- الإعلانات -

سیاسی وعسکری قیادت کی اہم ملاقات

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ ملاقات میں قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ بلاشبہ پاک فوج کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ بات سرحدوں کی حفاظت کی ہو یا اندرون ملک دہشت گردی کے معاملات کی پاک فوج ہمیشہ قوم کی امیدوں اور امنگوں پر پورا اتری ہے، بلاشبہ پاک افواج دفاع وطن کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا اعتراف دشمن کو بھی ہے ۔ اس کا بھارتی فوج اور مودی سرکار کو بھی ادراک ہے اسی لئے وہ پاکستان کیخلاف سازشوں کے جال بنتے رہتے ہیں ۔ دشمن کیخلاف جنگ لڑنے کیلئے معیاری اسلحہ اور تربیت یافتہ فوج کا ہونا اولین ضرورت ہے ۔ اسی طرح جنگ جیتنے کیلئے قوم کا سیسہ پلائی دیوار بن کر فوج کی پشت پر ہونا بھی لازم ہے ۔ دشمن پاکستان کی تباہی کے منصوبے تیار کررہا ہے، لہٰذ آج ہماری قومی سیاسی قیادتوں کو بھی مثالی یکجہتی و یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پاک فوج کے سپوتوں نے جانوں کے نذرانے دیکر اس ملک میں امن و امان کی بحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اورآئی ایس آئی کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ آئی ایس آئی اور پاک فوج کی کارکردگی قوم کی نظروں میں قابل فخر ہے اور قوم اس فوج کے شانہ بشانہ ہے جس کے سپوت اپنا آج قوم کے کل پر نچھاور کررہے ہیں ۔ ;200;ج خدا کے فضل سے ملک کا دفاع افواج پاکستان کے مضبوط ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے اور دشمن کی سازشوں کے تحت پیدا ہونیوالے کسی اندرونی خلفشار پر قابو پانے کی ذمہ داریوں میں بھی ہماری سول اور عسکری قیادتیں یکسو ہیں ۔ ملک کی سرحدوں پر دشمن کی جانب سے دیئے جانیوالے چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کیلئے ملک میں سیاسی رواداری اور قومی اتحاد و یکجہتی کی بہرحال ضرورت ہے کیونکہ ;200;ج حکومت اور اپوزیشن کی ذاتی دشمنیوں تک پہنچنے والی باہمی سیاسی محاذ;200;رائی نے ملک میں عدم استحکام اور انتشار کی کیفیت پیدا کر دی ہے جو ملک کی سلامتی کیخلاف دشمن کی سازشیں پایہ تکمیل کو پہنچانے میں سازگار اور مددگار ہو سکتی ہے ۔ ;200;ج قومی سلامتی کے تقاضوں کو دوسرے ہر معاملے پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ مزید براں وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی رہنماءوں کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں ہ میں پھنسانے والے اب خود پھنس چکے ہیں ۔ یقینا وزیراعظم اس حوالے سے پُرعزم ہیں لیکن اب وقت کاتقاضاہے کہ کرپشن کے خاتمے کےلئے عملی اقدامات کئے جائیں چاہے اس میں کوئی بھی ملوث ہواس کوقرارواقعی سزا ملنا ضروری ہے جب مساوات کی بنیاد پرکرپشن کرنےوالوں کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے تو پھریہ ایک مثال ہوگی جس کو وہی شخص پایہ تکمیل تک پہنچاسکتاہے جوخودکرپشن میں ملوث نہ ہو ۔ نیزوزیراعظم نے کہاکہ قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور حکومتی ترجمان قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کریں ۔ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ہر کردار کو سامنے لائیں گے اور براڈ شیٹ سے فائدہ اٹھانے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا ۔ اپوزیشن کی خام خیالی ہے کہ وہ پروپیگنڈا کر کے حقائق چھپا لیں گے ۔ ملک میں اس وقت بھی بہت سے ایسے عناصر ہیں جو قبضہ مافیاکی سرپرستی کررہے ہیں ان کےخلاف کارروائی ضروری ہے ،حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے قبضہ مافیا کوآڑے ہاتھوں لیا اورسرکاری زمین واگزارکرائی ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وباء کے خاتمے تک مقروض ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے ۔ اقوام متحدہ کے زیراہتمام جنیوا میں تجارت وترقی سے متعلق کانفرنس کے چوتھے سیشن سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا بلاتفریق امیر اور غریب سب کو متاثر کررہا ہے، ہ میں لوگوں کو وبا اور بھوک سے ہلاکت سے بچانا ہے ۔ کرونا سے بچاءو کی ویکسین ترقی یافتہ ممالک میں لگائی جارہی ہے، وباء کے تدارک کےلئے سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور ترقی پذیر ملکوں کو بلا تعطل ویکسین فراہم کی جائے، عالمی سطح پر ویکسین کی دستیابی میں ابھی وقت درکار ہے ۔ دنیا کو اس وقت صحت عامہ اور معاشی حوالے سے غیر معمولی بحران کا سامنا ہے، کرونا سے پسماندہ ممالک اور ان کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے جبکہ وبا کی صورتحال میں لاکھوں افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ۔ وباء کے خاتمے تک مقروض ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس سے لڑائی اور معیشت کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کووِڈ19 ویکسین کی یکساں فراہمی کا مطالبہ کر دیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کرونا وائرس کی طرح معاشی عدم استحکام اور مہنگائی بہت تیزی سے پھیلتی ہے لہٰذا لوگوں کی زندگی بچانے، معیشت بچانے اور بہتر تعمیر و ترقی کےلئے میں نے جن اقدامات کا ذکر کیا ہے ان پر فوری عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے ۔ یقینا کرونا وباء سے معیشت تباہ ہوئی اوربیروزگاڑی میں اضافہ ہوا جس کےلئے وزیراعظم عمران خان ترقی پذیرملکوں کےلئے آوازاٹھاتے رہتے ہیں ،بلاشبہ ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں ۔

