بھارت کا کردار خطے میں کم کرنے جارہا ہے وہاں پر سعودی عرب کے حوالے سے بھی اس نے واضح پالیسی دیدی ہے۔ اب وہ افغانستان والا کھیل یمن میں کھیلنے جارہا ہے۔ اگر امریکہ حوثیوں کے ساتھ اپنے معاملات درست رکھتا ہے تو پھر لامحالہ ایران کے ساتھ بھی کہیں نہ کہیں نرم گوشہ اختیار کریگا چونکہ حوثیوں کے پیچھے ایران کار فرما ہے اور حوثی سعودی عرب سے نبردا آزما ہے، لہٰذا جوبائیڈن ایک تیر سے دو شکار کھیلے گا۔حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کو غیر مستحکم کیا جائیگا۔عرب صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے وہ سعودی ولی عہد کو دباؤ میں لائیگااور پھر اس کے بعد وہ اپنے معاملات سیدھے کریگاچونکہ جوبائیڈن نے اس حوالے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اس عرب صحافی کے قتل کے رپورٹ کو منظر عام پر لائیگا تو اس میں سعودی ولی عہد گرد گھیرا تنگ ہوگا اور پھر حوثیوں کے حوالے سے بھی اس نے واضح پالیسی دیدی ہے۔ کشمیریوں سے بھی جو وعدے کئے تھے وہ بھی جوبائیڈن کو پورے کرنے ہونگے اسی لئے بھارت کے حوالے سے اس نے گائیڈ لائن دیدی ہے۔ ٹرمپ اور مودی کی کمیسٹری آپس میں ملتی تھی اسی وجہ سے بھارت اس خطے کا چوہدری بننے کا خواب دیکھ رہا ہے جو اب چکنا چور ہوتے جارہے ہیں، ہمارے ملک کے اندرونی سیاسی حالات بھی کسی حد تک درست ہوجائینگے چونکہ پی ڈی ایم کی سیاست کو بین الاقوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی، پھر رہی سہی کسر براڈ شیٹ نے پوری کردی گوکہ مریم نواز اس حوالے بہت شور مچارہی ہے لیکن اصل حقیقت ہے کہ انہوں ہی والد نواز شریف کی سیاست کی کمر میں چھورا گھونپ دیا ہے جیسا کہ وزیر داخلہ نے کہا یہ پانامہ ٹو آرہا ہے اس میں اپوزیشن بری طرح پھنسے گی،دوسری جانب وزیر اعظم نے بھی فارن فنڈنگ کے حوالے سے چیلنج دیدیا ہے کہ اس کی اوپن سماعت ہونی چاہیے قوم کو پتہ چلنا چاہیے کہ کس پارٹی نے کس کس طرح فارن فنڈنگ لی ہیں، تینوں بڑی جماعتوں سمیت فضل الرحمن بھی سماعت میں بیٹھے ہوں اور عوام بھی جان سکے کہ اصل گھپلا کیا ہے۔ اس فارن فنڈنگ کیس میں بہت سارے لوگ پھنس جائینگے، ممکن ہے کہ سیاست میں کچھ نہ کچھ بھل صفائی ہوجائے، ساتھ ساتھ براڈ شیٹ کیس بھی چل رہا ہے یہ دونوں ایسے کیسز ہیں جو پاکستان کی سیاست کی رخ کو بدل دینگے، آج چور چور کا شور مچانے والے کل قوم سے منہ چھپاتے پھیریں گے،جس طرح بائیڈن کے صدر بننے کے ساتھ دنیا کے حالات تبدیلی کی جانب گامزن ہے اور اسی طرح براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کے بعد پاکستان کی سیاست بھی نئے موڑ پر کھڑی نظر آرہی ہے۔ ضرورت اس امر کی کہ اب اپوزیشن بھی اس حوالے سے واضح فیصلہ کرے گوکہ پیپلز پارٹی نے یہ چیلنج قبول کرلیا ہے۔دیگر پارٹیوں کی جانب سے مثبت اقدام سامنے آنے چاہیے، براڈ شیٹ کو ادائیگی کے حوالے سے جو بھی مسئلہ درپیش ہے اس کو بھی عوام کے سامنے رکھا جائے اس کے بعد پاکستان کی سیاست میں نئے اصول و ضوابط طے ہونگے۔ سیاسی ماحول بدل جائیگا۔بہت سے سیاستدان قصہ پارینہ بن جائیں گے۔یہ سب کچھ ہونا چاہیے آخر کب تک ہمارا ملک کرپشن کے ناسور کا شکار رہیگا۔