- الإعلانات -

وحشی کو سکوں سے کیا مطلب

دنیا بھر میں کورونا کیسز کی تعداد دس کروڑ تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اس وائرس نے دس کروڑ افراد کو اپنا نشانہ 435دنوں میں بنایا ہے ۔ تا دم تحریر اگرچہ7کروڑ 24 لاکھ سے زا ئد مریض صحت یاب ہوچکے تاہم2 کروڑ 57لاکھ سے زائد مریض ابھی زیر علاج ہیں جبکہ اموات کی تعداد 21لاکھ 51ہزار 658 تک پہنچ چکی ہے ۔ یہ وائرس کس تیزی سے پھیلا اس امر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے پانچ کروڑ کیسز356دنوں میں رپورٹ ہوئے تھے جبکہ آخری5کروڑ کیس صرف 89 روز میں رجسٹرڈ ہوئے ۔ گزشتہ برس 27جون کو کورونا پازیٹو کیسز نے پہلے ایک کروڑ کا ہندسہ عبور کر لیا تھا ۔ اس وقت امریکہ میں کورونا کی صورت حال سب سے زیادہ خوفناک ہے جہاں 4لاکھ 31 ہزار 392 اموات ہو چکی ہیں اور2کروڑ 58 لاکھ 61 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں ۔ دوسر ے نمبر پر بد ترین صورت حال بھارت کی ہے جہاں اموات کی تعداد 1لاکھ53 ہزار سے زائد جبکہ ایک کروڑ67 لاکھ سے زائد افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے ۔ برازیل روس برطانیہ فرانس اسپین اٹلی اور ترکی سمیت بیسیوں ممالک میں اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں ۔ کورونا سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم خوش قسمتی سے یہاں صورتحال کئی ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہے جبکہ پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے تسلی بخش ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ اللہ کے خصوصی کرم کے بعد حکومتی سطح پر بہتر حکمت عملی کا اختیار کرنا ہے ۔ حکومت نے تمام سیاسی مسائل اور تنازعات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دن رات عوامی تحفظ کےساتھ ساتھ معیشت کو بھی رواں دواں رکھنے پر توجہ مرکوز رکھی ۔ وائرس پر قابو پانے کےلئے پاکستان عالمی فورمز کے ساتھ بھی رابطے میں رہا ۔ دوسری طرف بھارت میں

مودی حکومت نے اس تشویش ناک ماحول میں بھی اپنے سیاسی ایجنڈ ے کو پس پشت ڈالا اور نہ اپنے مذموم ایجنڈ ے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو ترک کیا، خصوصاً مقبوضہ وادی میں اپنی فورسسز کو بربریت کےلئے کھلا چھوڑے رکھا ۔ اس وقت ہر طرف اس وائرس کی دوسری لہر زوروں پر ہے ۔ دنیا اپنے وسائل اس مرض پر قابو پانے میں خرچ کر رہی ہے جبکہ بھارت کے جنگی جنون میں کمی نہیں آ رہی ہے ۔ یکم فروری کو بھارت کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے ۔ اطلاعات ہیں یکم فروری کو پیش کئے جانے والے 2021 ء کے بھارتی بجٹ میں دفاع کے حوالے سے مختص رقم میں غیر معمولی اضافہ کیا جارہا ہے ۔ بھارتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس سال بھی دفاعی بجٹ میں کم از کم 6 فیصد اضافہ کئے جانے کا امکان ہے ۔ دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال کئے جانے والے اضافے کے امکانات پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ۔ تجزیہ نگار اسے خطے میں امن کے خلاف بڑا اقدام تصور کر رہے ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی نے بر سر اقتدارآنے کے بعد ہندوستان کے نام نہاد جمہوری اور سیکولر ملک کے تشخص کو تباہ کیا ہے ۔ اس عرصہ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا اور اس مقبوضہ وادی میں وحشیانہ فوجی مظالم میں شدت پیدا کی جو پہلے ہی تین دہائیوں سے غاصب بھارتی فوج کے ہاتھوں سسک رہا تھا ۔ دسمبر2019 میں شہر یت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) میں محض مسلم تارکین وطن پر پابندی لگانے کیلئے قانون سازی کی گئی،جس نے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا ۔ اس احتجاج میں 35سے زیادہ پر امن مسلم مظاہرین شہید ہوئے ۔ فروری 2020 میں بی جے پی اورآر ایس ایس کی زیرقیادت دہلی میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ستم ظریفی یہ کہ الٹا انہی مظلوم مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر سینکڑوں من گھڑت مقدمات درج کئے گئے ۔ دوسری طرف ہندوستانی سپریم کورٹ نے انصاف کا خون کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سماعت سے انکار کر دیا ۔ آر ایس ایس بھارت کو ہندو ریاست قرار دلوانے کیلئے تمام حدود پار کر رہی ہے ۔ ہندوستانی الیکشن کمیشن، جو کبھی آزاد تھا اب مکمل طورپر مودی کی کٹھ پتلی ہے ۔ ہندوستان کا سیکولر امیج بھی بری طرح مجروح ہو رہا ہے ۔ بھارت کے تمام پڑوسی ممالک سے تنازعات بھی مودی کے دور اقتدار میں بڑھنے لگے ہیں ۔ پاکستان اور چین کے بعد حالیہ عرصہ میں نیپال کےساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ چند روز قبل نیپالی وزیر خارجہ پردیپ گیوالی ایک اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں ہندوستان کے دورے پر تھے لیکن بلاوے کے باوجود نریندرمودی سے ملاقات نہیں کی ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلوں کے مفاد کے لئے کالاپانی، لیپولیخ اور لمپیودھارہ کے علاقوں پر تنازعہ حل ہونا چاہئے ۔ انہوں نے اپنی داخلی سیاست میں چین کے اثر و رسوخ بارے ہندوستانی الزاما ت کو بھی مسترد کر دیا ۔ بھارتی وزیر اعظم مودی سے ملاقات سے انکار اس بات کا اظہار ہے کہ نیپالی علاقوں کو غاصبانہ طور پر اپنے نقشے میں شامل کرنے پر نیپال بھارت سے ناراض ہے اور اپنے نئے سرکاری نقشے پر نظر ثانی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیپال میں بھارت مخالف جذبات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور2015 میں بھارت کی جانب سے نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی بھی اس سلسلے کی اہم کڑی ہے ۔ اسی سال ہندوستان نے نیپال سے تیراہی خطے کی شکایات دور کرنے کیلئے نیپالی آئین میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا ۔ کئی دہائیوں تک نیپال کو کلائنٹ اسٹیٹ کے طور پر رکھنے کیلئے ہندو ستان نے ہمیشہ نیپال کی غربت کا فائدہ اٹھایا ۔ چین کے ساتھ نیپال کے بڑھتے تعلقات بھارت کو پریشان کر رہے ہیں اور وہ نیپال کیساتھ اپنی خارجہ پالیسی میں چینی فیکٹر کی آمد سے تشویش کا شکار ہے ۔ نیپال کے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ میں شامل ہونے پر ہندوستانی حکمران سیخ پا ہیں ۔ ایسے ماحول میں بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافہ خطے کے تناوَ کو مزید گہرا کرسکتا ہے ۔ مودی انتظامیہ بھی عجیب مخلوق ہے کہ کورونا سے لڑنے کی بجائے مسلمانوں سے لڑنے کی تیاریوں پر اپنے قومی وسائل جھونک رہی ہے، اسے پاگل پن نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے ۔ کسی نے درست کہا ہے کہ وحشی کو سکوں سے کیا مطلب ۔