- الإعلانات -

کروز میزائل بابر کا تجربہ اور بحری امن مشقیں

پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی میں ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے ۔ ساڑھے چار سو کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی استعداد رکھنے والے کروز میزائل بابر ون اے کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ یہ میزائل زمین سے زمین پر اور زمین سے سمندر کے اندر اپنے اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتا ہے ۔ میزائل کو ایک جدید ترین ملٹی ٹیوب میزائل لانچ گاڑی سے داغا گیا ۔ یہ میزائل ایک ہائی پریسیژن ہتھیار ہے، جو زمین سے فائر کیے جانے کے بعد خشکی پر یا کسی سمندری علاقے میں اپنے ٹارگٹ کو بڑے نپے تلے انداز میں نشانہ بنا سکتا ہے ۔ پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک ایسی علاقائی طاقت ہے، جسے ہمسایہ ملک بھارت کی طرف سے سنگین تھریٹ رہتا ہے ۔ چنانچہ اس خطرے کے پیش نظر اسے اپنی دفاعی طاقت کو مضبوط بنانا پڑ رہا ہے ۔ ملکی سیاسی اور عسکری قیادت اکثر بین السطور میں واضح کرتی رہتی ہے کہ ملکی جوہری اور میزائل پروگراموں کا مقصد بھارت کی طرف سے لاحق سنگین خطرات کا تدارک ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین دیرینہ کشیدگی کی اہم ترین وجہ جموں و کشمیر کا متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ۔ دونوں ممالک کے مابین آج تک ہونے والی تین جنگوں کی وجہ بھی کشمیر کا تنازعہ ہی بنا ہے ۔ اس لئے خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر پاکستان اپنا دفاعی حصار ہر گزرتے دن کےساتھ مضبوط اور جدید تر بنا رہا ہے ۔ دفاعی لحاظ سے افواج پاکستان کا شمار مضبوط اور پروفیشنل افواج میں ہوتا ہے ۔ بری بحری اور فضائی قوت کے لحاظ سے پاک فوج کسی سے کم نہیں ہے ۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں افواج پاکستان کا کردار اور امن قائم کرنے کےلئے اس کی قربانیوں نے اسے مزید کندن بنا دیا ہے،تاہم بدلتے حالات متقاضی ہیں کہ ملکی افواج کی تربیت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھی جائے ۔ اسی ضمن میں امن پسند ملکوں کو یکجا ہونے کا پیغام دیتے ہوئے پاک بحریہ نے ساتویں کثیر القومی بحری مشق امن 2021 کا انعقاد کیا ہے ۔ گزشتہ روز کراچی میں پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔ 25ویں جنگی بحری بیڑے کے کمانڈر کموڈور امتیاز علی نے نیول چیف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا پیغام پڑھ کر سنایا ۔ چیف آف نیول اسٹاف نے امن مشق 2021 کیلئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امن مشق 2021 کے تمام شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ امن مشق میری ٹائم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے، مشق مختلف ملکوں کی نیوی کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ذریعہ بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔

بحری مشق امن 21ء کے خصوصی نغمہ امن کی پکار جاری کیا گیا ہے ۔ یہ خصوصی نغمہ اردو اور انگریزی زبانوں کا امتزاج ہے ۔ گانے میں امن پسند ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کا پیغام دیا گیا ہے ۔ خصوصی نغمہ پاک بحریہ کی امن کیلئے ہمہ وقت حاضر رہنے اور امن کے فروغ کیلئے دنیا بھر کے ممالک کو خوش ;200;مدید کہنے کے عزم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔ ان مشقوں میں 45ممالک کے نمائندگان اپنے بحری اثاثوں ، مبصرین اور سینئر افسران کے ساتھ شریک ہیں جبکہ سات دوست ممالک کی شخصیات گیسٹ آف آنر کے طور پر شریک ہوئیں ہیں ۔ بحری مشق امن کا مقصد شریک ممالک کے مابین ہم آہنگی اور امن کا فروغ ہے، کثیر الملکی مشق کا سلوگن’’ امن کے لئے متحد‘‘ رکھا گیا ہے ۔ گیا فروری سے شروع ہونے والی مشقیں 16 فروری تک جاری رہیں گی ۔ 2007سے شروع ہونے والی ان مشقوں کا یہ ساتواں فیز ہے ۔ مشقیں غیر روایتی خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہونگی ۔ تین ممالک میں مقابلے کی فضا کے باوجود امن مشقوں کا انعقاد خوش ;200;ئند ہے ۔ اس بار امن مشقوں میں روس شرکت کررہا ہے، جبکہ عرب ممالک، امریکہ اور چین سمیت کئی دوست ممالک حصہ لے رہے ہیں ۔ گلوبلائزیشن ورلڈ اکنامی سمیت تجارتی سرگرمیوں کے لیے سمندری راستوں کی حفاظت اہم ہیں جس میں باہمی اشتراک اور تعاون انتہائی ضروری ہے ۔ یہ مشق میری ٹائم شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں سے خطے کو مزید پر امن اور محفوظ بنائے گی ۔ امن کےلئے متحد کے سلوگن کے تحت جاری امن مشقیں پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کے لئے ہر دو سال بعد منعقد کی جاتی ہے ۔ یہ مشقیں علاقائی امن و استحکام ، سمندری حدود میں دہشت گردی کے خلاف عزم ، باہمی تعاون اور افواج کے مابین باہمی ;200;پریشنز کی استعداد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ اربوں ڈالر کے معاشی نقصان اور لاتعداد انسانی جانوں کی قربانی کے باوجود پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہا ہے ۔ اس عرصہ میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے اور زمینی سمندی اور فضائی متعدد چیلنجز کےخلاف اپنا بھرپورکردار ادا کرتا رہے گا ۔ کسی بھی ریاست کےلئے بحری راستے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ یہ راستے معاشی شہ رگ کے علاوہ سکیورٹی نکتہ نظر سے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ پاکستان بھی سمندری شعبے میں کئی اہم مفادات کا حامل ہے ۔ مجموعی طور پر سمندری استحکام ہماری قومی سلامتی کا ایک اہم پہلو ہے ۔ موجودہ عالمی بحری ماحول روایتی اور غیر روایتی خطرات سے بھرا ہوا ہے جس کےلئے خطے کی بحری افواج کے ساتھ تعاون وقت کا تقاضہ ہے ۔ کوئی بھی ملک تنہاخطرات سے نبرد ;200;زما نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی انتہائی اہمیت حاصل کر چکی ہے ۔ امن مشقوں کا ا نعقاد اسی ضمن میں تواتر کے ساتھ منعقد ہو رہی ہیں ۔