- الإعلانات -

امریکہ کے چھیالیسوےں صدر جو بائیڈن ۔ ۔ ۔ !

جوبائیڈن نے امرےکہ کے 46 وےں صدر کا قلمدان سنبھالا ۔ ےہ دنےوی لحاظ سے بہت بڑا عہدہ اور اعزاز ہے ۔ چےف جسٹس جان رابرٹ نے جوبائےڈن سے حلف لیا ۔ جوبائیڈن کی تارےخ پیدائش20 نومبر 1942ء ہے اور آپ رےاست پینسلوینیا کے شہر سکرےنٹن میں پیدا ہوئے تھے ۔ 1965ء میں ےونےورسٹی آف ڈےلاوئےر سے بےچلرز کی ڈگری حاصل کی اور1968ء میں سائرہ کوز ےونےورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ 1972ء میں 29سال کی عمر میں سےنٹ کی نشست جےت گئے تھے لیکن کامےابی کے فوراً بعد ٹرےفک حادثے میں مضروب ہوئے ۔ اسی حادثے میں ان کی اہلیہ اور بےٹی فوت ہوگئےں تھےں جبکہ وہ اپنے بےٹوں بےو اور ہنٹر کے ہمراہ ہسپتال میں داخل ہوگئے ۔ آپ نے ہسپتال کے کمرے سے سےنےٹر کی حےثےت سے حلف اٹھاےا ۔ مئی2015ء میں جو بائیڈن کو دلخراش اور ناقابل فراموش حادثے سے دوچار ہونا پڑا ، جب ان کا سب سے بڑا بےٹا بےوجو بائیڈن دماغی کینسر کے سبب موت کا شکار ہوا ۔ اس واقعہ سے ان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اور ےہ ان کےلئے ناقابل برداشت صدمہ تھا ۔ احباب و اقارب کی کاوشوں اورخود ہمت کی تو دوبارہ مےدان میں آگئے ۔ اےک مرتبہ انھوں نے ڈےموکرےٹک نےشنل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ;34; میں جانتا ہوں کہ کھبی کھبی زندگی کتنی بے معنی اور درد بھری ہوسکتی ہے لیکن میں نے دو چےزےں سےکھی ہیں ۔ (الف ) آپ کے قرےبی اور پیارے اس زمین کو چھوڑ سکتے ہیں لیکن وہ کھبی بھی آپ کے دل سے دور نہیں ہونگے ۔ (ب)تکلیف، نقصان اور غم میں ہی بہترےن راستہ اور مقصد تلاش کرسکتے ہیں ۔ جو بائیڈن نے تےن مرتبہ امرےکی صدارتی انتخابات میں حصہ لیا ۔ پہلی مرتبہ 1988ء ، دوسری مرتبہ2008ء اور تےسری مرتبہ 2020 میں حصہ لیا ۔ آپ تےسری مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیکر کامےاب ہوئے ۔ پہلی مرتبہ 1988ء میں صدارتی امیدوار تھے ،آپ پر تقرےر کی چوری کا الزام لگا تو آپ اس مقابلے سے باہر ہوگئے ۔ دوسری مرتبہ 2008ء میں پھر آپ نے قسمت آزمائی کی لیکن آئےووا کاکس میں اےک فیصد سے بھی کم ووٹ ملنے کے سبب ناکام ہوئے ۔ آخر کار تےسری مرتبہ ٹرمپ کو شکست دے کر جےت گئے اورواءٹ ہاءوس میں بحےثےت امرےکی صدر قدم رکھنے میں کامےاب ہوگئے ۔ جوبائیڈن نے1990ء میں کوسوو تنازعہ میں سربےا کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا ۔ 1987ء سے1995ء تک عدلیہ کمیٹی کے سربراہ رہے ۔ 2001ء سے 2003 ء اور 2007ء سے2009ء تک دو مرتبہ امرےکی سےنےٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ رہے ۔ 