- الإعلانات -

مخدوم پور ۔ ۔ ۔ !

مخدوم پور اےک قدےم شہر ہے اور ےہ صوبہ پنجاب کے تارےخی مقامات میں سے اےک ہے ۔ مخدوم پور میں سکھوں کا گردوارہ اےک اہم مقام ہے ، چونکہ آجکل مخدوم پور میں سکھ مذہب کے پےروکار نہیں رہتے ہیں ،اس لئے حکومت پنجاب نے اسی گردوارہ میں گورنمنٹ ہائر سےکنڈری سکول قائم کیا ہے، جہاں بچے تعلیم کے زےور سے آراستہ ہوتے ہیں اور ےہاں نئی نسل کی آبےاری ہوتی ہے ۔ حکومت پنجاب کا ےہ اےک احسن اقدام ہے کیونکہ اس سے گردوارہ کی عمارت محفوظ رہے گی ۔ جس دن ہم مخدوم پور گئے تھے ، اس دن سکول کی چھٹی تھی ،اس لئے گورنمنٹ ہائےر سیکنڈری سکول مخدوم پور کے پرنسپل، اساتذہ کرام اور طلبہ سے ملاقات نہ ہوسکی جس کی تشنگی رہی ۔ ترقی ےافتہ ممالک نے تعلیم اور انصاف کے بدولت ترقی کی ہے ۔ جن ممالک میں مناسب ،ےکساں اور جدےد تعلیم دی جاتی ہے اور لوگوں کو انصاف دےا جاتا ہے،وہی ممالک ترقی کے زےنے طے کرتے ہیں جبکہ جن ممالک میں طبقاتی نظام تعلیم اور انصاف کا فقدان ہو ، وہ ممالک ترقی نہیں کرسکتے ہیں ۔ وطن عزےز پاکستان کی پسماندگی کی سب اہم وجہ طبقاتی نظام تعلیم اور انصاف کا فقدان ہے ۔ مخدوم پور پہوڑان کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جواس علاقے کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی بتارہی رہی ہیں ۔ مخدوم پورکے ہائےر سکینڈری سکول دےکھنے کے بعد بازار کی طرف جارہے تھے توچند بزرگ کھڈےوں (لومز)پرکھدر کا کپڑا بنا رہے تھے،وہ اپناکام محنت ، توجہ اور صفائی سے کررہے تھے ۔ انہیں دےکھ کرہمارے قدم جم گئے اورہم رکنے پر مجبور ہوگئے ۔ مجھے بزرگوں اور بچوں سے بہت محبت ہے کیونکہ بزرگوں کے پاس تجربات ہوتے ہیں جبکہ بچوں میں منافقت نہیں ہوتی ۔ مخدوم پور کے بزرگ کارےگر نے کھلے دل سے ہمارا استقبال کیا اور ہمارے ساتھ خوب باتےں کیں ۔ انھوں نے کہا کہ;34; مخدوم پور نے ہی سب سے پہلے صوبہ پنجاب میں کھدر کو متعارف کراےا ۔ مخدوم پور میں کھدر کابزنس بہت قدےم ہے لیکن مخدوم پور کے اس کاروبار پر آمدو رفت کی وجہ سے زوال ہے ۔ پروڈکشن تےارہوتی ہے لیکن خرےدار نہیں ہوتے کیونکہ ےہاں آمدورفت کے ذراءع نہیں ہیں اور سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ سڑکیں بن جائےں تولوگوں کا آنا جا نا شروع ہوجائے گا اور پھر سے کاروبار چمک جائے گا ۔ انھوں نے کہاکہ ہمارے شہر میں ترقےاتی کام نہیں ہوتے ہیں ، نہ جانے ہمارے شہر کی گرانٹس کہاں خرچ ہوتی ہیں ۔ ۔ ;23834;اےک اوربزرگ کارےگر اپنے کام میں مگن تھاتو جب ان سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ;34; میں گذشتہ پچاس سالوں سے یہی کھڈےوں کا کام کرتا ہوں ، ےہ ہمارا خاندانی کام ہے لیکن آج کل ےہ کاروبار بحران کا شکار ہے ۔ بجلی بہت زےادہ مہنگی ہے اور ٹےکس بہت زےادہ ہیں ۔ دھاگہ مہنگا ہورہا ہے ۔ آج کسی چےز کی قےمت دس روپے ہے تو کل اس کی قےمت بےس روپے ہوتی ہے ۔ کوئی کسی سے نہیں پوچھتا ہے اور حکومت کا کنٹرول نہیں ہے ۔ انھوں نے بتاےا کہ کارےگر دھےرے دھےرے ےہ کام چھوڑرہے ہیں کیونکہ اب اس کام میں بچت نہیں ہے ۔ حکومت بجلی سستی کرےں اورہمارے شہر کےلئے سڑکےں بنائےں تو ہمارا کاروبار بہتر ہوسکتا ہے ۔ ;34;اےک نوجوان کارےگر نے بتاےا کہ;34; اےک پاور لوم پرروزانہ بےس سے پچےس مےٹر کپڑا تےار ہوتا ہے ۔ کھدر کا کپڑانوے روپے فی مےٹر بےجتے ہیں ۔ ہمارا تےارکردہ کپڑا کمالیہ، فےصل آباد، لاہور، شیخوپورہ سمےت دےگر علاقوں میں جاتا ہے ۔ نوجوان کارےگر نے بتاےا کہ موجودہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے ہمارا مستقبل تارےک ہورہا ہے ۔ انھوں نے بھی بجلی اورٹےکس کم کرنے کوناگزےر قرار دےا اور مہنگائی کا رونا روےا ۔ اس کے بعد ہم نے مخدوم پور میں حضرت پیر سےد سخی رائیجن سلطان بخاری کے مزار پر حاضری لگائی ۔ وہاں مزار کے متوالی سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے بتاےا کہ;34; میں چالیس سال سے مزارپر خدمات سرانجام دے رہاہوں ۔ حضرت پیر سےد سخی رائیجن سلطان بخارہ سے آئے تھے ۔ ےہاں انھوں نے درس وتدرےس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ان کا سالانہ عرس رجب میں ہوتا ہے ۔ ;34;متوالی نے ولی اللہ کے بہت سے کرامات بھی بےان کیے ۔ اس کے بعد ہم مخدوم پور کے بازار میں گئے اور ان کے بعض حصے بھارتی شہر بنارس کے بازاروں کی طرح ہیں ۔ مخدوم پور کا اندورن بازار صاف ستھرا تھا اوراس میں رنگ برنگ لاءٹس جل رہے تھے ۔ بازار میں اےک بزرگ ملے جو بھارتی شہر کرنال سے آئے تھے ۔ وہ مہنگائی سے بہت تنگ تھے ۔ انھوں نے بتاےا کہ مہنگائی بہت زےادہ ہے ۔ عمران خان نے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے ۔ بجلی، گےس، پٹرول بہت مہنگے کیے ہیں ، مہنگائی بہت زےادہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ;34; وزےراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ مہنگائی پر کنٹرول کرےں اور غرےب عوام کی طرف دےکھیں ۔ ;34;اےک اور بزرگ گےس لوڈشےڈنگ سے بہت نالاں نظر آئے ۔ اےک نوجوان انجینئر سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے بتاےا کہ ;34;مخدوم پور کی تارےخ پرانی ہے ۔ شیر سوری کا گذر بھی اسی شہر سے ہوا اور ےہاں پڑاءو بھی کیا ۔ ےہاں سکھوں کا گردوارہ ہے ۔ تقسےم ہند سے پہلے ےہاں پر ہندو اور سکھ رہتے تھے ۔ ےہاں پروہی پرانا بازار اور عمارتےں موجود ہیں ۔ ےہاں کا کھدر بہت مشہور ہے ۔ ےہاں پر کھڈےاں تھیں اور پھر ان کی جگہ پاور لومز لگائے گئے ۔ کھدر کے علاوہ دےگر پروڈکشن بہت ہیں جوکہ پاکستان سے باہر بھی برآمد کرتے ہیں ۔ مخدوم پور کا سوہن حلوہ معروف ہے ۔ سےاستدانوں نے مخدوم پور کی طرف توجہ نہیں دی ۔ ےہاں تعلیمی سہولےات کا فقدان ہے، نہ لڑکوں کےلئے کالج ہے اور نہ ہی لڑکیوں کے لئے کالج موجود ہے ۔ ہم کافی عرصے سے پوسٹ گراےجوےٹ کالج کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ےہاں سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے ۔ مخدوم پور کےلئے اےک روڈخانےوال سے، دوسری سڑک کبےروالہ سے اور تےسری عبدالحکےم سے آتی ہے، تےنوں روڈٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ انھوں نے مقامی سےاستدانوں پر تنقےد بھی کی ۔ نوجوان انجینئر لاہور ملتان موٹروے کی تعمےر سے خوش تھا اور انھوں نے وزےراعلیٰ پنجاب سے مخدوم پور کے روڈزکی مرمت کا مطالبہ بھی کیا ۔ ;34;ابھی مخدوم پور کی گلیوں میں مزےد گھومنے پھرنے کی تمنا تھی لیکن چند احباب نے ظہرانے کا اہتمام کیا تھا لہٰذاہ میں ےہ سفر محدود کرنا پڑا ۔ ہمارے اس کاروان میں پروفےسر عارف حبےب خٹک،نمبردار شفقت حسےن،نمبردار نصراللہ خان،نمبردار عابد حسےن اور مظہر لدےانہ شامل تھے ۔ مخدوم پور پی پی205،اےن اے151 تحصےل وضلع خانےوال میں شامل ہے ۔ اس علاقے کے اےم اےن اے اور اےم پی اے کو چاہیے کہ وہ کبھی کبھار مخدوم پور کے لوگوں کا حال واحوال بھی درےافت کر لیا کرےں اور ان کے مسائل بھی حل کیا کرےں ۔ ےہ آپ کی خوشی کےلئے ہرقربانی کےلئے آمادہ رہتے ہیں ، آپ بھی ان کا تھوڑا خیال رکھےں تاکہ ان کے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھر جائے ۔