بھارت کے یوم جمہوریہ پرکشمیریو ں کایوم سیاہ

بھار ت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر سمیت کنٹرول لائن کے آرپارمظفرآباد میں بھی بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طورپر منایا گیا اور مکمل ہڑتال کی گئی جس میں دنیا کو یہ واضح پیغام دیا گیاکہ بھارت جس نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں کو اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ سرینگر، پلوامہ، ترال، کولگام، اسلام آباد، شوپیاں ، کپواڑہ ، ہندواڑہ، بانڈی پور اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں لوگوں کو بھارتی یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کرنے اور اپنے گھروں ، دکانوں اور دیگر عمارتوں پر احتجاج کے طورپر سیاہ جھنڈے لہرانے کی اپیل کی گئی تھی ۔ حریت فورم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ علاقے میں مسلسل ظلم و تشدد کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیریوں کی حالت زار ابتر ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے تک بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نظام تعلیم مفلوج ہوکر رہ گیا ۔ 5اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی فوجی محاصرے سے تعلیمی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے ۔ سکول غیر معمولی فوجی محاصرے کی وجہ سے کئی مہینوں تک بند رہے اور پھر والدین اپنے بچوں کو اس خوف سے کہ بھارتی فورسز انہیں اٹھاکر نہ لے جائیں ، طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔ شوپیاں جعلی مقابلے میں تین نوجوانوں کے قتل کے مقدمے کی چارج شیٹ میں پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ جعلی مقابلے میں ملوث بھارتی فوج کے کیپٹن نے ثبوتوں کو ضائع کرنے کی کوشش کی ۔ بھارتی دہشت گردی زمانے کی ;200;نکھ سے پوشیدہ نہیں رہی ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کے طویل اور بدترین کرفیو سے لیکر بھارت میں اقلیتوں پر مظالم اور کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ سرحدی علاقوں میں پاکستانی شہری ;200;بادیوں کو نشانہ بنانے اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعات سمیت سب کچھ دنیا کے سامنے ہے ۔ اس کے باوجود بھارت کا دندناتے پھرنا اور عالمی برادری کا انسانی حقوق کے اس قاتل کو نکیل نہ ڈال سکنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔ اس لئے عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور خطے میں انسانی المیہ کے وقوع پذیر ہونے کو روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات کریں ۔ دوسری جانب بھارت کے شمالی حصے میں ہزاروں ٹریکٹرز پر مشتمل ایک قافلے نے ایک اہم شاہراہ کو بلاک کر دیا ۔ بھارت میں ہزار ہا کسان ملک میں نئی زرعی اصلاحات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ مظاہرین نے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ پر دارالحکومت نئی دہلی میں 100 کلو میٹر ٹریکٹر ریلی نکالی ۔ اس موقع پر نئی دہلی کے تاریخی حصے میں ایک فوجی پریڈ بھی ہوئی ۔