- الإعلانات -

ساز بدلے گئے ہیں

پاکستان میں حکومت فوجی ہو یا سول، ہمارے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں ۔ ہمارے ان تعلقات کی بنیاد تاریخی بھی ہے اور مذہبی و روحانی بھی ۔ قیام پاکستان سے قبل برصغیر کے باشندوں نے خلافت عثمانیہ کے تحفظ کےلئے تحریک خلافت چلائی، پھر برطانوی راج میں ہوتے ہوئے مسلمانوں نے خلافت عثمانیہ کےلئے مالی امداد بھیجی ۔ یہی وجہ ہے کہ ترک مسلمان پاکستانیوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ برصغیر کے کئی سلاطین کا تعلق ترک نسل کے افراد سے تھا، جن میں خاندان غلاماں ، خلجی سلاطین، تیمور اور پھر مغل حکمران سبھی ترکی النسل تھے ۔ برصغیر کی زبان، ثقافت اور تاریخ ترک اثرات کے بغیر نامکمل ہے ۔ خود اردو لفظ بھی ترکی زبان کا لفظ ہے، جو لشکر گاہ کےلئے بولا جاتا تھا، اسی لئے اردو کو لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے ۔ مولانا روم کی مثنوی معنوی جو بہت عرصہ تک پاکستان کے مدارس میں پڑھائی جاتی رہی، بھی برصغیر کے مسلمانوں کا فارسی زبان اور ترک سرزمین سے روحانی رشتہ استوار کرتی ہے ۔ پاکستان کو تسلیم کرنے والے ممالک میں ترکی صف اول میں شامل تھا، جب دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا تو ترک سفیر کی اسناد وصول کرتے ہوئے قائداعظم نے دونوں ممالک کے مابین موجود روحانی، جذباتی اور تہذیبی رشتوں کا بالخصوص ذکر کیا ۔ ترکی اور پاکستان میں دوستی کا باضابطہ معاہدہ 1951ء اور باہمی تعاون کا معاہدہ 1954ء میں ہوا، جس کے الفاظ کچھ یوں تھے ’’ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کے جذبے کے ساتھ طے پایا ہے کہ سیاسی، ثقافتی اور معاشی دائروں کے اندر اور اس کے ساتھ امن اور تحفظ کی خاطر ہم زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعاون حاصل کرنے کےلئے کوشاں رہیں گے ۔ ‘‘ جہاں ترکی ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی غیر مشروط حمایت کرتا رہا ہے، وہیں 1954ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے قبرص کے مسئلے پر ترکی کا بھرپور ساتھ دیا اور قبرص پر ترکی کے حق کو فائق گردانا ۔ 1962 میں ترک اور یونانی قبرصیوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ۔ ترکی نے مسلم قبرصیوں کے تحفظ کےلئے افواج روانہ کر دیں ۔ جس سے یونان اور ترکی میں بہت بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ۔ تاہم اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی مداخلت کے سبب جنگ ٹل گئی ۔ پاکستان نے اس سارے دور میں ترکی کا ہر طرح سے ساتھ دیا ۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر ترک موقف کی حمایت کی اور ترکی کو مکمل فوجی تعاون کا یقین دلایا ۔ ترک حکومت پاکستان کی حمایت سے بے حد متاثر ہوئی، انہوں نے وزیر خارجہ فریدوں کمال کو خصوصی دورہ پر کراچی بھیجا، تاکہ حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا جا سکے ۔ اگرچہ کشمیر کی طرح قبرص کا مسئلہ بھی ابھی تک حل طلب ہے، تاہم ترک قبرصیوں کی حمایت میں پاکستان کا موقف ہمیشہ ترکی کی حمایت میں اٹل رہا ۔ 1984 میں قبرص کا مسئلہ نئے سرے سے اقوام متحدہ کے سامنے آیا تو پاکستانی مندوب شاہ نواز نے ترک قبرصیوں کے مسلمہ حقوق کی بازیابی کے حق میں زوردار تقریر کی ۔ پاکستان دفاعی معاہدہ بغداد میں ترکی اور عراق کے ساتھ شریک رہا ہے ۔ 1965ء کی جنگ میں ترکی نے پاکستان کو فوجی ساز و سامان، اسلحہ، گولہ بارود اور توپیں فراہم کیں ۔ پاکستانی زخمی فوجیوں کےلئے ڈاکٹرز اور نرسوں کے وفود 1965ء اور 1971ء میں ترکی سے پاکستان آئے ۔ 1964ء میں معاہدہ استنبول کے تحت ترکی، ایران اور پاکستان کے درمیان علاقائی تعاون برائے ترقی (آر سی ڈی) کے نام سے موسوم تنظیم وجود میں آئی ۔ اگرچہ اِس تنظیم نے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی، سیاحتی اور ذراءع آمدورفت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ۔ آج کل یہ تنظیم علاقائی معاشی کونسل کہلاتی ہے ۔ اس وقت پاکستان خصوصاً پنجاب کے بڑے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد میں ویسٹ مینجمنٹ اور کئی بجلی گھر، سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبے ترکی کے تعاون سے چل رہے ہیں ۔ تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ۔ ترک میڈیا کے مطابق سال 2018ء میں پاکستان اور ترکی کے درمیان تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالیت کا فوجی معاہدہ ہوا تھا ۔ اسی طرح ترک فوجی پاکستان میں آکر تربیت لیتے ہیں اور پاکستانی فوجی ترکی جا کر ۔ قدرتی آفات کے دوران بھی دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام بھی دل کھول کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ 2005ء کے زلزلے میں ترکی نے 150 ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا، اسی طرح پاکستان نے ترکی میں آنے والی 1999ء اور 2011ء کے زلزلے میں ترک عوام کی دل کھول کر مدد کی ترکی وہ اسلامی ملک ہے جس نے 625سال تک 3براعظموں پر حکومت کی ۔ اُس وقت ترکی کا نام ’’اناطولیہ‘‘ تھا ۔ قائی قبیلے کے ارتغرل غازی کی بہادری نے اسلامی دنیا کے سر فخر سے بلند کردیے تھے جس کے بعد اُن کے بیٹے عثمان غازی نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی جس نے ایک طویل عرصے آدھی سے زائد دنیا پر حکمرانی کی مگر آج سے تقریباً 100سال پہلے اسلامی دنیا کا یہ عظیم ملک انگریزوں کی سازشوں اور اپنوں کی غداریوں کی وجہ سے زوال پذیر ہوگیا اور شکست کے بعد عظیم سلطنت عثمانیہ کا حصہ 40سے زائد اسلامی ممالک میں تقسیم ہوگیا اور غیرترک ریاستوں کو آزادی دے دی گئی جس کے بعد24جولائی 1923کو ترکی کے ساتھ سوءٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں برطانیہ، آئرلینڈ، فرانس، روس، اٹلی اور جاپان نے ایک معاہدہ کیا جسے ’’لوزان معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اس معاہدے کی رو سے ترکی کی معیشت اور دیگر امور پر پابندیاں عائد کردی گئیں ، ترکی میں خلافت ختم کرکے اسے سیکولر ملک قرار دے دیا گیا، تیل نکالنے کی اجازت سلب کرلی گئی، آبنائے باسفورس (بحیرہ مردار) کو بین الاقوامی راستہ بنادیا گیا جس کی رو سے ترکی اپنے سمندری راستے سے گزرنے والے غیر ملکی بحری جہازوں سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کریگا ۔ اِن شرائط پر عمل کرتے ہوئے مصطفی کمال اتاترک نے سیکولر حکومت کی بنیاد رکھی اور ترکی کو نئے سرے سے منظم کرکے انقرہ کو جدید ترکی کا دارالحکومت بنایا ۔ ترکی نے لوزان کے معاہدے تحت عائدپابندیوں کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے اور آج ترک صدر طیب اردوان کی حکومت نے آئی ایم ایف کا تمام قرضہ ختم کرکے ترکی کو آئی ایم ایف کے چنگل سے باہر نکال لیا ہے ۔ ترکی یورپی یونین کسٹم کا ممبر ملک ہے جس کی وجہ سے ترکی کو یورپی یونین ممالک میں ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی سہولت حاصل ہے ۔ ترکی میں آبنائے باسفورس پر قائم باسفورس پل ایشیاء کو یورپ سے ملاتا ہے ۔