- الإعلانات -

نئی امریکی انتظامیہ کی کشمیرپالیسی

جب سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علیحدگی ہوئی ہے اْس وقت سے ہندوستان مقبوضہ جموں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ۔ خاص طور پر اگست 2018 سے پورے علاقے میں کرفیو لگا کر کشمیریوں کا گھروں سے باہر نکلنا دو بھر کر دیا ہے اور ان پر ظلم و مصائب کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی داستانیں دل دہلا دینے والی ہیں اور یہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں جو سال ہا سال سے چل رہی ہیں اور اس کو سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ بھارت کی طرف سے یہ مظالم برداشت کی حدیں بھی تجاوز کر چکے ہیں ۔ بھارت کے اس تشدد میں صرف کشمیری مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جو ہر روز بھارتی تشدد کا شکار ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوجی تعینات ہیں جو کشمیری عورتوں پر تشدد کر کے اْن کے ساتھ ناجائز کام کر کے نسلیں بگاڑ رہے ہیں ۔ امریکہ میں نئی انتظامیہ برسراقتدار آنے کے بعدمقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان زیڈ تارڑ کا کہنا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن چاہتے ہیں کہ تمام مسائل کا حل مل کر نکالا جائے ۔ صدر جوبائیڈن باور کراچکے ہیں کہ امریکہ کیلئے انسانی حقوق بنیادی مسئلہ ہے اور امریکہ سمجھتا ہے کہ کشمیرانسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور اس کا فوری حل چاہتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونی چاہیے ۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بھارت کی غلطی ہے ۔ حال ہی میں اپنی مہماتی ویب ساءٹ پر شاءع کردہ ایک پالیسی پیپر;39;مسلم امریکی برادری کا ایجنڈا;39; میں جوبائیڈن نے ہندوستان میں کشمیر اور آسام کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی حکومت کو کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کےلئے تمام ضروری اقدامات کرنا چاہئیں ۔ پرامن احتجاج کو روکنا یا انٹرنیٹ بند کرنا یا انٹرنیٹ کو سست کرنا جبکہ اظہار رائے پر پابندیوں سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے ۔ گزشتہ برس اپنی الیکشن مہم کے دوران بھی بائیڈن نے مسلمانوں کے حوالے سے اپنے منشور میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کی متنازع قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری تنہا نہیں ہم صورتحال دیکھ رہے ہیں ۔ جہاں مناسب ہوا مداخلت کی جائے گی ۔ پر امن مظاہرین پر تشدد اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات جمہوریت کی نفی ہیں ۔ یوں امریکی صدارتی انتخاب کی مہم میں امیدواروں کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہو گیا تھا ۔ بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکی اقدار ہیں کہ انسانی حقوق کا معاملہ اٹھایا جائے، اگر صدر منتخب ہوا تو انہی اقدار پر عمل کروں گا ۔ اس سب پر جو کشمیر میں ہو رہا ہے تو اس کیلئے ہ میں نمائندے کی ضرورت ہے ۔ ہم انسانی حقوق کی پامالیاں آئے دن دیکھتے رہتے ہیں ۔ چاہے وہ امریکا میں ہوں یا دنیا کے کسی اور کونے میں ۔ ظلم کرنے والا ہمیشہ مظلوموں کو یہ باور کرواتا ہے کہ کوئی نہیں دیکھ رہا، کوئی توجہ نہیں دے رہا، جو کہ ایک ظالم کا ہتھیار ہوتا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 2016 کی صدارتی مہم میں مسئلہ کشمیر پر بھی روشنی ڈالی تھی اور جولائی 2019 میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں اس تنازع کو حل کرنے میں مدد کی پیش کش کی تھی ۔ تب سے اب تک وہ اپنے اس پیشکش کو دو بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سوءٹزرلینڈ میں انٹرنیشنل فورم پر دہرا چکے ہیں لیکن جو بائیڈن جو ابھی تک بیشتر آرا و رائے شماری میں ٹرمپ سے کم از کم 10 نکات آگے ہیں ، نے اپنے پالیسی مقالے میں اس سمیت مسلمانوں کے دیگر امور کے بارے میں بھی ایک واضح موَقف اپنایا ہے ۔ گزشتہ برس کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری مرتبہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر نے کی پیشکش کی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کریں گے ۔ صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان اس شرط پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی کہ فریق راضی ہوں ۔ پاکستان اس قسم کے بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے جبکہ بھارت سمجھتا ہے کہ کشمیر ایک دوطرفہ مسئلہ ہے ۔ صدر ٹرمپ اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے اگر کشمیر پر ثالثی کرانے کا آغاز کرتے ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کے مبنی برحق وانصاف موقف کا کس حد تک لحاظ رکھتے ہیں اور کشمیریوں کی آرزووں اور آدرشوں کو کتنا وزن دیتے ہیں ۔ بھارت نے2019اگست میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش سمیت تمام بنیادی حقوق کو سلب کرلیا تھا جس کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ پھر دسمبر میں متنازع شہریت قانون متعارف کروایا گیا جس کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ غیر جانب دار حلقوں کی جانب سے بھی اس قانون لو امتیازی قرار دیا گیا اور مسلمانوں کے موَقف کی حمایت کی گئی ۔ بھارتی حکومت نے رواں برس کے اوائل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل قانون کو تبدیل کرکے مقامی آبادی کو حاصل اختیارات واپس لے لیے جس کو پاکستان اور کشمیریوں نے مسترد کردیا تھا ۔ گزشتہ برس بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ بھارت کے آخر دن ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر بہت سے لوگوں کےلئے طویل عرصے سے بہت بڑا مسئلہ چلا آرہا ہے اور میں اس مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہوں ۔ حکومتِ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہی ہے اور یہ تو حقیقت ہے کہ ہر مسئلے یا کہانی کے 2 رخ ہوتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہیں اور وزیر اعظم عمران خان میرے دوست ہیں اس لیے اگر مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے میں کچھ کر سکتا ہوں تو ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ تاہم ہٹ دھرمی پر قائم مودی سرکار نے اس پیش کش کا مثبت میں جواب نہیں دیا ۔ ہ میں کشمیر پر بہرصورت اپنے موقف کی ہی پاسداری کرنی اور کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے ہر فور م پر آواز اٹھائے رکھنا ہے ۔ ٹرمپ کی کوششوں سے اگر کشمیریوں کو آزادی کی منزل حاصل ہوجاتی ہے یہی اس خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت بنے گی ۔