- الإعلانات -

اعدادوشماراورمعیشت

موجودہ نظام میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں بجلی پیدا کر کے تقسیم کار کمپنیوں کے حوالے کر دیتی ہیں اور تقسیم کار کمپنیاں مختلف علاقوں میں عوام تک بجلی پہنچا کر قیمت وصول کرتی ہیں اور واپس بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں تک رقم پہنچاتی ہیں ۔ ان میں ایک دو اور مراحل بھی ہوتے ہیں اور ان کمپنیوں میں لین دین کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ عام دوسرے کاروبار کی طرح سے یہ بھی ایک کاروبار ہے اور دیگر مصنوعات کی طرح بجلی تیار کر کے مختلف طریقوں کے تحت بیچی جاتی ہے ۔ عام کاروبار میں جس قیمت پر مصنوعات تیار ہوتی ہیں ان میں اخراجات شامل کر کے خریدار کو منافع کے ساتھ بیچ دیا جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے بجلی کی پیداواری قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ حکومت براہ راست یا بالواسطہ اس کی قیمت کم کر کے عوام تک پہنچاتی ہے ۔ اس سے قیمت خرید دیگر اخراجات اور پیداواری قیمت کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ اس طرح خرچ اور وصولی میں براہ راست ایک خلیج پیدا ہوتی ہے ۔ جسے عام طور پر گردشی قرضے کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ اس رقم کو حکومت پورا کرتی ہے ۔ دوسرے رقم خریدار سے پیداواری یونٹ تک واپس پہنچنے میں بھی ایک وقت درکار ہوتا ہے ۔ اس دوران رقم کا بندوبست کرنا اور پیداواری یونٹ کو قیمت ادا کرنی ہوتی ہے ۔ اس لئے اس دورانیہ میں جو رقم ادا ہوتی ہے وہ بھی حکومت ادا کرتی ہے ۔ اس طرح سے ان تمام عوامل کےلئے جو رقم درکار ہوتی ہے اسے گردشی قرضے سے تعبیر کیا جاتا ہے 80 کی دہائی کے آخری سالوں میں اور 90 کے شروع میں پاکستان کی معیشت ایک خاص مقام پر کھڑی تھی، حکومت بھی غیرملکی سرمایہ کاروں کو انرجی سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری پر راغب کرنے کیلئے پالیسیاں بنا رہی تھی، اسی دور میں حب پاور کمپنی بنی جو پاکستان میں نجی طور پر بجلی پیدا کرنے والی پہلی کمپنی تھی، حب پاور میں بجلی پیدا کرنے والی یورپی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی ۔ حب پاور کمپنی کے بعد پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کےلئے مزید نجی پلانٹس لگائے گئے لیکن انہیں چلانے کیلئے فرنس آئل کا انتخاب کیا گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹس کو جلدی چلایا اور بند کیا جا سکتا ہے اس کے برعکس کوئلے یا گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس چلنے اور بند ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں اور مسلسل چلتے رہنے پر ہی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ غیر متوقع نہیں تھا، بدلتے حقائق کے ساتھ حکومت نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کی، پاکستان تیل درآمد کرتا ہے اس لیے کافی مہنگا پڑتا ہے، پھر اسکی قیمت بھی غیر مستحکم رہتی ہے، امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاءو بھی تیل کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود 2002 کی آئی پی پیز پالیسی کے تحت حکومت نے ملک میں تین ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کیلئے پاور پلانٹس لگانے کی اجازت دے دی جن میں سے اکثر تیل پر چلنے والے تھے ۔ یوں جس تباہی کی پیشگوئی کی گئی تھی وہ آن پہنچی، بجلی کی پیداواری لاگت یعنی کاسٹ آف پاور جنریشن تیزی سے اوپر چلی گئی لیکن حکومت نے یہ پیداواری لاگت براہ راست صارفین سے وصول کرنے کی بجائے انہیں سبسڈی دیدی، یہی سے سرکلر ڈیبٹ یعنی گردشی قرضے کا وبال کھڑا ہوا ۔ گردشی قرضہ ایک پیچیدہ چیز ہے اور یہ مزید پیچیدہ تب ہو جاتا ہے جب فیول مہنگا ہونے سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے تو گردشی قرضے میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کی اصل وجہ تو بجلی چوری اور حکومت کی اس چوری کو روکنے میں ناکامی ہے ۔ بجلی چوری پاکستان کا عشروں پرانا مسئلہ ہے ۔ جب بجلی کی پیداواری لاگت ڈرامائی طور پر اوپر جاتی ہے اور اس کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کیلئے حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی اُس رفتار سے نہیں بڑھتی تو اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے ۔ بجلی چوری سے ہونے والا نقصان اور پیداواری لاگت کے مکمل اخراجات صارف سے وصول نہ کرنے کی صورت میں تقسیم کار یا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ادائیگیوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے سبسڈی کی رقم ادا کرنے میں تاخیر اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے ۔ اگر ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی بجلی چوری کی وجہ سے اپنے صارفین سے پاور جنریشن کاسٹ یعنی پیداواری لاگت وصول نہیں کرے گی تو وہ پاور ٹرانسمشن کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر سکتی جو آگے پاور جنریشن کمپنیوں کو ادائیگی کرنے کے قابل نہیں ہوں گی، پاور جنریشن کمپنیاں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ریفائنریز کو اور ریفائنریز آگے آئل اینڈ گیس پروڈکشن کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر سکیں گی ۔ اسی کو ہم گردشی قرضہ کہتے ہیں ، یہ سرکلر اس لیے ہے کیونکہ زیادہ تر انرجی سپلائی چین حکومت کی ملکیت میں ہے اور حکومت کی جانب سے وقت پر سبسڈیز کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کمپنیاں ڈیویڈنڈ کی ادائیگی کرنے سے قاصر رہتی ہیں ۔ اب حکومت نے آئی پی پیز اور گردشی قرضے سے جان چھڑانے کیلئے نجی کمپنیوں کے ساتھ ڈیل کی ہے جس میں طے پایا ہے کہ حکومت 15 فیصد ریٹرن آن ایکویٹی ڈالر کی بجائے روپے میں 17 فیصد کے حساب سے ادا کرےگی ۔ اس کے علاوہ کل واجبات بھی ڈالر کی بجائے روپے میں ادا کیے جائیں جس کیلئے ڈالر کا ریٹ موجودہ 169 روپے کی بجائے 148 روپے رکھا گیا ہے ۔ ائی پی پیز کے ساتھ حکومت نے ہر لحاظ سے ایک اچھی ڈیل تھی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی‘ ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر کی صدارت میں کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پاور ڈویژن نے بتایا ہے کہ گردشی قرضوں میں اضافہ روکنے کےلئے گردشی قرضوں کے انتظام و انصرام کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ گردشی قرضے پاکستانی معیشت پر بڑا بوجھ ہیں اور یہ قرضے پالیسی سازوں کےلئے مسلسل دردسر بنے ہوئے ہیں ۔ گردشی قرضے دوسرے معنوں میں پاکستانی معیشت کے گرد ایک ایسا دائرہ بنا چکے ہیں جس کی وجہ سے ایک قرضے پر دوسرا قرض لینا پڑ رہا ہے جس کے نتیجہ میں قرضوں میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال بھی گر دشی قرضوں کو کنٹرول کرنے کے دعوے کئے گئے تھے جبکہ گزشتہ سال نومبر میں یہ قرضے 2300 ارب روپے تھے، جو اب 2400 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں ،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قیمتوں پر کنٹرول کر کے صارفین کے بلوں میں اضافے کو روکا جائے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں وصولیوں اور لائن لاسز کے اہداف پورے کرنے کےلئے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ قرض پر مزید قرض لینے کی حوصلہ شکنی ہو اور گردشی قرضوں میں اضافہ کے رجحان کو روکا جا سکے ۔ مشکل یہ ہے کہ وطن عزیز میں اعداد و شمار کا شعبہ بہت زیادہ مستحکم اور قطعیت کا حامل نہیں جس کے باعث بعض معاملات میں ابہام کی گنجائش رہتی ہے ۔