- الإعلانات -

درختوں کی کٹائی ۔ ۔ ۔ !

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کرےم نے چےئرمین ماحولیاتی کمیشن جسٹس رےٹائرڈ علی اکبر شاہ کی درخواست پر ملتان میں آموں کے درخت کاٹنے سے انتظامیہ کو روک دےا ۔ ماحولیاتی کمیشن کے فوکل پرسن سےد کمال حےدر نے موقف اختےار کیا ہے کہ ملتان میں آموں کے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے ۔ ، پہلے ہی ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے، درختوں کی کٹائی سے مزےد ماحولیاتی آلودگی بڑھ جائے گی ۔ جسٹس شاہد کرےم نے رےمارکس دیے کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور صاف پانی کو بچانے کےلئے جسٹس رےٹائرد علی اکبر قرےشی نے تارےخی اقدامات کیے، عدالت نے کمیشن کو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کاروائےاں جاری رکھنے کا حکم دےا ۔ ;34;وطن عزےز پاکستان بنےادی طور پر اےک زرعی ملک ہے لیکن اس وقت صورت حال ےوں ہے کہ گندم ، کپاس، دالیں سمےت ہر چےز برآمد کرتے ہیں ۔ ےہ المیہ ہے لیکن ارباب اختےار اور شہرےوں نے بالکل دماغ ،کان اور آنکھےں بند کیے ہوئے ہیں ۔ گذشتہ بےس سالوں میں لاکھوں اےکٹر زرخےز زرعی زمینیں ہاءوسنگ اسکمیوں کے نذر کرچکے ہیں اور کروڑوں درخت کاٹ چکے ہیں ۔ وطن عزےز پاکستان میں جس طرح ہاوسنگ اسکیمےں بن رہی ہیں ، اسی کی نظےر دنےا میں کہیں بھی نہیں ملے گی ۔ اگر ےہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتاءج انتہائی بھےانک اور ناقابل برداشت ہونگے ۔ ہاوسنگ اسکیموں سے چند گھرانوں اور خاندانوں کے پاس پیسہ تو آجائے گا لیکن وطن عزےز پاکستان میں وہ لاکھوں افراد بے روزگار ہوجائےں گے جو زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہیں ۔ ہماری صنعتےں بند ہوجائےں گے اور ان کے لاکھوں مزدوروں کے چولہے بجھ جائےں گے ۔ لوگ بیروزگار ہونگے تو جرائم میں بہت زےادہ اضافہ ہوگاجس کے نتاءج بھی غےر ےقےنی ہونگے ۔ ضرورےات زندگی کی ہر چےز برآمد کرنے پر مجبور ہونگے ۔ درختوں کے بے درےغ کاٹنے سے گزشتہ بےس سالوں میں وطن عزےز میں ماحولیاتی آلودگی کا راج ہے جس سے ہرسال لاکھوں افراد بےمار ہوررہے ہیں اور اسی طرح لوگ موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں ۔ وطن عزےز میں ہاءوسنگ اسکیموں کی وجہ سے ہر طرف سے ملک اور قوم کاناقابل برداشت نقصان ہورہا ہے لیکن ان کو کوئی بھی روک نہیں سکتا کیونکہ ہاءوسنگ اسکیموں کے پیچھے اتنے مضبوط ، طاقت ور اور لمبے ہاتھ ہیں کہ کسی میں ان کو روکنے کی سکت ہی نہیں ہے ۔ جو لوگ ذاتی مفادات کو ملک و ملت پر ترجیح دےتے ہیں ، اےسے لوگوں کا تارےخ میں ذکر کرنا بھی گوارا نہیں کیا جاتاہے اوران لوگوں کا انجام برا ہوتا ہے ۔ اےسا لگ رہا ہے کہ ملک میں کوئی نظام نہیں ہے ، جس کے بس میں جو آئے کرلےتا ہے ۔ حکومت اور رےاستی اداروں کی عےن ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور ملت کے حال اور مستقبل میں نقصان اور خطرات کا باعث بننے والوں کا تدارک کرےں ۔ سےاستدانوں اور دےگر کی دلچسپی ملک میں اس لئے نہیں ہے کہ ان کی جائےدادےں اور سب کچھ ملک سے باہر ہےں ۔ جب تک سےاستدانوں اور دےگر پر ملک سے باہر جائےدادےں بنانے پر قدغن نہیں لگتی ، اس وقت تک ان سے ملک وملت کی خےرخواہی کی توقع فضول ہے ۔ اب لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ کون لوگ ہیں جو ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں ;238;کون لوگ ہیں جو ملک سے باہر جائےدادےں بنارہے ہیں ;238; جب تک ان لوگوں کا راستہ بند نہیں کیا جاتا ہے، پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔ اپنے وطن سے محبت اےمان کی نشانی ہے ۔ ملک وملت کےلئے سوچنا اور کرنا چا ہیے ۔ الحمد اللہ وطن عزےز پاکستان کی اکثرےت مسلمان ہےں ۔ اسلام میں درختوں کی کٹائی سے منع کیا گےا ہے اورپودے لگانے کی تلقےن کی گئی ہے ۔ نبی کرےم ﷺ نے فرماےا کہ مسلمان کوئی درخت ےا کھیتی لگائے اور اس میں سے انسان ، درند، چرند کھائے تو وہ اس کےلئے صدقہ ہوجاتا ہے ۔ (مسلم شرےف ) ۔ نبی کرےم ﷺ نے اےک اور موقع پر فرماےا کہ ;34; جس کے پاس زمین ہو ،اسے اس زمین میں کاشتکاری کرنی چاہیے ،اگر وہ خود کاشت نہ کرسکتا ہوتو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے تاکہ وہ کاشت کرے ۔ (مسلم شرےف ) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرماےا کہ ;34; اگر قےامت برپا ہورہی ہواور ت میں پودا لگانے کی نےکی کاموقع مل جائے تو فوری اس نےکی میں شامل ہوجاءو ۔ ;34;آپ اس سے اندازہ لگائےں کہ پودے لگانے کا کتنا زےادہ ثواب اور اہمیت ہے ۔ اللہ رب العزت قرآن مجےد فرقان حمےد سورۃ النحل میں فرماتے ہیں کہ;34;وہی ہے جو تمہارے فائدہ کےلئے آسمان سے پانی برساتا ہے، جسے تم پیتے بھی ہو اور اس سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو،اس سے وہ تمہارے لئے کھےتی اورزےتون اور کھجور اور انگور اور ہرقسم کے پھل اگاتا ہے، بےشک ان لوگوں کےلئے تو اس میں نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں ۔ ;34;وزےراعظم پاکستان عمران خان درخت لگانے کےلئے کوشاں ہیں جوکہ خوش آئند بات ہے ۔ ےہ صرف وزےراعظم کا فرض نہیں ہے بلکہ ہر شہری کوچاہیے کہ وہ درخت لگائےں ۔ وزےراعظم عمران خان کے انتخابی حلقہ میانوالی میں تبی سر، روغان ، ٹولہ بانگی خیل کے دےہات زےتون کے درختوں کے باغات کےلئے بہترےن ہیں لیکن وہاں پر ڈپٹی کمشنر میانوالی اور دےگر ذمہ داروں نے کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ تبی سر، روغان اور ٹولہ بانگی خیل کے دےہاتوں میں زےتون کے باغات لگائے جائےں تو اس سے نہ صرف ماحول خوشگوار ہوجائے گا بلکہ پاکستان زےتون کے تےل کے پیداوار میں خودکفےل ہوگا اور زرمبادلہ بچاےا جاسکے گا ۔ کالاباغ شہر سے کوٹ چاندنہ تک نواب آف کالاباغ ملک امےر محمد خان نے آم سمےت دےگر ناےاب درختوں کے باغات لگائے تھے لیکن اب وہاں باغات ختم ہوگئے ہیں ۔ کالاباغ کے آم ذائقہ کے لحاظ سے منفرد تھے ۔ لاہور باغوں کا شہر تھا لیکن آج آلودگی میں نماےاں پوزےشن پر ہے ۔ لاہور میں صرف مخصوص مقامات پر پودے لگائے جاتے ہیں لیکن عام علاقوں میں نہ پودے لگائے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کی جاتی ہے ۔ لاہور کے مضافاتی علاقہ جات میں سرسبز کھےت ہاءوسنگ اسکیموں کے بھےنٹ چڑھ رہے ہیں ۔ اسی طرح وطن عزےز کے دےگر علاقہ جات میں باغات اور سرسبز کھےت تما م ہورہے ہیں اور ہاءوسنگ اسکے میں بن رہی ہیں ۔ حکومت اور رےاست کا فرض ہے کہ وہ اےسی اسکیموں کی حوصلہ شکنی کرےں اور فلےٹوں کا رواج اپناےا جائے ۔ اگر ہم اپنے ملک اور نئی نسل کےلئے نہیں سوچےں گے تو پھر کون ملک کی حفاظت کرے گا اورملک کےلئے کون سوچے گا;238;لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کرےم کاچےئرمین ماحولیاتی کمیشن جسٹس رےٹائرڈ علی اکبر شاہ کی درخواست پر ملتان میں آموں کے درخت کاٹنے سے انتظامیہ کو روکنے کا فےصلہ خوش آئند ہے اوراسی طرح ملک بھر میں ہاءوسنگ اسکیموں پر قدغن ناگزےر ہے ۔ اس سلسلے میں تمام شہرےوں کا فرض ہے کہ وہ اےسی چےزوں سے پرہیز کرےں جو مستقبل میں ملک وملت کےلئے خسارے کا سودا ہو ۔ ےہ ملک ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے پاسبان ہیں ۔ وطن عزےز پاکستان سے محبت کا تقاضا ہے اورآج سے عہد کرےں کہ درخت نہیں کاٹےں گے بلکہ ہر شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ۔