- الإعلانات -

عوام کی بہتری کےلئے حکومت پُرعزم

بلاشبہ بجلی اور پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے سے مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے جس سے غریب مشکل ترین صورتحال سے دوچارہے ۔ موجودہ مہنگائی نے غریب لوگوں سے ان کی خوشیاں چھین لی ہیں ۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب ;200;دمی بری طرح متاثر ہوا ہے اور لوگوں کی قوت خرید سے چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں ۔ ;200;ئے روزمہنگائی برداشت کرنے کی سکت اب اس قوم میں نہیں ۔ پاکستان کی اکثریت مظلوم قوم کی نگاہیں عمران خان پرجمی ہوئیں ہیں کہ اشرافیہ کے موجودہ نظام کوتبدیل کیاجائے یہ مطالبہ ہر;200;نےوالے دن کے ساتھ زور پکڑتا جا رہا ہے ۔ اگروزیراعظم عمران خان نے قومی اعتمادکوٹھیس پہنچانے کی کوشش کی توپھریہ کہنا بجاہوگا کہ خان صاحب کا حشربھی سابقہ حکمرانوں کی طرح ہوگا ۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری کےلئے فوری اقدامات کئے جائیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ خصوصا گندم اور چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا ۔ عمران خان نے رمضان المبارک میں عوام کو اشیائے خوردونوش کی بلا تعطل اور کم نرخوں پر دستیابی کے حوالے سے تیاری اوربروقت اقدامات کی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ عوامی نمائندوں کو اپنے حلقے کے لوگوں کی فلاح کیلئے قانون ساز اسمبلیوں میں آواز اٹھا کر مثبت کردار ادا کرنا چاہئے ۔ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے عام آدمی کو اشیائے ضرور یہ کی دستیابی اور قیمتوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے ملکی آبادی کی خوراک کی ضروریات کے پیش نظر پیداوار میں اضافے کے حوالے سے ایک جامع اور موثر پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ فوڈ سکیورٹی کے روڈمیپ پر عملدرآمد کے ذریعے جہاں ملک خوراک کی ضروریات میں خود کفیل ہو سکے وہیں درآمدات پر آنے والے اخراجات میں کمی لا ئی جائے ۔ ملکی معیشت میں بہتری ;200;نے سے ہی اندرون ملک میں بڑھتی ہوئی بے لگام مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ جس سے عام ;200;دمی کی زندگی میں بھی بہتری ;200; سکتی ہے ۔ اس وقت ملک میں عام ;200;دمی کی زندگی مہنگائی کے ہاتھوں اجیرن بن چکی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عام ;200;دمی کے ریلیف کےلئے ہرممکن اقدامات کرے ۔ اس کے علاوہ مہنگائی کے ذمہ دار ذخیرہ اندوز اور منافع خوروں کیخلاف سخت ایکشن لے کر ان کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔ وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے اور رمضان المبارک تک قیمتوں کے حوالے سے مانیٹرنگ پر مسلسل آگاہ رکھنے کی ہدایت کی ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے ایک بار پھر سینٹ انتخابات میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی ۔ انہوں نے کہا سینٹ انتخابات میں ماضی میں ہونےوالی ہارس ٹریڈنگ کی تاریخ گواہ ہے ۔ چاہتے ہیں کہ ایوانِ بالا کے قانون ساز شفاف طریقے سے منتخب ہو کر آئیں ۔ وزیر اعظم سے اراکین پارلیمنٹ نے ملاقاتیں کیں ۔ سجاد خان طوری سے ملاقات میں آئندہ سینٹ انتخابات کی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ وزیر اعظم عمران خان سے جاوید آفریدی کی ملاقات میں پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے اعشاریوں پر گفتگو ہوئی ۔ عمران خان سے صوابی سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ نے ملاقات کی ۔ شرکاء نے وزیرِ اعظم کو حلقے کے مسائل اور ان کے حل کیلئے اقدامات سے آگاہ کیا ۔ نیزعمران خان سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایم این اے محمد عاصم نذیر، ایم این اے خرم شہزاد اور شاہد نذیر نے ملاقات کی ۔ شرکاء نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت صنعتوں کی ترقی پر وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کیا ۔ عمران خان سے ظہبی گروپ کے وفد نے بھی ملاقات کی ۔ یقینا موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت عالمی سرمایہ کار کمپنیوں کا پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد بحال ہوا ہے ۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بے پناہ مواقع ہیں ۔ وزیراعظم نے غریب اور کم ;200;مدن طبقے کیلئے منصوبے کی افادیت کے پیش نظر ٹائم لائنز متعین کرنے اور جلد ;200;غاز کی ہدایت کی ہے ۔ علاوہ ازیں عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے ۔ براڈ شیٹ کے معاملے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ۔ پرویز مشرف نے معاہدہ کیا تھا پاکستانیوں کے چوری کئے گئے اربوں ڈالرز بیرون ممالک میں ہیں ۔ پی ٹی ;200;ئی کے خلاف فارن فنڈنگ کا کیس بدنیتی پر مبنی ہے ۔

