- الإعلانات -

وزیراعظم کاعوام سے براہ راست رابطہ، مستحسن ا قدام

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بارپھر براہ راست عوامی مسائل سنے یہ اقدام انتہائی مستحسن ہے کیونکہ اس میں عوام کی مشکلات کی وزیراعظم کو براہ راست آگاہی ہوتی ہے اور عوام بھی اپنے مطالبات وضروریات کو وزیراعظم کے گوش گزارکرسکتے ہیں ٹیلی فونک کالز کے ذریعے وزیراعظم نے عوام کے یہاں مسائل سنے وہا ں پرانہو ں نے کروناکی تیسری خطرناک لہرکی بھی آگاہی کرائی کیونکہ یہ تیسری لہرانتہائی خطرناک ہے اس سے اب بچے بھی متاثر ہورہے ہیں وفاقی دارالحکوت میں بھی سینکڑوں بچے جن کی عمریں شیرخوارہونے سے لیکربیس سال تک کی ہیں ،شدید متاثر ہورہے ہیں ایسے میں انتہائی ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیرکواپنایاجائے ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے کئے گناہوں کی معافی مانگناچاہیے کیونکہ یہ وباء اللہ رب العزت کی جانب سے ایک عذاب بھی ہے اس کے خلاف ہم جنگ نہیں کرسکتے صرف اللہ کے حضورمعافی ہی مانگ سکتے ہیں ۔ امت مسلمہ کو یہ جان لیناچاہیے کہ کہیں نہ کہیں اللہ کی ذات ہم سے ناراض ہے نہ حرم پاک اس طرح جانے کی اجازت نہ ہی مساجد صحیح طرح کھلی ہیں یقینی طورپر جب اللہ نے اپنے گھرکے دروازے بند کردیئے تو اس کی ناراضگی بالکل واضح ہے ہ میں اس کو راضی کرناہے راضی کرنے کے لئے اللہ اوراس کے محبو بﷺ کے احکامات پرعمل پیراہوناہوگا تب ہی ہم اس وباء سے جان چھڑاسکتے ہیں ۔ ادھر وزیراعظم نے عوام کی جانب سے مزید ٹیلی فونک کالز لیتے ہوئے کہاکہ کرپشن کے خلاف اکیلا نہیں لڑ سکتا، عدلیہ ساتھ نہیں دے گی تو کرپشن سے ہم نہیں لڑسکتے یہاں بد عنوان افراد اور اربوں کی چینی چوری کرنے والوں پر پھول پھینکے جاتے ہیں ،نواز شریف سے حکومت نے شورٹی بانڈمانگے لیکن عدلیہ نے اس کے بغیر ہی باہر بھیج دیا، خودساختہ مہنگائی پر قابو پانے کےلئے مڈل مین کا کردار ختم کرنے جا رہے ہیں ، مہنگائی پر قابو پا کر دکھائیں گے، پنجاب میں سٹے بازوں نے چند ہفتوں کے اندر چینی پر سٹے بازی کرکے 600 ارب روپے کی سرکولیشن کی ہے ،ان کے اکاءونٹس میں 600 ارب روپے گئے ہیں عوام موجودہ مہنگائی کو زیادہ نہ سمجھیں اگرڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت دویا ڈھائی سو روپے ہوجاتی تو مہنگائی بے تحاشابڑھ جاتی جیسے وینزویلا اور بعض دوسرے ملکوں میں ہے، حکومت کے مثبت اقدامات کو اجاگر نہیں کیا گیا،کوئی یہ نہیں کہتاکہ حکومت نے کیا اچھا کیا، لوگوں کو امیدتھی کہ میں ایک ماہ میں حالات ٹھیک کردوں گا ، پاکستان میں جمہوری نظام ہے، تبدیلی میں وقت لگتا ہے ،انقلاب فرانس اور خمینی انقلاب میں لوگوں کی گردنیں اتار دی گئیں ،خونی انقلاب کے نتیجہ میں ایسا ہو سکتا ہے کہ سب کچھ ایک دم بدل جائے ،بیورو کریسی کے پرانے حکمرانوں سے رابطے ہیں اس لئے صورتحال کو بہتر کرنے میں وقت لگے گا، عوام کو صبر کرنا پڑے گا، گھبرانے کی ضرورت نہیں تبدیلی آ رہی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دوسرے کو گھسیٹنے کی باتیں کرنے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کو فارغ کرو،اسٹیٹ بینک گروی نہیں رکھ رہے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی ، میں روزانہ صبح گھر سے جہاد کرنے کا عزم لے کردفتر نکلتا ہوں ، ساری قوم اس جہاد میں میرا ساتھ دے، ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے ،پہلی بار روپیہ مضبوط ہوکر اوپر جارہاہے، قبضہ گروپوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے ،کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر لڑا ،ایمرجنسی شارٹیج کے پیش نظر بھارت سے چینی اور کپاس خریدنے پر صرف غور کیا گیا تھا لیکن کابینہ میں اس فیصلہ کو مسترد کر دیا گیا ،5 اگست کے اقدام کو واپس لینے تک بھارت سے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے ،میراجینا مرنا یہیں ہے مجھ پر اعتماد رکھیں ،ملک کو نقصان پہنچانے والا کوئی فیصلہ نہیں کروں گا ۔ مسئلہ کشمیر اولین ترجیح میں ہے وزیراعظم نے عوام کو براہ راست یہ بات باورکرادی ہے کہ ان کے تمام فیصلے اوراقدامات ملک اورعوام کے مفاد میں ہوں گے اور اگر بھارت کی طرف کوئی بھی صلح جوئی کاراستہ جاتاہے تو وہ کشمیر سے گزرکرجاتاہے ۔ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرتا اس وقت تک اس سے کسی بھی قسم کی تجارت یا اورکوئی اقدامات نہیں اٹھائے جاسکتے ۔