2009ء سے2016ء تک بارک حسےن اوبامہ کے صدارتی دور میں آٹھ سال امرےکہ کے نائب صدر رہے ۔ بارک حسےن اوبامہ نے امرےکہ کے اعلیٰ ترےن اعزاز صدارتی مےڈل آف رےڈم سے بھی نوازا تھا ۔ واضح ہوکہ موجودہ امرےکی صدرجو بائیڈن اورسابق امرےکی صدر بارک حسےن اوبامہ گہرے دوست ہیں ۔ جب بارک حسےن اوبامہ امرےکی صدر تھے تو جو بائیڈن کے ساتھ ساتھ ہوتے تھے بلکہ ان کے دائےں ہاتھ تھے ۔ ےہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب بھی بارک حسےن اوبامہ اہم فےصلے کرتے تھے تو جو بائیڈن سے ضرور مشورہ لےتے تھے ۔ جو بائیڈن سےدھا اور صاف بولنے والے ہیں ۔ جو بائیڈن واءٹ ہاءوس کی دوڑ میں متعدد بار لڑکھڑائے اور ان پر الزامات بھی لگے ۔ اس دوران کئی تنازعات کے گرداب میں رہے لیکن ان سب کے باوجود امرےکی عوام نے ان کو ووٹ دیے اور اپنے نئے صدر کے طورپر منتخب کیا ۔ جو بائیڈن نے تقرےب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ;34;جمہورےت کی جےت ہوئی ہے،ےہ دن امرےکیوں کا ہے،ےہ دن جمہورےت کا ہے ،ےہ تارےخی دن اپنے ساتھ امےد لاےا ہے، امریکہ کو مشکلات درپیش ہوئےں لیکن شہرےوں نے اس چےلنج کا مقابلہ کیا ، امرےکہ اےک عظےم ملک ہے،آج ہم اےک امےدوار کی جےت نہیں بلکہ جمہورےت کی جےت منا رہے ہیں ۔ آج بھی امرےکا کو بےک وقت نسل پرستی اور کورونا کے چےلنجز کا سامنا ہے،ہم سب ملکر کورونا وائرس کے بحران سے نکل آئےں گے ۔ دنےا ہماری طرف دےکھ رہی ہے، ہ میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے ۔ بہت کچھ بحال کرنا ہے اور بہت کچھ تعمےر کرنا ہے ۔ ;34; انھوں نے اپنے خطاب میں مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ ہم پاکستانی قوم موجودہ امرےکی صدرجو بائیڈن کومبارک باد پیش کرتے ہیں اور نےک تمناءوں کا اظہار کرتے ہیں ۔ وزےراعظم پاکستان عمران خان نے بھی مبارک باد اور پاک امرےکا بہترتعلقات کا پیغام ارسال کیا ہے ۔ بلاشبہ امرےکہ عظےم ملک ہے ۔ دنےا میں امرےکا کاکردار ہرلحاظ سے اہم رہا ہے ۔ دنےا میں امرےکا کا مثبت کردار بھی رہا ہے اور منفی بھی ۔ امرےکا کے کسی کردار کو مخفی نہیں رکھا جاسکتا ہے ۔ امریکا نے ماضی میں جنگ و جدل میں حصہ لیا جس میں لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے ، لاکھوں افراد مضروب ہوئے ۔ لاکھوں بچے ےتےم ہوگئے اور لاکھوں خواتےن بےوہ ہوئےں ۔ جنگوں سے جانی و مالی نقصانات اندازے سے بہت زےادہ ہوتے ہیں ۔ جنگوں کا انجام اچھا نہیں بلکہ برا ہوتا ہے ۔ جنگوں میں دونوں فرےقےن کا بے حد نقصان ہوتا ہے ۔ اس جدےد دور میں بھی انسان کو انسان سے خطرات لاحق ہیں ۔ آج انسانوں کی وجہ سے لاکھوں انسان بھوک اور افلاس کا شکار ہیں ۔ ےہ کیسی ترقی ہے اور ےہ کیسی کامےابی ہے;238;ےہ ترقی نہیں ہے اور نہ ہی کامےابی ہے ۔ انسانوں کی درجہ بندی لسانی، مذہبی، علاقائی ،رنگ و نسل کی بنےاد پر کیوں کررہے ہیں ;238;کیا سب انسان برابر نہیں ہیں ;238; انسانوں کی درجہ بندی لسانی، مذہبی، علاقائی ،رنگ و نسل کی بنےاد نہیں کرنی چاہیے ۔ اب دقےانوسی سوچ کو بدلنا ہوگا ،جنگ وجدل کی سوچ بدلنا ہوگی اور اےک دوسرے پر قبضے کی سوچ بدلنی ہوگی ۔ اب اےک انسان کو دوسرے انسان کے دست و بازو بننا ہوگا، تب دنےا حقےقی ترقی کرے گی ۔ پھر اےسا نہیں ہوگا کہ اےک انسان دو وقت کھانے کے لئے ترس رہا ہو جبکہ دوسرا دولت کے بل بوتے پر عےاشی کررہا ہو ۔ اب امریکا سمےت سب کو بدلنا چاہیے ۔ اب اپنی سوچ بدلو اور دنےا بدلو پالیسی اختےار کرنی چاہیے ۔ اب دنےا میں جنگ نہیں امن کےلئے سب کو ےکجا ہوناچاہیے ۔ دولت کی غےر منصفانہ تقسےم کو ختم کرنا چاہیے ۔ اب بھوک و افلاس اور امراض کے خلاف جنگ کرنی چاہیے ۔ امرےکی صدر مسٹرجو بائیڈن !آپ دنےا کی قےادت اور رہنمائی کرےں ۔ دنےا کو بتا دےں کہ اب جدل نہیں بلکہ بزنس ہوگا ۔ اب گولی نہیں چلے گی بلکہ بات ہوگی ۔ اب دشمنی نہیں بلکہ دوستی ہوگی ۔ اب دےوار نہیں بلکہ پل ہوگی ۔ اب نفرت نہیں محبت ہوگی ۔ اب انتقام نہیں بلکہ احترام ہوگا ۔ مسٹر وبائےڈن !انسانوں کی کدورتےں ختم کرےں اور ہتھےاروں کی ٹرےڈ کو ختم کرےں ۔ دنےا کو قبرستان میں نہیں بلکہ گلستان میں تبدےل کرےں ۔ انسانوں کو آپس میں قرےب لانے کےلئے کردار ادا کرےں ۔ خوبصورت دنےا اور لوگوں کےلئے اپنا مثبت کردار ادا کرےں ۔ انسانوں کے سروں پر نہیں ،دلوں پر راج کرےں ۔ مسئلہ کشمےر اور مسئلہ فلسطین کو بھی حل کرانے کےلئے اپنا رول ادا کرےں کیونکہ ان مسائل سے جنوبی اےشےاء اورخطہ عرب میں پائےدار امن قائم ہوجائے گا ۔ قارئین کرام!حقےقت ےہ ہے کہ اس دشت میں امرےکہ کا کلیدی رول ہے ۔ امرےکی صدر جوبائےڈن مثبت سوچ کے مالک ہیں ، وہ دنےا کی ترقی، امن اور خوشحالی کےلئے اہم کردار ادا کرسکتے ہےں اور اس سے دنےا کے سبھی ممالک پر خوشگوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ علاوہ ازےں جوبائےڈن کادنےا کے لئے مثبت کردار ادا کرنے میں پاکستان بھرپور تعاون کرے گا ۔ پاکستان دنےا میں امن ، بزنس ،ترقی اور خوشحالی چاہتا ہے ۔ پاکستان سمےت زےادہ ممالک دنےا میں امن اورشانتی چاہتے ہیں ۔ جہاں امن ہوتا ہے ،وہاں کاروبار ہوتا ہے ، جہاں کاروبار ہوتا ہے ، وہاں سکون ،ترقی اور خوشحالی ہوتی ہے ۔ لہٰذا سب کو امن اور بزنس کےلئے کوشش کرنی چاہیے اورامرےکی صدر جوبائےڈن کو مساوات، امن اور بزنس کا علم بلند کرنا چاہیے ۔