- الإعلانات -

بھارتی مسلمانوں کے خلاف ’لینڈ جہاد‘

بی جے پی کی حکومت والے تمام بھارتی صوبوں میں لو جہاد کے نام پر غیر انسانی کارروائیاں جاری ہیں ۔ اب اسی قانون کی ایک نئی کڑی کے طور پر مودی سرکار اپنی اکثریت والے تمام صوبوں میں ’’لینڈ جہاد‘‘ کا سلسلہ شروع کرنے جا رہی ہے ۔ اس کارروائی کیلئے پہلے بھارتی صدر رام ناتھ کوونڈ سے ’’ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ‘‘ کا آرڈیننس پاس کرایا جائے گا اور مسلمانوں سے ان زمین چھیننے کا باضابطہ اختیار بھی مودی سرکار کو حاصل ہو جائے گا ۔ صوبہ گجرات میں اکتوبر 2020 میں یہ آرڈیننس نافذ کیا گیا تھا ۔ اس قانون کے تحت مسلمانوں کی بیشتر اراضی پر آر ایس ایس اپنی عمارات کھڑی کر چکی ہے ۔ یہی نہیں گجرات میں 20 سے زائد قبرستان بھی قانون کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔ اس قانون کی بدولت گجرات میں ہندو مسلم کشیدگی اس قدر شدید ہو چکی ہے کہ گجرات کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وکرم ناتھ نے آرڈیننس کے نفاذ پر حکم امتناعی جاری کیا ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے کوشش کی گئی ہے کہ اس قدم کے ذریعے کشیدگی کی فضا کو زائل کیا جا سکے ۔ بھارتی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھی اسی قانون کی آڑ میں زمینوں پر قبضہ کر کے بھارتی غاصب فوج کو کالونیوں کیلئے زمین الاٹ کی جا رہی ہے ۔ گو دہلی کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں یہ قانون نافذ نہیں ہے ۔ اب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں مہاجر ہندو پنڈتوں کیلئے علیحدہ کالونیاں قائم کرنے اور جموں وکشمیر کو ہندو مسلم فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کاپروگرام بنایا ہے ۔ اس سلسلے میں ریاستی گورنر ستیا پال ملک کی سربراہی میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریٹو کونسل نے وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں 1680فلیٹوں پر مشتمل ٹرانزٹ کیمپوں کی تعمیر شروع کردی ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج نے بزور بندوق مقبوضہ کشمیر کی سرزمین پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ کہیں فوجی کیمپ ، کہیں فوجی افسران کی رہائش گاہیں اور کہیں فوج سے متعلق دوسری عمارات ۔ اس وقت ریاست کی سات لاکھ کنال سے زائد اراضی بھارتی فوج کی تحویل میں ہے ۔ ریاست میں 671 فوجی کیمپ قائم ہیں جو سب زرعی زمین پربنائے گئے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد سات لاکھ سے زائد ہے اور اس کے کنٹرول میں سات لاکھ کنال اراضی ہے یوں ہر فوجی ایک کنال زمین کا مالک ہے ۔ وادی کے باشندے ایک ایک مرلہ زمین کےلئے ترس رہے ہیں وہاں ہندوستانی فوج سب سے بڑی لینڈ لارڈ اور جاگیر دار بنی ہوئی ہے ۔ یہ تو وہ زمین ہے جس کا سرکاری اندراج ہے اس کے علاوہ وہ اراضی جو زبردستی قبضے میں لی جارہی ہے اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ۔ 16 کنال زمین فوج کو کرائے پر دینے کے عوض صرف چار ہزار روپے سالانہ ملتے ہیں اگر اس رقبے پر صرف گھاس ہی اگائی جائے تو سالانہ بیس ہزار روپے حاصل ہوتے ہیں ۔ گلمرگ کی جس زمین پر فوج نے قبضہ کیا ہے اس کا معاوضہ بیس کروڑروپے سے کم نہیں ۔ فوج سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں نے ریاست کی 340 مربع کلومیٹراراضی پر قبضہ جمائے رکھا ہے اور مزید اراضی پر بڑی تیزی سے قبضہ کیا جا رہا ہے ۔ پام پور دنیا بھر میں زعفران کی کاشت کےلئے مشہور ہے یہاں ایک ہزار کنال زمین حال ہی میں سی آر پی ایف نے اپنے ہیڈ کوارٹر کی تعمیر کے لئے چھینی ہے ۔ اسی طرح اونتی پورہ کی نہایت ہی قیمتی زمین پر انڈین ایئر فورس کا بیس ہے مزید وہاں وزارت دفاع 800 ایکڑ زمین ہتھیانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ سیاحتی مرکز گل مرگ میں چار سو ایکڑ اراضی پر فوج نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔ چک گوجری رہامہ میں 1362 کنال اراضی نیم فوجی دستے سستے داموں میں خریدنا چاہتے ہیں ۔ مانسہل جھیل نواح میں بھیڑ فارم کی 1375 ایکڑ زمین پر 1991ء میں ہی بھارتی فوج نے قبضہ کر لیا تھا ۔ ان کے علاوہ صوبہ ناگا لینڈ میں ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ کے تحت بھارتی سیکورٹی فورسز کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے جس جگہ یا عمارت میں چاہیں اپناسیکورٹی آپریشن کر سکتی ہیں ۔ 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد ناگا لینڈ نے بھارت سے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے 14 اگست اپنے 73 ویں یوم آزادی کے طور پر منایا تھا ۔ ناگا لینڈ میں یوم آزادی کے حوالے سے باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ناگا لینڈ کا قومی پرچم اور قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا ۔ چیئرمین نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالزم (این ایس سی این) یروئیوو ٹکو کا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ بہت زیادہ چیلنجز ہیں لیکن بھارت سرکار اور این ایس سی این کو سیاسی ذہانت کے ذریعے ان معاملات کو حل کرنا چاہیے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناگا لینڈ کے عوام اپنے آباوَ اجداد کے قومی فیصلے پر بالکل مطمئن ہیں کہ ناگا لینڈ 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور ہم ناگا لینڈ کی عوام کے درمیان تقسیم کرنے والے کسی بھی بیرونی فیصلے کو تقسیم نہیں کریں گے ۔ ناگا لینڈ کی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کی آزادی کا اعلان کیا گیا اور ناگا لینڈ کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ناگا لینڈ کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا کیونکہ ہماری اپنی زبان، اپنا مذہب اور اپنا کلچر ہے لیکن بھارت نے 1947 سے بعد جس طرح مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا بالکل اسی طرح ناگا لینڈ پر بھی قبضہ کر رکھا ہے ۔ ناگا لینڈ بھارت کے شمال مشرق میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پہاڑی خطہ ہے اور یہاں کے لوگ قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے ہیں ۔ محتاط اندازے کے مطابق ناگا لینڈ کی 88 فیصد آبادی غیر ہندو مذاہب سے تعلق رکھتی ہے جس میں سے 67 فیصد عیسائی جبکہ باقی دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ 1951 میں ہونے والے ریفرنڈم کے مطابق ناگا لینڈ کی 99 فیصد سے بھی زائد عوام نے بھارت سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارت نے وہاں اپنی فورسز کو بھیج کر قبضہ کر لیا تھا ۔