- الإعلانات -

نو منتخب امریکی صدر کا حلف

نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ امریکہ کے 46ویں صدر بن گئے ۔ نائب صدر کملاہیرس بھی حلف اٹھا کر پہلی امریکی خاتون نائب صدر بن گئیں ۔ حلف اٹھانے کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ کا دن ہے‘ یہ جمہوریت کا دن ہے‘ آج ہم ایک امیدوار نہیں بلکہ ایک مقصد کی کامیابی منا رہے ہیں ۔ صدر نے چیف جسٹس رابرٹس اور نائب صدر کملا ہیرس، سپیکر نینسی پلوسی، مائیک پینس سمیت دیگر کا شکریہ کیا اور کہا کہ آج کا دن جمہوریت کی کامیابی کا دن ہے ۔ کچھ روز کیپٹیل ہل پر حملے نے جمہوری بنیادیں ہلا دی تھیں ۔ آج کسی انفرادی شخص کی جیت یا ہار نہیں ہوئی بلکہ جمہوری عمل کی فتح ہوئی، انہوں نے کہا کہ تاریخ، عقیدے اور دلیل کے ساتھ ہم امریکیوں کو متحد کریں گے، آج کا دن وہ ہے جب ہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکابننا ہو گا، ہ میں اختلافات کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہیے ۔ یاد رہے کہ امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن 1988 اور 2007 میں بھی حصہ لے چکے ہیں ۔ 2009 میں امریکا کے 47 ویں نائب صدر منتخب ہونیوالے جوزف بائیڈن صدر اوباما کے دونوں ادوار میں ان کے نائب صدر رہے ۔ صدر اوباما اور ان کے درمیان مثالی دوستی کو امریکی میڈیا میں بے پناہ کوریج ملی ۔ 2017 میں اپنے دورِ اقتدار کے اختتام پر صدربراک اوباما نے انہیں امریکا کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ’صدارتی میڈل آف فریڈم‘ سے نوازا ۔ جوبائیڈن 20 نومبر 1942 میں ریاست پینسلوینیا کے قصبے اسکرینٹن میں عام محنت کش والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے ۔ اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ جوبائیڈن نے 1966 میں دوران تعلیم ہی پہلی شادی ایک خاتون نیلیہ ہنٹر سے کی، جس سے ان کے یہاں دو بیٹے اورایک بیٹی، بیاو، ہنٹر اور نیومی پیدا ہوئے ۔ بائیڈن نے 1977 میں جِل جیکب سے دوسری شادی کی جس سے ان کے یہاں دوسری بیٹی آشلے بائیڈن پیدا ہوئی ۔ 2015 میں ان کے جواں سال بیٹے بیاو باءڈن چھیالیس برس کی عمر میں دماغ کے کینسر کا شکار ہوکر چل بسے ۔ جو بائیڈن کی سیاست کا آغاز 1972 میں ریاست ڈلاوئیر سے ڈیموکریٹک پارٹی سے سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ہوا ۔ انہوں نے اس وقت ریپبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار جے کیلِب بوگس کو غیر متوقع طور پر شکست دی تھی ۔ وہ سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے والے تھے، ان کی بیوی اور تین بچے کار کے ایک حادثے کا شکار ہوگئے ۔ جس میں اْن کی بیوی نیلیہ اور 13 ماہ کی بیٹی نیومی موقعے پر ہی ہلاک ہو گئے،جبکہ دونوں بیٹے شدید زخمی حالت میں اسپتال لائے گئے ۔ جوبائیڈن نے بچوں کے بیڈ کے ساتھ کھڑے ہو کر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا ۔ اس کے بعد انہوں نے سینیٹ کے جتنے بھی انتخابات لڑے ان سب میں کامیاب ہوئے ۔ جوبائیڈن کو نظریاتی طور پر ایک معتدل سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاہم بعض مبصرین کے مطابق جو بائیڈن نے اکثر موقعوں پر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کی پیروی کی ۔ جو بائیڈن سینیٹ کی اہم کمیٹیوں کے رکن رہے اور پھر کافی عرصے تک خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ۔ انہوں نے روس کے ساتھ اسلحے کی دوڑ پر قابو پانے کا بھی معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ جو بائیڈن نے عراق جنگ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھالیکن بعد میں اسے اپنی غلطی تسلیم کیا ۔ نائب صدر کےلئے ان کی ساتھ ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرِس نے بھی ماضی میں ان پر کڑی تنقید کی تھی ۔ صدر بائیڈن کے حلف اٹھانے سے قبل امریکہ بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ۔ کیپیٹل ہِل سے کئی میل دور بھی سڑکیں بند کر دی گئیں اور وہاں کنکریٹ اور دھات کی رکاوٹیں نصب کی گئیں ۔ کیپیٹل ہِل وہی جگہ ہے جہاں چھ جنوری کو فسادات ہوئے تھے ۔ حلف کی تقاریب کے دوران نیشنل مال، جہاں عام طور پر لوگوں کا رش ہوتا ہے، اسے بھی سیکرٹ سروس کی درخواست پر بند کر دیا گیا ۔ سیکرٹ سروس وہ ادارہ ہے جو امریکی صدور کی حفاظت کرتا ہے اور انھیں سکیورٹی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ بعد میں عہدے سے ہٹ چکے ہوں ۔ امریکی میڈیا کے مطابق جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سابق صدر بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما نے شرکت کی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو بائیڈن کی تقریب سے قبل ہی واءٹ ہاوس چھوڑ کر فلوریڈا میں اپنی رہائشگاہ منتقل ہو جائیں گے ۔ تاہم نائب صدر مائیک پنس جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے ۔ ایک اور صدر جنھوں نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی،ان کا تعلق 1869کے دور سے تھا ۔ اس دوران ڈیموکریٹ صدر اینڈریو جانسن نے جن کا مواخذہ کیا گیا تھا، نو منتخب صدر یولیسس ایس گرانٹ کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ، جانسن کو بہت پسند کرتے ہیں اور انھوں نے بھی کچھ اسی طرح کیا ۔ نا صرف انتخاب کے نتاءج تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شرکت نہ کی ۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے دورِ صدارت کا آغاز صدارتی حکم ناموں سے ہوا ہے اور انھوں نے عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی 15 صدارتی فرمان جاری کیے ۔ ان صدارتی حکم ناموں کے ذریعے ٹرمپ کے جاری کردہ کئی احکامات کو ختم کیا گیا مثلا متنازع سفری پابندیوں کا خاتمہ، پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بحالی اور تمام وفاقی املاک میں لازمی ماسک پہننے کے احکامات اس میں شامل ہیں ۔ نو منتخب صدر کی انتظامیہ جو امریکی ایوانِ صدر ’جسکو عرف عام میں واءٹ ہاوس‘ کہا جاتا ہے،کا حصہ کہلاتی ہے، اس کے چیف آف سٹاف رونلڈ کلائین نے کچھ روز پہلے ہی بائیڈن کے پہلے چند دنوں کے اقدامات کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کر دیا تھاکہ بائیڈن کے چیف آف سٹاف کے مطابق جو بائیڈن صدر بنتے ہی چند اہم معاملات میں سبکدوش ہونے والے صدر ٹرمپ کے کئی اقدامات کو کالعدم قرار دینے کے حکم نامے جاری کریں گے ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی امید دلائی تھی‘ پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی ۔ یاد رہے کہ مودی نے ٹرمپ کی ثالثی کو مسترد کردیا تھا اس پر ٹرمپ نے خاموشی اختیار کرلی ۔ تاہم جلد ہی وہ مودی اور بھارت کے شانہ بشانہ ہو گئے ۔ خطے میں ایسی غیرمتوازن امریکی پالیسی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ بھارت کے ایما پر امریکہ نے پاکستان سے دوریاں اختیار کرنے کا سلسلہ شروع کیا جو بدترین بے اعتمادی اور کشیدگی پر منتج ہوا ۔ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آخری دنوں میں بھارت کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے معاہدے کئے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ جوبائیڈن خطے کے سلگتے مسائل کے پرامن حل کی طرف توجہ دیں گے جس میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل کشمیر ایشو ہے ۔ اسکے بعد افغان مسئلہ ہے ۔ افغان مسئلہ ٹرمپ کافی حد تک طے کرا گئے ہیں ۔ نئی امریکی انتظامیہ ٹرمپ کی افغان پالیسی کو جاری رکھے تو بہتر ہے ۔ کشمیر اور افغانستان کے مسائل حل ہو جاتے ہیں تو خطے میں امن بحال ہو سکتا ہے جس کے مثبت اثرات عالمی امن پر بھی یقیناً پڑیں گے ۔ پاکستان کو جوبائیڈن کے پالیسی خطاب کا انتظار ہے جس کے بعد صورتحال سامنے آئیگی کہ وہ عالمی امن کیلئے کیا سوچ رکھتے ہیں ۔