مسئلہ کشمیرکاحل مذاکرات میں مضمر

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا اقوام عالم کے سامنے بڑا واضح موقف ہے اور ہم بھارت سے مذاکرات کے بھی خواہاں رہے ہیں غالبا بھارت ہمارے اس پیغام کو سمجھ نہیں سکا اور اس نے پانچ اگست 2019 کو جو قدم اٹھایا اس سے حالات مزید سنگین ہو گئے ۔ ہم بھارت سے مذاکرات کے لیے تیارہیں اور ہ میں کوئی گھبراہٹ نہیں ۔ بھارت اگر ;200;گے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے پہلے خوشگوار ماحول پیدا کرنا ہوگا ۔ بھارت سے تجارت کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ ہماری کابینہ کا یہ فیصلہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی ۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بھارت کے غیر قانونی اقدام کے باعث خطے کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی ہو گئی ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خطے کا امن پاکستان کی خواہش ہے کیونکہ علاقائی ترقی کا دارومدار قیام امن پر ہی ہے جو پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ساتھ وابستہ ہے ۔ اگر بھارت کو امن مقصود ہے تو اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بہرصورت مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ;200;نا پڑیگا ۔ پاکستانیوں کے دل کشمیری عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو اپنی ;200;زادی کی جدوجہد درحقیقت تکمیل و استحکام پاکستان کیلئے کررہے ہیں ۔ امن کی بحالی کیلئے تنازعہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ یہ مسئلہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ ہے جس کی وجہ سے برصغیر کا امن کسی بھی وقت برباد ہوسکتا ہے ۔ عالمی برادری اس خوفناک صورتحال کے انجام سے بخوبی باخبر ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بھارت کو ;200;مادہ کیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ نکالنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے ۔

صوابی انٹرچینج ،افسوسناک واقعہ

پشاور اسلام آباد موٹر وے پر صوابی انٹر چینج کے قریب گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد دہشت گردی عدالت سوات کے جج جسٹس آفتاب آفریدی، بیوی، بچی اور ایک نومولود بچے سمیت شہید ہو گئے ۔ جبکہ فائرنگ سے گن مین اور ڈرائیور شدید زخمی ہو گئے ۔ چھوٹا لاہور پولیس کی رپورٹ کے مطابق جسٹس آفتاب آفریدی اتوار کی شام اپنے خاندان کے ہمراہ گاڑی میں پشاور سے اسلام آباد جارہے تھے ۔ صوابی انٹر چینج کے قریب دریائے سندھ کے پل کے مقام پر نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں جسٹس آفتاب آفریدی، ان کی اہلیہ، بیٹی(ز)اور نومولود بیٹا موقع پر جاں بحق ہو گئے ۔ ڈرائیور ذاکر اور گن مین داءود شدید زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں کو علاج کےلئے پشاور منتقل کر دیا گیا ۔ مقتول جسٹس آفتاب آفریدی انسداد دہشت گردی سوات کی عدالت میں بحیثیت جج خدمات انجام دے رہے تھے ۔ چھوٹا لاہور پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے ۔ ان کی سوات پوسٹنگ 13 فروری 2021 کو ہوئی تھی ۔ دریں اثنا وزیراعظم نے صوابی میں اے ٹی سی جج سمیت اہلخانہ کے قتل کی مذمت کی ہے ۔ وزیراعظم نے ٹوئیٹ میں کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی ۔ دریں اثنا پولیس نے اے ٹی سی جج ;200;فتاب ;200;فریدی کے قتل کو دیرینہ دشمنی کی وجہ سے قرار دیدیا ۔ ڈی پی او صوابی کے مطابق لواحقین نے ایف ;200;ئی ;200;ر میں 5ملزمان کو نامزد کر دیا ۔ فریقین میں دیرینہ دشمنی تھی پہلے بھی کئی افراد قتل ہوئے ۔ مقتول جج ;200;فتاب ;200;فریدی کے بھائی سعید ;200;فریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے بھائی کا قتل ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