- الإعلانات -

مسلمان اور عالمی استعمار

گزشتہ سے پیوستہ

(جس میں مسلمان ممالک بدقسمتی سے آپسی لڑائی جھگڑے اوراختلافات کے باعث پھنستے جارہے ہیں ) یہ مسلمانوں کے خلاف ’’صلیبی جنگ ‘‘کی طرف اُن کا ایک بڑھتاہواقدم ہے جس کے متعلق اظہارنائن الیون واقعہ کے بعد اُس وقت کے امریکی صدربش نے اپنی تقریر میں ’’کروسیڈ‘‘کے لفظ استعمال کرکے کیا تھامگر بعد میں واقفان حال کے انکشافات پریہ کہہ کرالفاظ واپس لے لیے کہ غلطی سے منہ سے نکل گئے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ ایسے ہی نہیں نکل گئے تھے بلکہ تہہ شدہ منصوبے کا حصہ تھے ۔ آج دنیا میں ہر طرف جاری امریکی جارحیت اوروہاں صرف ہوتے مسلمانوں پر ہی مظالم، یہودیوں کے ایجنڈے اوراُن کے مقاصد کو واضح کر رہے ہیں کہ اُن کے عزائم کیا تھے اور کیا ہیں ۔ میرے بھائی ناصر ناکا گاوا،آپ سے گزارش ہے کہ آپ ساری دنیا گھومے پھرے مگر خدارا حقائق کی درست عکاسی کیا کریں ،حقائق کوتوڑ مروڑ کر یہودیوں کی خواہش کے مطابق پیش نہ کیا کریں ۔ جہاں آپ بیرون ملک وہاں جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی عورتوں کی کہانی بیان کرتے اُن کے غلط ہونے کے باوجوداُن کے متعلق محتاط زبان استعمال کرتے ہیں کہ بات بھی ہوجائے اور اُن کی دل آزاری بھی نہ ہو تواِسی طرح مسلمان ،اسلام اور شعائر اسلام کے متعلق بھی بات کرتے احتیاط کادامن ہرگز نہ چھوڑا کریں ۔ آپ کی کتاب ’’دنیا میری نظر میں ‘‘ ایک اچھی کاوش ہے ۔ دنیا کے متعلق آپ بہت جانتے ہیں کچھ اپنے بارے میں بھی جان کر دیکھیں ناں ،یقینا آپ میں بہت بہتری اورنکھار آئے گا ۔ خدارا اسلام کی منفی تصاویر پیش نہ کیا کریں ۔ اسلام غالب آنے کےلئے آیا ہے اور پوری دنیا میں پھیل کر رہے گا اوراِس کی تعلیمات بڑی واضح،سچی اور ہدایت والی ہے جو سمجھنے والے کے قلوب وارواح میں اطمینان وسکون بن کر اُتر جاتی ہے ۔ کامیابی ہے اسلام میں ،مسلمان ہونے میں ،جہاں تک یہودوانصاری کی بات ہے اُن کواُن کے کرموں کا پھل دنیا میں ہی دے دیا جائے گا، آخرت میں اُن کے لیے کچھ نہیں رکھاہوا اور یہ کسی نام نہادفلسفی یا دانشور کا قول نہیں ہے بلکہ رب ذوالجلال کافرمان عالی شان ہے جس کی حقیقت اٹل ہے جس سے کوئی بھی ذی روح انکار کی جرات نہیں کرسکتاہے ما سوائے کافروں کے، مشرکوں کے،بدبختوں کے اور ایسے سرکش لوگوں کاٹھکانہ دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ آپ نے تو صرف دنیا گھوم پھر کر اِن کا حالات حاضرہ لکھا،یہاں پر تو بہترین کتابیں ، کہانیاں ،ڈرامے، فیچر، افسانہ اورکالم لکھنے والوں کا ایک انبوہ پھرتا ہے کہ اُنہیں پڑھے تودل ہی نہیں بھرتا ہے ۔ آپ کی کتاب کوئی ایساکمال یا شاہکار نہیں ہے جودادوتحسین پائے اور نہ ہی ایسی بات کہ کہا جائے کہ اندھوں کے دیس میں آئینہ بیچ رہا ہوں ۔ بیرون ملک چند ملکوں کی سیر کرکے اور اُن کے حالات زندگی اور رہن سہن کو صفحہ قرطاس پر بکھیر کر ادبی دنیا کے لوگوں سے دادوتحسین حاصل کرکے اپنی اِس’’ ادائے فریبانہ‘‘ پر جس کوآپ ادب کی خدمت کہتے نہیں تھکتے ،جسے لکھنا کوئی ایسا کمال بھی نہ ہے آپ نے دیکھا اور بیان کردیا، کوئی بھی دیکھنے اور پرکھنے والا انجام دے سکتا ہے بس اتنی سی کہانی ہے یہ اتنا شور کا ہے کوبھائی اور آخری بات یہ جو آپ نے اپنی کتاب میں کہی کہ جاپانی قوم مسلمان تو نہیں ہے مگر مسلمانوں سے بہتر ہے کسی بھی طرح درست بات نہیں ہے جس پر آپ اپنے ہی ایک مضمون میں اِن کی ڈیوٹی کے بعد والی اخلاقیات پر مفصل روشنی ڈال کر خودہی کر چکے ہیں مجھے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بہرحال جاپانی قوم جتنی بھی مہذب کہلوالیں ،جتنی بھی صفائی پسند ہوجائے،جتنی مرضی قانون کی پاس دار بن جائے،اِن کا کوئی بھی کام مسلمانوں سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا ہے ۔ مسلمان ہی روئے زمین پر سب سے اچھی اور بہتر قوم ہے اور ’’بحیثیت امت محمدی‘‘ اِن جیسا کوئی نہیں ہے ۔ کائنات میں اگرکوئی مثال ہے تو مسلمان اور نہیں کوئی مثال دا تووہ محمدعربیﷺ کی ذات پاک ہے ۔ دنیوی و آخروی زندگی کی بقاء صرف اور صرف مسلمان ہونے میں ہے باقی سب ایک سراب اوردھوکا والی بات ہے جس میں وہ پڑے ہوئے مسلسل گھاٹے میں ہیں ۔ نوٹ ۔ یہ تمام باتیں مستند اور حقائق پر مبنی ہے اس سے کسی کی دل آزاری ہرگز مقصود نہیں ہے ۔ میرایہ سب کچھ بیان کرنے کامقصد بطوراصلاح مسلم معاشرے میں بہتری چاہناہے اورایسے لوگوں کو باور کرواناہے کہ ایک مسلمان فرد ہوتے ہوئے بھی آپ کی اسلام اور مسلمان بارے سوچ انتہائی سطحی ہے ۔ اللہ چاہی نہیں ،من چاہی ہے ۔ یہ سب باتیں مصنف ناصر ناکاگاواکی کتاب ’’ دنیا میری نظر میں ‘‘ میں واضح طورپرموجود ہیں جس کا میں نے انتہائی گہرائی سے مطالعہ کیاہواہے ضرورت پڑنے پر سب کے سامنے اِن کی کتاب اپنی بات کی صداقت کےلئے پیش کرسکتاہوں ۔