- الإعلانات -

عزیر احمد خان کا تکلف بر طرف ” بتوں” کی سیاست کو ختم کرنا ہو گا

کسی بھی ملک کو ترقی کا انحصا ر اس کی تعلیم یافتہ قوم پر منحصر ہوتا ہے ، لیکن آج ہمارے لئے وہ لمحہ فکریہ ہے جس پر جتنا بھی زیادہ کف افسوس کریں اتنا ہی کم ہے ، دنیا بھر میں تعلیم کے میدان میں آج پاکستان ایک سو پچیسویں نمبر ہے ، یہی وہ بات ہے جس سے حکمرانوں کی نیندیں اڑ جانی چاہئیں کیا ہم آنے والی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کریں گے ، آج دنیا کہاں پہنچ رہی ہے اور ہمارا سفر پتھر کے زمانے کی جانب گامزن ہے ، یہی حالات رہے تو آمدہ سال میں خاکم بدھن ہمارا ملک شاید جہالت کی دوڑ میں پہلے نمبر پر آجائے ، کیوںکہ آج ہمارا تعلیمی نظام قطعی طور پر گرداب میں پھنسا ہوا ہے ، کچھ تو کرونا وائرس نے تباہی پھیری باقی پھر ماشاء اللہ پالیسی سازوں کا کمال ہے ، نہ وہ زمینی حقائق سے واقف ہیں اور نہ ہی انہیں ملک و قوم کی ضروریات بارے میں علم ہے ، حکومتی سطح پر چلنے والے سکول و کالج اس قابل نہیں ہیں کہ وہ نوجوان نسل کی تعلیم کا بوجھ برداشت کرسکیں ، اساتذہ کا فقدان ، سکول و کالجز کی کمی ، سہولیات کا ناپید ہونا ، معیاری فراہم نہ کر نا ، یہ وہ بنیادی عناصر ہیں جس کی وجہ سے ملک جہالت کے اندھیروں میں ڈوبتا جا رہا ہے ، اب حکومت جو اقدامات کرنے جا رہی ہے یا کر رہی ہے اس سے لاکھوں پرائیوٹ سکول جو تعلیم کے میدان میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں وہ بھی بند ہونے جا رہے ہیں، بلکہ اگر ایسا کہا جائے کہ پچاس فیصد سے زائد بند ہو چکے ہیں تو غلط بات نہ ہو گی ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سکولوں کے بند ہونے کی وجہ سے جو بچے تعلیم کے زیور سے بہر ہ مند نہیں ہوسکیں گے کیا ریاست نے ان کی تعلیم کا کوئی بندوبست کیا ہے تو جوا ب نفی میں آتا ہے ، یہ حالات صرف تعلیمی میدان تک ہی محدود نہیں بلکہ سیاسی میدان میں دیکھا جائے تو وہاں پر بھی بس رہے نام خدا کا ، سینیٹ الیکشن دیکھ لیں تو یہاں پر بھی مسائل اور ہی نوعیت کے ہیں ، بات یہ ہے کہ حکومت آج تک پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی نہیں کر سکی ، ہر بات دیگر اداروں پر ڈال دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے ، ایوان میں صرف ہلڑ بازی ، ہنگامہ آرائی ، الزام تراشیوں کے علاوہ اور کچھ بھی دیکھنے یا سننے کو نہیں ملتا ، قوم نے جس کام کیلئے سیاست دانوں کو ایوان میں بھیجا تھا وہ آج تک اس کا انتظار ہی کررہے ہیں کہ شاید کوئی عوامی مسائل بھی حل ہو سکیں، آج مہنگائی تاریخی اعتبار سے آسمان کو چھو رہی ہے ، یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاء خور و نوش بھی انتہائی مہنگی ہو چکی ہیں ، گندم اور چینی تو شاید اب قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے ، ان تمام حالات کو کون درست کر ے گا، یہاں تو صرف اپنے مفادات کی سیاست ہو رہی ہے ، کبھی قومی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات تو کبھی صوبائی کی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات مسائل بنے ہوئے ہیں، دسکہ کی سیٹ ہو ، یا نوشہرہ کی سیٹ ہو ، یا سندھ کی سیٹ ہو حکومت کو ہر جانب سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جب اپنے ہی گھر سے شکست مقدر بن گئی ہو تو پھر نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے ، کپتان کبھی اپنی صفوں کی جانب بھی دیکھ لے کیا اس کے جو مشیر ہیں وہ درست بیانیے دے رہے ہیں، ممکن ہے کہ کپتان درست ہو لیکن اس کی ٹیم اس کو کہیں اندھیرے والے گہرے کنویں میں دھکیلنے میں مصروف ہے ، جب تک وہ اپنی ٹیم پر نظر ثانی نہیں کریں گے اس وقت تک حالات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ، تعلیم بھی بد حال رہے گی، معیشت بھی تباہ حال رہے گی ، روزگار بھی نہیںملے ، اپوزیشن کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا رہے گا، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ملک میں جو” بتوں ” کی سیاست چل رہی ہے اس کو ختم کیا جائے یہ بت کون سے ہیں ان میں ذوالفقار علی بھٹو ، نواز شریف ، عمران خان اور ولی خان شامل ہیں ، موروثی سیاست کو ختم کرنا ہو گا ، شاید آج پھر قوم کسی محمود غزنوی یا پھر سلطان صلاح الدین ایوبی کی جانب دیکھ رہی ہے کہ آگے کوئی بڑھے اور مسائل کو حل کرے ، اس سے پہلے کہ یہ قوم کسی اندھیرے کی نظر ہو جائے ۔