- الإعلانات -

کشمیر کا سودا کوئی نہیں کرسکتا

روزنامہ پاکستان نے اپنا اداریہ بعنوان ;3939;وزیراعظم نے پھر کشمیریوں کے دل جیت لئے ;3939;لکھتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک بارپھراس بات کو ثابت کردیا کہ اصل کشمیریوں کے سفیر وہ ہیں ، وفاقی کابینہ میں انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کردیاکہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارت سے کوئی تجارت نہیں ہوسکتی، وزیراعظم کے اس فیصلے سے دنیابھر میں ایک انتہائی مثبت اورتعمیری پیغام کے ساتھ ساتھ بھارت کے ظلم وستم بھی بالکل واضح ہوگئے ہیں کیونکہ ایک طرف مودی خط لکھتاہے تو دوسری طرف وہ پاکستان کی پیٹ میں چھراگھونپنے سے بازنہیں آتا نیزنہتے کشمیریوں پربھی ظلم وستم اسی طرح جاری رکھاہواہے لہٰذا ایسے میں یہ کیونکرممکن ہوسکتاہے کہ کشمیریوں کے خون پر کیوں سوداہو ۔ لہٰذا اب بھارت کو سمجھ جاناچاہیے کہ اسے اب ہرصورت مسئلہ کشمیرکوحل کرناہوگا اورمقبوضہ وادی سے نہ صرف اپنی دہشت گردفوج نکالناہوگی بلکہ ناجائزقبضے کو بھی چھوڑناہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ۔ وفاقی کابینہ نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سمری مسترد کردی ۔ نیز اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی صورتحال پر غور کیا گیا ۔ بعض وزرا کی جانب سے بھارت سے تجارت بحال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ وزرا نے موقف اپنایا کہ جب تک بھارتی حکومت اپنے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتی تب تک اس کے ساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں ہونی چاہئے ۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی سفارش پر غور کیا گیا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے سستی چینی اور کپاس منگوانے کی سفارش کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی کے فیصلے کو حکومتی فیصلہ کہنا درست نہیں ۔ وزیر اعظم نے مودی کو خط کے جواب میں بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ کابینہ نے بھارت کے ساتھ چینی کپاس کی درآمد کی منظوری نہیں دی ۔ بھارت کے ساتھ تجارت کشمیر کی قیمت پر بحال نہیں ہوسکتی ۔ ملک کی 45 فیصد چینی کی پیداوار نواز شریف اور زرداری فیملی کے پاس ہے ۔ سٹہ کے ذریعے انہوں نے چینی کی قیمتیں بڑھائیں ۔ ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی ۔ شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا کہ اگر ایکشن نہ لیتے تو سٹہ کے ذریعے چینی کی قیمتیں ناقابل قبول حد تک اوپر چلی جاتیں بھارت سے چینی، کپاس اور دھاگا درآمد کرنے کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ۳۱مارچ کی تجویز کا وفاقی کابینہ کے یکم اپریل کے اجلاس میں مسترد کیا جانا خواہ بعض حلقوں کے خیال کے مطابق ’’یوٹرن‘‘ ہی تھا یا اس نوع کا تاثر اجاگر کرنے کا سبب بنا، یہ بات واضح ہوگئی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق خصوصی حیثیت بحال ہوئے بغیر بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی ۔ جیسا کہ میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا، یہ نہیں ہوسکتا کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے، مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق نہ دئیے جائیں اور ہم یہ سمجھیں کہ اس سب کے باوجود اسلام آباد اور نئی دہلی ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہی موقف ہے اور اسی موقف کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے ۔ فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’’عمران خان کے ہوتے ہوئے کشمیر کا سودا کوئی نہیں کرسکتا‘‘ ۔ کچھ دوست ہے اس بیان کو بڑے معنی خیز انداز میں لیا ہے حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے وزیراعظم پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو جس طرح تمام پلیٹ فارم پر اجاگر کیا ہے اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی عمران خان نے مسئلہ کشمیر کی بات کی تھی‘ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ وہ ماحول کہیں نظر نہیں آیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بربریت بدستور جاری ہے‘ عمران خان نے تعلقات اور تجارت کی بحالی کی بات نہیں کی تھی ۔ ایک دن یہ خط میڈیا کو جاری کیا گیا تو اگلے روز میڈیا میں چینی اور کپاس کی بھارت سے درآمد کی خبریں بھارت کے کشمیریوں پر لگائے گئے گھاءو پر نمک پاشی کررہی تھیں ۔ بھارت سے چینی اور کپاس دونوں سستے داموں ملیں گے اسکے سوا بھارت سے درآمد کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ بھارت میں پاکستان کی نسبت یہ اجناس سستی اس لئے ہیں کہ وہاں کسان کو زیادہ سے زیادہ سبسڈی دی جاتی ہے ۔ زرعی ٹیوب ویلوں کی بجلی فری ہے ۔ آپ کسان کو وہی سہولتیں دیں جو بھارتی کسانوں کو حاصل ہیں تو اناج کی درآمد کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ بھارت سے تو مسئلہ کشمیر کے حل تک کوئی بھی چیز سستی تو کیا مفت ملے تو بھی درآمد کی ضرورت نہیں ۔ چینی اور کپاس کسی بھی ملک سے آپ منگوالیں آخر قیمتوں میں کتنا فرق ہوگا ۔ اربوں ڈالر کا نہیں ہو سکتا ۔ حکومت ایسی درآمدات کو ٹیکس فری کرسکتی ہے ۔ بھارت کیساتھ کسی صورت معروضی حالات میں کسی بھی سطح کے تعلقات اور تجارت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کم از کم اس وقت تک جب وہ کشمیر کی 5 اگست سے قبل کی صورتحال بحال نہیں کر دیتا ۔ جہاں تک اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کا تعلق ہے ان کے بارے میں وضاحت سامنے آئی کہ یہ ادارہ خالص اقتصادی بنیادوں پر فیصلے کرتا ہے جن کی حیثیت تجاویز کی ہوتی ہے ۔ وفاقی کابینہ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی امور سمیت تمام پہلو مدنظر رکھ کر انہیں منظور یا نظرانداز کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ ذراءع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں چار وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شیخ رشید اور شیریں مزاری نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تجویز کی بھرپور مخالفت کی ۔ بھارت سے تجارت بحال کرنے کا فیصلہ نئے وزیر خزانہ حماد اظہر کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس کا پہلا اہم فیصلہ تھا جو ضروری اشیا کی سپلائی یقینی بنانے کے نقطہ نظر سے کیا گیا مگر طریق کار کے مطابق اس کے سیاسی، سفارتی اور دیگر پہلوءوں کا جائزہ وفاقی کابینہ کی سطح پر لیا جانا ضروری تھا ۔ روزنامہ پاکستان کی اطلاع کے مطابق قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان یہ واضح کرچکے تھے کہ ’’جب تک مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ۵ اگست 2019ء کے فیصلے واپس نہیں لئے جاتے، بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے‘‘ ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جو برٹش انڈیا کی تقسیم کے ایجنڈے کا نامکمل حصہ ہے محض زمین کے ٹکڑے کا جھگڑا نہیں ۔ ایک کروڑ انسانوں کے بنیادی حقوق اور امنگوں کے حصول کی ایسی جدوجہد کا حصہ ہے جس میں لاکھوں کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں ان کا حق خودارادیت کا موقف جنوبی ایشیا کے تمام مسلمانوں کے اس موقف کا حصہ ہے جس کا اظہار ۳۲مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور میں کیا گیا ایک اعتبار سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادی کی حمایت پاکستانیوں کا ایسا بنیادی موقف ہے جس نسل درنسل حفاظت حصول مقصد کے وقت تک پوری قوم اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے ۔ اس موقف کی حفاظت کے دوران پاکستانی قوم کی قربانیاں بھی تین کھلی جنگوں اور دہشت گردی کی صورت میں افغانستان کے راستے اندر سے مسلط کردہ طویل جنگ کی صورت میں نمایاں ہیں جن کے نتاءج سامنے آنے کی گھڑی قریب تر محسوس ہورہی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جب یہ کہتے ہیں کہ پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کے لئے اب بھارت کو پہل کاری کرنا ہوگی، تو اس کا واضح مفہوم یہی ہوتا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے سمیت سازگار فضا پیدا کرنا ہوگی ۔ دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں متقاضی ہیں کہ بھارت حقائق کو سمجھے، کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کرنے سمیت تمام غیرقانونی اقدامات واپس لے اور خطے کے لوگوں کے لئے امن و آشتی کی فضا میں ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر پیش قدمی کی راہ میں قائم کی گئی رکاوٹیں دور کرےاگر بھارت کو بھی امن مقصود ہے تو اسے یواین قراردادوں کے مطابق بہرصورت مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب آنا پڑیگا ۔ ہمارے دل کشمیری عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو اپنی آزادی کی جدوجہد درحقیقت تکمیل و استحکام پاکستان کیلئے کررہے ہیں ۔ انکی اور ہماری ایک ہی منزل ہے اور ہماری قومی‘ حکومتی‘ سیاسی اور عسکری قیادتوں سمیت پوری قوم اسی منزل کی جانب گامزن ہے جس کا حصول آج نوشتہ دیوار بن چکا ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی کامیابی کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو حاصل ہو ۔