- الإعلانات -

اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والی روش کو ختم کرنا ہو گا

میرا اس بنچ اور بار سے اتنا سا تعلق ہے اسے جب درد ہوتا ہے تومجھے محسوس ہوتا ہے ۔ اسلام آباد بار کے صدر اور سیکٹری اور،بار کونسل کے ممبر سمیت اپنے دوسرے وکلا ساتھیوں کےساتھ جیل میں ہیں اور ان کے لائسنس بھی کینسل ہیں ۔ آٹھ فروری کے بن اور بار کے حادثے کے بعد اب بھی آفٹر شاک آ رہے ہیں اوراگرایسے ہی رویہ رکھے گئے توآتے رہےں گے ۔ چناءو کے بارے میں حضرت علی;230; نے فرما رکھا ہے کہ ہمیشہ ایسے شخص کو چنا کرو جو آپکو عزت دے کیونکہ عزت محبت سے کہیں زیادہ خاص ہوتی ہے ۔ اب وقت بتارہا ہے کہ ہم سب ماضی میں اپنے الیکشنوں میں چناءو ایسے نہیں کرتے رہے ۔ موجودہ حالات میں اگر پاکستان کے سینئر وکیل حامد خان، صدر سپریم کورٹ بالالہ لطیف خان آفریدی ،سابق گورنر سینئر وکیل سردار لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین وکلا کا کیس سننے کے بعد چیف جسٹس سے چیمبر میں نہ ملتے تو آج دم دم مست قلندر ہو چکا ہوتا ۔ ان سب کا شکریہ ادا کریں ۔ سردار لطیف خان کھوسہ نے وکلا کےلئے اسلام آباد میں ڈھیرے ڈالے رکھے ۔ قید وکلا کے کیسوں میں پیش بھی ہو رہے ہیں ۔ ویلڈن کھوسہ صاحب ۔ یہ سچ ہے موجودہ تصادم سے بنچ اور بار دونوں تکلیف میں ہیں ۔ اس میں پہلا قصور ان کا ہے جنہوں نے بے وقت کی راگنی الاپتے ہوئے وکلا کے دو چمبروں کے بجائے کئی چمبر گرا د ئے ۔ دوسرا قصور ان وکلا کا ہے جنہوں نے احتجاج کا غلط طریقہ اپناتے ہوئے چیف صاحب کے آفس کا نہ صرف فرنیچر توڑا ساتھ میں اوران کا دل بھی توڑا ۔ سخت سے سخت الفاظ بولتے وقت ہ میں یہ یاد نہیں رہتا کہ سننے والے کو یہ الفاظ کب تک یاد رہتے ہیں ۔ جسم پر لگا زخم تو جلد ٹھیک ہو سکتا ہے مگر ٹوٹا دل جلد جڑتا نہیں ۔ کہا جاتا ہے جہاں عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں خونی انقلاب آتا ہے ۔ جو کچھ اسلام آباد بنچ اور بار کے ساتھ ہوا ہے ۔ ایسا سین شاید ہی دنیا کی کسی عدالت میں دیکھنے میں آیا ہو ۔ حالیہ واقع کے بعد راقم کی سینئر وکلا کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من ا ;203; سے بھی ملاقات ہوئی ۔ چیف جسٹس صاحب حسب عادت خوش اخلاقی سے ملے ۔ عزت دی ۔ آپ نے دکھ بھرے لہجے میں حال پوچھا ۔ راقم نے کہا آج آپ یہ سمجھیں کہ لگی آگ پر ایک پرندہ اپنی چونچ میں پانی کا قطرہ لایا ہے ۔ اس موقع پر چیف صاحب کوراقم نے اپنا ہفتہ روزہ کالم پیش کیا ۔ آپ نے کہا میری یہی کوشش ہے اور رہے گی کہ بار اور بنچ کی عزت کو برقرار رکھوں ۔ وکلا کے لیڈران نے سمجھداری کا ثبوت دینے کے بجائے جلتی آگ پر تیل ڈالا،جس سے تنازعہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑا ۔ یہ بھی لگا کہ ہمارے بڑوں نے بڑا رول ادا نہیں کیا یا اب بڑے ہے ہی نہیں ۔ امید تھی کہ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کےلئے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اپنا رول ادا کریں گے ۔ مگر اب ان کی بلا سے ۔ سیاسی جماعت تو انہوں نے بنا لی مگر اس موجودہ صورتحال میں ملک کی سیاسی جماعتوں کیساتھ یا الگ کھڑے بھی کئی دکھائی نہیں دے رئے ۔ کہا جاتاہے ماضی کی اڑان کسی کے ہوا بھرنے سے ممکن ہوئی تھی ۔ بحرحال کئی بھی نہیں ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے ۔ ورنہ ان پر وکلا کا قرض تھا ۔ یہ قرض اب ادا کر سکتے تھے مگر موقع کو ضائع کر دیا ۔ جسے وکلا اپنا ہیرو سمجھتے تھے اب وہ ان کی نظر میں زیرو ہے ۔ اب دو فریقین کے درمیان تنازعہ کی شکل کیس سپریم کورٹ میں پہنچا اور سینئر وکلا کے تعاون سے بہت بہتر رزلٹ ملے ۔ سپریم کورٹ کیس میں سینئر وکلا حامد خان، لطیف خان آفریدی ، شعیب شاہین ،حسن رضا پاشا ، ذوالفقار علی عباسی ، علیم عباسی ،ہارون الرشید ، اشرف گجرایڈووکیٹ نے حصہ لیا ۔ اس کیس میں بطور اے او آر طارق عزیز پیش ہوئے ۔ اگر منصف کی آواز فریادی کی آواز سے اونچی ہو جائے تو سمجھ جاءو انصاف نہیں ہو سکتا ۔ یہ سچ ہے کہ وکلا کے تمام چمبر الیگل ہیں مگر انتظامیہ کی رضامندی سے یہ سب چمبر وجود میں آئے ۔ راقم کا چمبر جس بلاک میں ہے اس بلاک کا افتتاح راقم بطور چیئرمین ینگ لائرز فورم نے اپنے ساتھیوں کے تعاون سے سابق کیئر ٹیکر وزیراعظم ملک معراج خالد مرحوم کے دست مبارک سے کروایا تھا ۔ جبکہ آج تک کسی عدالت کا افتتاح کسی شخصیت نے نہیں کیا ۔ یہ عدالتیں دوکانوں میں ہیں مگر پھر بھی یہ لیگل ہیں ۔ اگر کہا جائے کہ وکلا چمبروں کے ساتھ یہاں کی عدالتیں بھی الیگل ہیں تو غلط نہ ہو گا ۔ ایسے میں اچھا فیصلہ یہی ہے کہ جب تک یہاں سے کچہریاں شفٹ نہیں ہو جاتیں ۔ وکلا کوبھی یہاں رہنے دیا جائے ۔ اب فٹ گرائنڈ تمام چمبرز گرا دئے جائیں گے لیکن باقی چمبروں کو رہنے دیا جائے گا ۔ اس عرصے میں وکلا لیڈران کا زور اور کوشش جلد از جلد کورٹ کمپلیکس کئے جانے پر ہونی چائیے ۔ کہا جاتا ہے آج کا نوجوان وکیل خود رو پودے کی طرح پروان چڑ رہا ہے ۔ ان میں اچھے سمجھدار وکلا کی تعداد آج بھی زیادہ ہے ۔ راولپنڈی لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن میں نوجوان وکیل حسیب پراچہ کو بار سیکٹری کی سیٹ سے ہار نے کے باوجود اپنے آپ کو بکھرنے سے بچا لیا بلکہ ان کی دل جیت بھی لئے ۔ حسیب نے اچھے انداز میں اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کے تمام رزلٹ خود فیس بگ پر پوسٹ کرتے ہوئے جیتنے والوں کو مبارکباد دی ۔ ایسا کر کے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ۔ ویلڈن حسیب ۔ ایسا کر کے آئندہ کےلئے جیت کا راستہ تم نے کلیئر کر لیا ہے ۔ اسلام آباد کچہری کے واقع میں بنچ ، بار اور انتظامیہ یہ تینوں قصور وار ہیں ۔ قصوروار ایسے عہدےدران بھی ہیں جو سارا سال اپنے ذاتی مفاد کے گرد گھومتے رہے اور وکلا کےلئے کچھ نہ کر پائے ۔ چند وکلا لیڈران کے رویے دوکانداروں لیبر کلاس کی عکاسی کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں اوربد نام سبھی وکلا ہوتے ہیں ۔ ذرا سی بات پر ہڑتال کا اعلان کر دینا کیا یہ جائز ہے ۔ کبھی سو چا ہے ہڑتالوں کا نقصان کس کاہوتا ہے ۔ اس کا نقصان صرف وکلا اور سائلین کاہے کسی تیسرے شخص کا نہیں اور بدنام بھی وکلا ہی ہوتے ہیں ۔ لہٰذادو چار وکلا کے سوا سب کا یہی کہنا ہے کہ وکلا کو ہڑتالیں نہیں کرنی چائیے ۔ سینئر وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ ہم پاکستان بار کونسل کے فورم پر ہڑتالوں پر پابندی کی حمایت کر چکے ہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ ہڑتالوں کے بجائے احتجاج کے طور پر بار وں پر سیاہ پرچم لہرا یا کریں اور وکلا اپنے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوا کریں ۔ بار روم میں اجلاس بلائیں ۔ پریس ریلیز جاری کیاکریں ۔ میڈیا پر احتجاج ریکارڈ کرائیں ۔ مت بولیں احتجاج دوکاندا ،فیکٹری ورکر، مزدور بھی کرتے ہیں ۔ گزارش ہے کہ وکلا کے ایکشن ان جیسے نہیں ہونے چائیے ۔ وکلا کے احتجاج میں قائد اعظم کے پیشہ کی جھلک دکھا ئی دینی چاہیے ۔ ابھی جوچیمبر گرائے جانے پر احتجاج ہوا کیا ایسا کرنا ہ میں زیب دیتا تھا ۔ کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وکلا کو ہتھکڑیاں کےساتھ عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔ صدر ہائی کورٹ بار حسیب چوہدری ، سیکٹری سہیل چوہدری اور ان کی کابینہ کے چند ساتھیوں کا موجودہ حالات میں اچھا کردار رہا ہے ۔ کیا ہی بہتر ہوتا جب تک حالات نارمل نہیں ہو جاتے اسی کیبنٹ کو کام کرنے دیا جاتا ۔ اس سال اسلام آباد بار کے الیکشن میں ووٹر نے بہت کم حصہ لیا ۔ پھر جو جیتے ان کے لائسنس کینسل ہو چکے ہیں ۔ وہ یا توجیل میں ہیں یامفرو ر ہیں ۔ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ الیکشن میں یہ حصہ ہی نہ لیتے ۔ لگتا ہے وکلا کے الیکشن رول میں تبدیلیاں لانا ہونگی ۔ جس کے تحت ینگ وکلا کو کم از کم دس سا ل تک بار کے الیکشنوں سے دور رکھا جاسکے ۔ بار کے الیکشن میں صدر کم از کم تیس سال، جنرل سیکرٹری بیس سال جوائنٹ سیکٹری پندرہ سال جوائنٹ سیکرٹری دس سال کی پریکٹس کی شرط رکھی جائے ۔ ایسی پابندی سے ینگ وکلا میں وکالت میں دلچسپی دیکھنے میں آئے گی اور وکلا کو میوچور لیڈر شپ ملے گی ۔ وہی وکلا الیکشن میں حصہ لیں جو پریکٹس میں اپنا نام بنا چکے ہوں ۔ جنہیں نہ پیسے بنانے کی ضرورت ہو اور نہ جج بنے کی خواہش رکھتے ہوں ۔ ایک پابندی یہ بھی لگائی جائے کہ ہر وکیل ایک بار کسی ایک سیٹ پر ہی الیکشن میں حصہ لینے کا مجاز ہو گا ۔ ایسا کرنے سے وہ وکلا جو الیکشن میں ہمیشہ ان رہتے ہیں ان سے بھی نجات مل جائے گی ۔ راولپنڈی بار کے سینئر ایڈووکیٹ شبیر بشیر انصاری مرحوم کے جونیئر ایڈووکیٹ چوہدری امتیاز احمدنے بتایا کہ وکلا انصاری صاحب کے پاس حاضرہوئے کہ سر آپ اس سال بار کے صدر کی سیٹ پر حصہ لیں ۔ آپ نے ایک شرط رکھی کہ میں ووٹ مانگنے کسی کے پاس نہیں جاءوں گا اورہڑتالوں میں حصہ نہیں لونگا ۔ سب نے اس پر اتفاق کیا پھر آپ کے الیکشن پیپر جمع کرائے گئے اور آپ بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے ۔ بتایا بیٹے جسٹس تنویر بشیر انصاری مرحوم کے ہائی کورٹ جج بنے پر آپ نے نا پسندیگی کا اظہار کیاتھا ۔ مگر اب ایسا نہیں ہے ۔ اس امید سے ہوں ۔ شاخیں اگر رہی تو پتے بھی آئیں گے ۔ یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے ۔ انشا ا;203;