- الإعلانات -

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ، پنجاب حکومت کا کارنامہ

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوشوں سے یکم جولائی 2020 ء میں ملتان میں سول بیوروکریسی اور پولیس بیورو کریسی کے انتظامی سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں آیا جسے جنوبی پنجاب (سرائیکی وسیب) صوبے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ۔ اس سے قبل جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ایک سیاسی نعرہ ہی رہا ۔ جنوبی پنجاب صوبہ بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، خانیوال، لودھراں ، ملتان، مظفر گڑھ، راجن پور، رحیم یار خان اور وہاڑی اضلاع پرمشتمل ہے ۔ جب 2018 کے عام انتخابت سے چند ماہ قبل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام کا اعلان ہوا تو پی ٹی آئی کے حق میں اتنی تیزی سے رائے ہموار ہوئی کہ جنوبی پنجاب کے مرکز ملتان کی تمام قومی نشستیں پی ٹی آئی نے جیتیں ۔ حتیٰ کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان اور نوٹیفکیشن جاری ہوا تو اس خطے کے ورکروں نے سکون کا سانس لیا ۔ پنجاب حکومت نے علیحدہ سیکرٹریٹ کے لئے پورا سٹاف بھی بھرتی کر لیا تھا ۔ زاہد اختر زمان کی تقرری بطور پہلے اور تاریخی ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور انعام غنی کی تقرری بطور پہلے اور تاریخی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کے کی گئی ۔ ان دونوں سربراہان نے دو جولائی 2020ء کو جنوبی پنجاب (سرائیکی وسیب) کے انتظامی سیکرٹریٹ میں باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں ۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں یکا یک جنوبی پنجاب صوبہ کا نوٹیفکیشن منسوخ کئے جانے کی خبر سامنے آئی ۔ جس پر ایکشن لیتے ہوئے وزیر اعلیٰنے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو قائم رکھنے اور اسے مزید فعال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا کریڈٹ ہے ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مزید مضبوط اور با اختیار بنایا جا رہا ہے ۔ جنوبی پنجاب میں مستقل ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعینات کیا جائے گا ۔ چند روز قبل وزیراعلیٰ نے چیف وہپ قومی اسمبلی ایم این اے ملک عامر ڈوگر سے ملاقات میں بھی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اور علاقے میں ترقیاتی منصوبوں پر بات کی ۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو ہر صورت میں ترقی کا حق لوٹائیں گے ۔ پنجاب کے ہر شہر اور خطے کے مسائل پر نظر ہے ۔ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج کی تکمیل سے عوام کے مسائل حل ہوں گے ۔ ملتان کی ترقی کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکیج تیار کیا ہے جس سے ملتان کے شہریوں کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے ۔ ملک محمد عامر ڈوگر نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے متعلقہ امور کو مزید بہتر بنانے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فوری ایکشن لے کر جنوبی پنجاب کے لوگوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ آپ کے بروقت اقدامات سے مخالفین کا پروپیگنڈا دم توڑ چکا ہے ۔ ماضی میں جنوبی پنجاب کے عوام اور ان کے مسائل کے حل کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کیا ہے ۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے علاقے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو گا ۔ اب اختیارات کی منتقلی کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائےگا ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے عملی اقدامات کو جہاں عوام میں بے پناہ پذیرائی ملی ہے وہاں اپنی شناخت کے حوالے سے جنوبی پنجاب کے عوام میں امید پیدا ہوئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو رول بیک نہیں کیا جا رہا ۔ پہلے 16 محکموں کے آفیسرز تعینات کئے گئے تھے اب تمام محکموں کے آفیسرز جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں بیٹھیں گے ۔ سازشیں کرنے والے اپنا کام کریں ۔ ہم عوامی خدمت کرتے رہیں گے ۔ وزیر اعلیٰ کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ وہ ہر ماہ ایک دن ملتان اور ایک دن بہاولپور میں بیٹھیں گے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے تمام وزراء کو ہدایت کی ہے کہ مہینے میں دو دن ملتان اور بہاولپور جا کر عوامی معاملات کاجائزہ لیں ۔ بقول عثمان بزدار ہم نے پہلی مرتبہ بہاولپور میں صوبائی کابینہ کا اجلاس بلایا ۔ اب ملتان میں بھی کابینہ کا اجلاس جلد بلایا جائے گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مکمل طورپر فنکشنل کیاجائے گا اور کسی قسم کی رکاوٹ کو سامنے نہیں آنے دیں گے ۔ کون سی حکومت ہے جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے یا دوران اقتدار وعدے نہ کیے ہوں ۔ اربوں روپے کے منصوبے عوام کے سامنے نہ رکھے گئے ہوں اور بہت سارے منصوبوں کی پہلی اینٹ بھی نہ لگائی گئی ہو ۔ مگر ویلیو ہمیشہ اس کام کی ہوتی ہے جو تکمیل کے مراحل میں پہنچنے کے بعدعوام کو اپنے ثمرات سے بھی فائدہ پہنچائے ۔ پنجاب حکومت کی اگر اب تک کی کارکردگی کو دیکھا جائے تواپنے منشور کے مطابق اس حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے کتنے ہی کام کیے ہیں ۔ سردار عثمان بزدار کا کہنا کہ جنوبی پنجاب کیلئے مختص فنڈز کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں ہونگے اور جنوبی پنجاب کو ترقی کے لحاظ سے رول ماڈل بنائیں گے، حقیقت پر مبنی ہے ۔