- الإعلانات -

کروز میزائل اور افواج پاکستان

روزنامہ پاکستان نے اپنا اداریہ بعنوان ;3939;کروز میزائل کا تجربہ اور مسئلہ کشمیر پر عسکری قیادت کا دو ٹوک موقف ;3939;لکھتے ہوئے کہا ہے پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر دلیرانہ اورحل طلب ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ اس پرمفراختیارکیا، آج مودی نے مقبوضہ کشمیرکو جوجنت نظیرتھا اس کونرگ بنا دیا ہے ، یہ مسئلہ وہ بہکتا ہوا الاءوہے جو دنیابھرکو بھسم کرسکتاہے آج بین الاقوامی برادری اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھ تو گئی ہے لیکن دہشت گرد بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کو روکنے کےلئے آگے قدم نہیں بڑھارہی، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کوفوقیت دی جبکہ بھارت نے ہمیشہ انارکی پھیلائی ۔ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت پوری قوم کے ہمراہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے یکجان دوقالب ہیں جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوجاتا اس وقت بھارتی چیرہ دستیوں کی وجہ سے خطے میں امن وامان بعیدازقیاس ہے ۔ مسلح افواج کی قیادت نے پاکستان کی طرف سے حق خودارادیت کیلئے کشمیریوں کی دلیرانہ جہدوجہد کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اجلاس جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا ۔ چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے صدارت کی ۔ اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان، وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کے سینئر حکام نے شرکت کی ۔ شرکا نے ابھرتے ہوئے جیو سٹرٹیجک منظر نامے، بشمول سٹرٹیجک اور روایتی پالیسیوں و ڈاکٹرائن کے شعبوں میں ہونےوالی تیز رفتار پیش رفت اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر غور کیا ۔ شرکا نے ملک میں کووڈ19 کی مجموعی صورتحال اور اس وباء سے نمٹنے کیلئے کوششوں کو مربوط بنانے کیلئے تشکیل دیئے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی کارکردگی کی تعریف کی ۔ اجلاس نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی غور کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان،انصاف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودرادیت کے حصول کیلئے کشمیریوں کی دلیرانہ اور داخلی جدوجہد کی بھرپور سفارتی، اخلاقی اور سیاسی مدد جاری رکھے گا ۔ اجلاس نے مسلح افواج کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ جامع سیکورٹی حکمت عملی کے تحت خطرات کی تمام تر نوعیت کا بالکل مناسب انداز میں جواب دیا جائے گا ۔ شرکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی تعریف کی ۔ چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے دفاع و سلامتی کے تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے مسلح افواج کے اشتراک کی تعریف کی ۔ ادھرپاکستان نے ساڑھے چار سو کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی استعداد رکھنے والے کروز میزائل بابر ون اے کا تربیتی مقاصد کیلئے کامیاب تجربہ کر لیا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل زمین سے زمین پر اور زمین سے سمندر کے اندر اپنے اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بناتا ہے ۔ میزائل کو ایک جدید ترین ملٹی ٹیوب میزائل لانچ گاڑی سے داغا گیا ۔ چیئرمین نیسکام ڈاکٹر رضا ثمر، آرمی سٹرٹیجک کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد علی، ایس پی ڈی کے سینئر افسروں ، سائنسدانوں ، انجینئرز اور دیگر نے یہ تجربہ ملاحظہ کیا ۔ چیئرمین نیسکام نے آرمی سٹرٹیجک فورس کمانڈ کے تربیتی معیار اور آپریشنل تیاری کو سراہا جس کا ہتھیاروں کے اس نظام کو فیلڈ میں چلانے اور تربیتی معیار کی پاسداری سے اظہار ہو رہا تھا ۔ انہوں نے پاکستان کی سٹرٹیجک استعداد بڑھانے میں سائنسدانوں اور انجینئرز کے کردار کو بھی سراہا ۔ اس کامیاب تجربہ پر صدر مملکت، وزیر اعظم، چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہوں نے مبارکباد دی ہے ۔ کامیاب تجربے نے پاکستان کوحفاظتی اعتبار سے مزیدمستحکم اورناقابل تسخیربنادیاہے اب دشمن کو یہ سمجھ جاناچاہیے کہ اس نے ذرا سی بھی غلطی کی تو پاکستان اس کوصفحہ ہستی سے مٹادے گا ۔ آج پاکستان کی افواج کاشمار دنیاکی بہترین افواج میں ہوتا ہے اندرونی اوربیرونی طورپرپاکستان انتہائی مضبوط حیثیت اختیارکرچکاہے اورہماری مسلح افواج وطن عزیز کی حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھتیں جبکہ دوسری طرف بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 19 فیصد اضافہ کر دیا ہے ۔ کھربوں روپے کے اضافی بجٹ سے بھارت لڑاکا جیٹ طیارے، ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹس اور لڑاکا ہیلی کاپٹرز خریدنے کا پروگرام بنا رہا ہے ۔ اضافہ شدہ رقم سے بھارت زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی خریدے گا ۔ گزشتہ 15سال میں یہ بھارتی بجٹ میں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے کسان مظاہرین کے نئی دہلی میں داخلے کو روکنے کی خاطر سکیورٹی بڑھا دی ہے ۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت پر کیا گیا، جب بھارتی وزیر خزانہ نے چند دن پہلے پارلیمان میں سالانہ بجٹ پیش کیا ۔ کرونا وائرس نے دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ دنیا میں سب سے زیادہ کرونا سے ہلاکتیں امریکہ میں ہوئیں ۔ امریکی معیشت بھی سب سے زیادہ اس عالمی وبا سے متاثر ہوئی مگر امریکہ کی چونکہ بہت مضبوط معیشت ہے اس لئے اسے زیادہ فرق نہیں پڑا جبکہ بھارت کی معیشت بری طرح لرز رہی ہے ۔ بھارت میں آج بھی کرونا وائرس کنٹرول میں ہے نہ معیشت سنبھل رہی ہے ۔ بھارت میں روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور ہزاروں لوگ اس مہلک مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ لوگ بھارت ہی میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ 60 فیصد آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ کروڑوں گھروں میں بجلی ناپید اور ٹوائلٹ جیسی سہولت تک میسر نہیں ۔ ان حالات میں بھی بھارتی حکمران جنگی جنون میں مبتلا ہیں ۔ ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ اب تو گزشتہ 15 سال میں سب سے زیادہ 19 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی قومی بجٹ کے قریب قریب ہے جبکہ بھارت کی خطے میں پاکستان کے سوا کسی سے ایسی دشمنی نہیں جس کے ساتھ اسے نبردآزما ہونا پڑے ۔ آج کل اسکی چین کے ساتھ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے باعث ٹھنی ہوئی ہے ۔ بھارت چین جنگ کا امکان نہیں ہے ۔ کیونکہ بھارت کو علم ہے کہ چین کے ساتھ جنگ میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ 62ء میں چین نے بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا اور رہی سہی کسر گزشتہ سال لداخ میں بھارتی فوجیوں کو پھینٹی لگا کر نکال دی ۔ بھارت نے متنازعہ علاقوں میں تعمیرات کیں تو چین نے یہ مقبوضات واگزار کرالئے ۔ اس دوران کئی بھارتی فوج ہلاک‘ کئی زخمی اور متعدد گرفتار بھی ہوئے ۔ اسکے بعد سے بھارت کے ہوش ٹھکانے آگئے ہیں ۔ بھارت کا ہمیشہ سے پاکستان کیخلاف ہی جنگی جنون اور اسلحہ جمع کرنے کا خبط رہا ہے ۔ بھارت نے ان حالات میں اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے جبکہ پاکستان نے کرونا کے باعث رواں مالی سال میں اپنے دفاعی بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا ۔ بھارت نے خطے میں یکطرفہ طور پر اسلحہ کی دوڑ شروع کر رکھی ہے ۔ کرونا کی وجہ سے ڈوبتی معیشت کے باوجود بھارت نے گزشتہ سال فرانس سے مہنگے ترین جنگی طیارے رافیل خریدنے کا سلسلہ شروع کیا ۔