- الإعلانات -

ملکی ترقی کے لئے اداروں کی مضبوطی ضروری

الیکشن کمیشن ;200;ف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر ;200;ئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور جس نتیجے پر اعتراض کیا گیا ہے اس کو مسترد کرتے ہیں ۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری بیان میں ای سی پی نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن ;200;ئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم خداوند تعالی کے شکر گزار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں ;200;ئے ان کو سن کر دکھ ہوا، خصوصی طور پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بالخصوص جناب وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں فرمایا،الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ای سی پی نے کہا کہ اس ضمن میں وضاحت کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک ;200;ئینی اور ;200;زاد ادارہ ہے، اس کو ہی دیکھنا ہے کہ ;200;ئین اور قانون اس کو کیا اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا معیار ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر ;200;ئین اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی ترمیم کر سکتے ہیں ، اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات یا فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ ;200;ئینی راستہ اختیار کریں اور ہ میں ;200;زادانہ طور پر کام کرنے دیں ، ہم کسی بھی دبا میں نہ ;200;ئے ہیں اور نہ ہی ان شا اللہ ;200;ئیں گے ۔ الیکشن کمیشن نے ہر کسی کا موقف سنا، ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا، الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف ;200;ئین و قانون کی روشنی میں ہی اپنے فراءض سرانجام دیتا ہے اور ;200;زادانہ طور پر بغیر کسی دبا کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستان کے عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے ۔ یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹورل میں ایک ہی عملے کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں جبکہ باقی تمام صوبوں کے نتاءج قبول، جس نتیجے پر تبصرہ اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے ۔ یہی ہے جمہوریت اور ;200;زادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی ;200;ئین کی منشا تھی، جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا;238; جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے ۔ اگر اسی طرح ;200;ئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی ۔ ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ ;200; کر بات کریں ، الیکشن کمیشن انشا اللہ خدا کے فضل وکرم سے اپنی ;200;ئینی ذمہ داریاں بخوبی قانون اور ;200;ئین کی بالا دستی کےلئے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا ۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں 3 مارچ کو اسلام ;200;باد کی سینیٹ کی نشستوں کےلئے انتخابات ہوئے تھے جہاں حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست جبکہ خاتون امیدوار کامیاب ہوئی تھیں اور اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ اسلام ;200;باد میں اس اپ سیٹ شکست کے بعد جہاں حکومت کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا وہیں اپوزیشن نے اس پر جشن منایا اور وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ۔ یقینا الیکشن کمیشن نے خفیہ رائے شماری کے مروجہ طریق کار کے تحت ہی سینیٹ کے انتخابات کا انعقاد طے کیا جس کےلئے ایک خودمختار ;200;ئینی ادارے کی حیثیت سے اسے اختیار بھی حاصل ہے اس لئے اب کسی فریق کی جانب سے کوئی مین میخ ڈالے بغیر سینیٹ کے انتخابات کا عمل قبول کرناچاہیے اور الیکشن کمیشن یا کسی دوسرے ریاستی ادارے کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے ۔ اب اگرآئندہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کا خاتمہ مقصود ہے تو اس کےلئے باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں ;200;ئینی ترمیم لائی جائے ۔ اس حوالے سے کسی ماورائے ;200;ئین سوچ کی بہرحال حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے ۔ سیاست میں اختلافات شجر ممنوعہ اور زہرقاتل نہیں مگر یہ ذاتیات اور دشمنی تک بھی نہیں بڑھنے چاہئیں ۔ یوسف رضا گیلانی کے جیتنے پر انکے مدمقابل حفیظ شیخ نے انہیں مبارکباد دی اور دونوں اکٹھے ایوان سے گپ شپ کرتے باہر ;200;ئے ۔ ایسے تحمل پر مبنی رویے جمہوریت کی مضبوطی کے ضامن بنتے ہیں ۔ ;200;ج ایسے ہی رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک سوال ہے ووٹوں کی خریدوفروخت کا تو یہ ناقابل معافی جرم ہے جن جن ارکان کی ویڈیویاثبوت سامنے آئے ہیں یاجو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں توان ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو کٹہرے میں لایا جائے اور تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر ایوان بالا کا تقدس پامال کرنےوالوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے ۔ حالات اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے تاکہ اس مکروہ اور قبیح فعل کا مستقل بنیادوں پر سدباب ہو ۔

