- الإعلانات -

سیاسی وعسکری قیادت کادشمن کودوٹوک پیغام

پاکستان ایک پرامن ملک اور خطے میں امن کا خواہاں ہے مگر اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے ۔ دشمن کی ہر حرکت پر افواج پاکستان کی نظر ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے ۔ ایٹمی قوت بننے سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے ۔ بلاشبہ پاک افواج کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہ رکھنے کے باوجود دشمن کے مس ایڈوانچر کا جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے ۔ پاکستان کو بھارت کی صورت میں عیار اور مکار دشمن کا سامنا ہے جس نے روایتی اورغیرروایتی اسلحہ کے انبار لگائے ہوئے ہیں ۔ وہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کا گھیراءو کرنا چاہتا ہے اورآئے روزایل او سی پرشرانگیزی کرتاہے پھر پاکستان کی طرف سے اسے منہ توڑ جواب بھی دیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے مغربی بارڈر پر بھی خطرات منڈلاتے رہتے ہیں ۔ اس بارڈر پر بھی دشمن کی ہی کی شیطانی ذہنیت کارفرما ہے ۔ پاک افغان بارڈر کو پاک فوج باڑ کی تنصیب سے محفوظ بنا رہی ہے ۔ بھارت نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو پاکستان ایئرپورس نے اس کا ناقابل فراموش جواب دیتے ہوئے اسکے دو جہاز گرالئے ۔ بھارت کا پورا زور جدید اور وافر مقدار میں اسلحہ جمع کرنے پر ہے مگر پاکستان کی توجہ افواج کی بہترین تربیت اور اسلحہ کے اعلیٰ معیار پر ہے ۔ دشمن کو جواب دینے کیلئے بری بحری اور فضائی افواج کے مابین مثالی تعاون پایا جاتا ہے اور قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہے ۔ اسی لئے ;200;ج دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ روزپاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کی دوسری سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونیوالی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن اگر ہماری خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو ہمارا جواب اسی طرح تیز رفتار اور بھرپور ہو گا جس طرح کا جواب ہم نے 27 فروری 2019 کو دیا تھا ۔ پاک فضائیہ نے اپنے آپریشنز تیاری کو برقرار رکھتے ہوئے کووڈ 19 کے باوجود جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ۔ پاکستان کو ہائیبرڈ وار سمیت کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے جو اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ ہ میں ہر وقت چوکس رہنا ہو گا ۔ پاک فضائیہ کی کوشش ہے کہ وہ اپنی جنگی صلاحیت میں اضافہ کرے اور تمام شعبوں میں فضائیہ کو جدید بنانے کیلئے کوششیں ہو رہی ہیں اور ان کوششوں میں ملکی وسائل سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے ۔ علاوہ ازیں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں اور امن کےلئے کھڑا ہے، لیکن پاکستان کو درپیش ہر چیلنج کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا ۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار نے 27 فروری 2019 کے دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج قومی حمایت کے ساتھ ہر خطرے سے مادر وطن کا ہمیشہ دفاع کرتی رہیں گی ۔ ان کا کہنا ہے کہ 27 فروری 2019 اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دفاع وطن کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ، کسی قوم کو عددی برتری سے نہیں قوم کے حوصلے اور عزم سے کامیابی ملتی ہے ۔ ادھر پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں شکست کھاکر پاک سرزمین پر گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے اس وقت فوج کو دیئے گئے بیان میں کہا تھا کہ فضا سے مجھے دونوں ملکوں میں کچھ فرق پتا نہیں چلا، پیراشوٹ گرا توپتا نہیں تھا کہ پاکستان میں ہوں یا اپنے دیس بھارت میں کیونکہ مجھے دونوں ملک ایک جیسے لگتے تھے اور سارے لوگ بھی مجھے ایک جیسے ہی لگے ۔ بھارتی پائلٹ نے پاک فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاک فوج کو بہت پیشہ ورانہ اورنڈر پایا، میں پاک فوج کی بہادری سے بہت متاثر ہواہوں ۔ لڑائی تب ہو تی ہے جب امن نہیں ہوتا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی فوجی مہم جوئی کے خلاف جوابی کارروائی کرکے 2 سال پورے ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ بطور قابل فخر اور پراعتماد قوم ہم نے وقت اور مقام کا انتخاب کرکے بھرپور جواب دیا بھارت کا پکڑا گیا پائلٹ واپس کرکے بھارتی غیر ذمہ دارانہ فوجی اقدام پر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ امن کیلئے کام کرتے ہیں اور تمام مسائل کو ڈائیلاگ سے حل کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔ 27فروری کو ساری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے نہ صرف بھرپور عزم کیساتھ اپنی علاقائی سلامتی کا تحفظ کیا بلکہ اس نے بڑے تحمل کا بھی مظاہرہ کیا ۔ پاکستان کی حکومت مسلح افواج اور عوام کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کے خلاف متحد ہیں ۔ پاکستان پر امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت جموں و کشمیر کے تنازعہ کو سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے ۔ واضح رہے کہ دو سال قبل فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو بھارتی طیارے پاکستان میں گھس ;200;ئے جو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دبوچ لئے تھے، ایک کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا جبکہ دوسرا ;200;زاد کشمیر میں گرا جس کے پائلٹ ابھی نندن کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ یقینامذکورہ واقعہ دفاع وطن کی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ، ناقابل تسخیر دفاع کی درخشندہ مثال، فضائیہ ، بری اور بحری افواج کی عسکری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ دفاع وطن کے شاندار کردار پر قوم پاک فضائیہ کے شاہینوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور جھپٹنے پلٹنے، پلٹ کر جھپٹنے کی صلاحیتوں میں مزید نکھار کیلئے دعاگو ہے ۔ عساکر پاکستان بلاشبہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں دنیا کی مانی ہوئی افواج ہیں اور دشمن کو دھول چٹانے میں مہارت رکھتی ہے ۔ قوم دفاع وطن کیلئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ درحقیقت پاکستان اوربھارت کے درمیان اصل تنازعہ کشمیرکاہے،کشمیرکامسئلہ حل ہوجائے تو خطے میں امن قائم ہوسکتاہے ۔ کشمیری عوام گزشتہ 72سال سے بھارتی بربریت کاسامناکررہی ہے جس کی پوری دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں مگرکشمیریوں نے بھارتی تسلط کبھی قبول نہیں کیا وہ اپنی ;200;زادی کیلئے ہمیشہ سے قربانیاں دیتے چلے ;200;رہے ہیں ۔ کشمیری عوام کسی ظلم بربریت اور سفاکیت کو خاطر میں نہیں لا رہے تو 5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے شب خون مار کر کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر دیا ۔ اسکے بعد مزید فوج وہاں تعینات کر دی گئی ;200;ج بھارتی سفاک سپاہ کی تعداد نو لاکھ ہے ۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی بھارتی بربریت کو دنیابھر میں بے نقاب کیا ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کا کشمیریوں پر ظلم کا ہاتھ روکا جائے اور کشمیریوں کو ان کا حق استصواب دیا جائے ۔