;200;رمی چیف سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات

;200;ئی ایس پی ;200;ر کے مطابق ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ امید ہے نئی امریکی قیادت کے ;200;نے سے پاک امریکہ تعلقات کو فروغ ملے گا ۔ امریکی ناظم الامور نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ امریکہ افغانستان میں امن کیلئے حمایت جاری رکھے گا ۔ بلاشبہ افغانستان کا امن پورے خطے کے امن سے جڑا ہے ، بیرونی دشمن خاص طورپربھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن ہو ، وہ مذموم پراپیگنڈوں سے بدامنی میں مصروف رہتا ہے ۔ افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے بھارت کا مکمل طور پر عمل دخل ختم کرنا ہوگا ۔ افغان عمل امن کو تیزی سے ;200;گے بڑھانے کیلئے طالبان اور افغان حکومت کے مابین جنگ بندی معاہدہ کرانا اور اس پر بہرصورت عمل کرانا ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان بھی اسی پر زور دے رہے ہیں ۔ ;200;رمی چیف جنرل جاوید باجوہ بھی اس حوالے سے کوشاں رہے ہیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی حمایت کی ہے جس کےلئے پاکستان نے بھرپورکرداربھی ادا کیا ہے ،افغان امن عمل کےلئے پاکستان کے کردار کی پوری دنیا معترف ہے دوحہ مذاکرات پاکستان ہی کوششوں سے ہوئے جس کے بعدجنگ بندی ہوئی اور افغانستان میں امن کی امیدروشن ہوئی ۔ اب بھی پاکستان افغانستان میں امن عمل کےلئے کوششوں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ امیدہے کہ نئی امریکی انتظامیہ بھی افغانستان میں امن کےلئے بھرپور طریقے سے کرداراداکرے گی کیونکہ جوبائیڈن خطے کے حالات کو بڑی اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں ۔ کشمیر اور افغانستان کے مسائل حل ہو جاتے ہیں تو خطے میں امن بحال ہو سکتا ہے جس کے مثبت اثرات عالمی امن پر بھی یقینا پڑیں گے ۔

سٹیٹ بینک کا شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

سٹیٹ بینک نے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ مستقبل قریب میں شرح سود اسی سطح پر برقرار رہ سکتی ہے ۔ معاشی حالت جون 2019 کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ مہنگائی کی شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ بجلی کے نرخ بڑھنے پر مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ ملکی معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں ۔ ابھی وہ بہتری نہیں آئی جو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا خیال تھا کہ طلب میں دباو نہیں ہے کیونکہ ہماری صلاحیت مکمل طور پر زیر استعمال نہیں اور مہنگائی کی پیش گوئی میں توازن ہے ۔ طلب کے دبا ءوکا سامنا نہیں ہے اور افراط زر کی صورتحال مستحکم ہے پہلے کے مقابلے میں معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں ۔ معاشی بدحالی کو سپورٹ کرنے کےلئے مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ عالمی سطح پر ابھی تک کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسوں ، نئی مشکلات کے نمودار ہونے اور دنیا بھر میں ویکسین کی تقسیم کے متعلق پائی جانے والی غیریقینی صورت حال کے پیش نظر اس وبا کی سمت کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے ۔ ایسے بیرونی دھچکے معاشی بحالی کو سست کر سکتے ہیں ۔ کووڈ سے متعلق پائی جانے والی بے یقینی کی روشنی میں زری پالیسی کمیٹی یہ مناسب سمجھتی ہے کہ زری پالیسی پر مستقبل کی رہنمائی فراہم کی جائے تا کہ پالیسی قابل پیش گوئی ہو اور اقتصادی عاملین کو فیصلہ سازی میں سہولت مل سکے ۔ زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ غیرمتوقع پیش رفتوں کی عدم موجودگی میں زری پالیسی کی صورت حال مستقبل قریب میں تبدیل نہیں ہو گی ۔