آرمی چیف کا چولستان صحرا میں فیلڈ تربیتی علاقے کا دورہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چولستان صحرا میں فیلڈ تربیتی علاقے کا دورہ کیا ۔ چیف آف آرمی سٹاف کو کور کی سطح پر دو ہفتوں پر محیط مشق ضرب حدید کے انعقاد کے طریقوں کے بارے میں بتایا گیا ۔ ایکسرسائز کا مقصد انفنٹری، مشینی دستوں ، لڑاکا ایوی ایشن، نگرانی کرنے والے پلیٹ فارمز، توپخانہ اور آرمی ایئر ڈیفنس کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعہ کور کے دفاعی آپریشنل سائیکل کے اندر رہتے ہوئے فارمیشنوں کی آپریشنل تیاری بڑھانا ہے ۔ مختلف مراحل کے دوران مشقوں میں شریک فوجیوں اور یونٹوں نے دفاعی اور جارحانہ انداز اختیار کرنے کے دوران اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ۔ چیف آف آرمی سٹاف نے مشق میں شریک ٹروپس کے پیشہ ورانہ معیار اور جذبہ کو سراہا اور بہاولپور کور کی جنگی تیاری اور تربیت کے معیار پر مکمل اطمینان ظاہر کیا ۔ انہوں نے زور دیا کہ بہترین تربیت اور عزم سے خطرات اور چیلنجز کے موثر رسپانس کےلئے آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ بعد ازاں آرمی چیف نے بہاول پور کور کی لاجسٹک تنصیبات کا دورہ کیا اور انجینئرنگ کی مہارت اور مینٹیننس کے اعلیٰ حاصل شدہ معیار کی تعریف کی ۔ فوجی مشقوں سے پاکستانی افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ بھارت روایتی اور غیرو روایتی ہر قسم کے ہتھیار اکھٹے کررہا ہے اور ایسی صورت حال میں پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتا ۔

سبی میں دھماکہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

گزشتہ روزسبی کے قریب بم دھماکے میں 5 مزدور جاں بحق جبکہ 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے ۔ دھماکا سبی سے 30 کلو میٹر دور تندوری کے علاقے میں ہوا ۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والے مزدور ایک پک اپ میں سفر کر رہے تھے کہ اس وقت سڑک کنارے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا جب ان کی گاڑی اس علاقے سے گزر رہی تھی ۔ مرنے والے مزدور پانی کی پاءپ لائن کے منصوبے پر کام کے لیے تندوری جارہے تھے اور ان کا تعلق پنجاب سے تھا ۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے واقعے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انکے پیچھے دہشت گردی کے بچے کھچے عناصر ہی ملوث ہیں ۔ جو بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بچ کر محفوظ پناہ گاہوں میں دبکے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ انہیں مقامی سہولت کاروں کی مدد بھی حاصل ہے ۔ مگر کھل کر ان میں کچھ کرنے کی ہمت اور سکت نہیں رہی ۔ اب یہ بزدل دہشت گرد چھپ کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ گزشتہ روز بھی ایسی ہی بزدلانہ کارروائی میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے ۔ دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ غیرملکی ایجنڈوں کی کارروائی ہے جو بیرونی فنڈز پر پلتے ہیں ۔ دشمن قوتیں ملک میں امن کوپھلتاپھولتانہیں دیکھنا چاہتیں اور وہ موقع ملنے پر کوئی نہ کوئی کارروائی کرتی ہیں ۔ ;200;ج ضرورت انکے مکمل قلع قمع کی ہے ۔ اس کیلئے ایجنسیوں کو مزید متحرک ہونا ہو گا اور حکومت کی طرف سے سہولت کاروں کیلئے زیرو ٹالرنس کی ضرورت ہے ۔ سکیورٹی ادارے ان کارروائیوں کے سدباب کیلئے سخت ;200;پریشن کرکے ان چھپے دہشت گردوں اور ان کو پناہ اور اسلحہ فراہم کرنیوالے عناصر کی بیخ کنی کریں ۔ یہ وطن دشمن جہاں بھی دبکے بیٹھے ہوں انہیں ڈھونڈ نکال کر انکے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کیا جائے تاکہ ان کی وطن دشمن کارروائیوں کا سدباب ہو ۔