بچوں سے زیادتی کے واقعات لمحہ فکریہ!

شرقپور میں پانچ سالہ بچہ سے مبینہ زیادتی کے بعد بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا ۔ نواحی گاءوں ڈھامکے کا رہائشی 5 سالہ عبدالرحمن گزشتہ شام مدرسہ سے واپسی پر لاپتہ ہوگیا ۔ جس کو نامعلوم افراد ورغلا کرلے گئے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد منہ دبا کر بےدردی کے ساتھ قتل کردیا ۔ کرائم سین اور فرانزک سانئس ایجنسی کی ٹی میں موقع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں ۔ پولیس نے ایک مشکوک شخص کو حراست میں لے لیا ۔ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ۔ والدین کا کہنا ہے ہ میں فوری انصاف فراہم کیا جائے ۔ بعدازاں نعش کو لاہور، جڑانوالہ روڈ پر رکھ کر ٹائر جلا کر احتجاج کیا ۔ ملک میں قانون کی موجودگی کے باوجود بچوں کے ساتھ پیش ;200;نےوالے ایسے واقعات کی روک تھام میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر ;200;رہے ہیں ، جو ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان میں زیادتی اور بدسلوکی کے واقعات کا تسلسل سے ہونا نہایت تشویشناک ہے ۔ سکول ، مدارس ، دیہات ، شہر ، گھر ، دفاتر ، الغرض کوئی جگہ ایسی نہیں جو ان وحشی درندوں سے محفوظ ہو ۔ بچے ، بچیاں ، بڑی عمر کی خواتین سے لے کر کم سن بچے تک ان وحشی درندوں کی وحشت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر واقعات میں بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔ زیادتی کے ان بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کےلئے ایسے درندوں کو سرعام پھانسی پر لٹکانا بے حد ضروری ہے ۔ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا ۔ ان جرائم پر قابو پانا ممکن نہیں ہو گا ۔ زینب کیس کے بعد سے امید کی جا رہی تھی کہ اب اس قسم کے درندگی کے واقعات میں کمی ہوگی لیکن اس کے برعکس زیادتی کے واقعات میں جس قدر اضافہ ہورہاہے یہ صورتحال حکومت ،عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہمارے پورے سماج کےلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی د ینے اور انہیں آختہ بنانے کے مطالبات بالکل جائز ہیں جب تک ان مجرموں کو سر عام تختہ دار پر نہیں لٹکایا جائے گا معاشرے کی اصلاح نہیں ہوسکتی ۔