- الإعلانات -

عزیر احمد کا تکلف برطرف کرونا کی اصل وجوہات

یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اس وقت کچھ نہ کچھ کرونا کی تیسری لہر میں کمی واقع ہو رہی ہے اور متاثر افراد میں بھی کمی ہو رہی ہے ، اس کی سب سے بڑی اور اہم بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب حکومت نے شادی ہالوں کو بند کر دیا ہے اور نیز بین الصوبائی نقل و حمل پر بھی پابندی ہونے جارہی ہے ، اسد عمر نے بھی یہ کہا کہ صوبوں کے مابین نقل و حمل پر کچھ پابندی سے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، سندھ نے تو اس حوالے سے پہلے ہی مطالبہ کر رکھا ہے ، ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ صوبوں کے مابین نقل و حمل لازمی جاری رہے لیکن جیسے ہی دوسرے صوبے کی سرحد شروع ہو تو وہاں سے تمام تر سامان جس کی ترسیل آگے کرنا مقصود ہو اس کو وہاں کی گاڑیاں لوڈ کر کے اور سامان کو سینیٹائز کر کے آگے لے جائیں کہ اگر خدانخواستہ کرونا کے کوئی اثرات موجود بھی ہوں تو وہ آگے ٹریول نہ کر سکیں ، اب حکومت نے سکولوں کے حوالے سے بھی جو فیصلہ کیا ہے اس پر بھی اگر بنظر غائر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ سکول بند کرنے سے کرونا کے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ اب حکومت جو دیگر اقدامات کررہی ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، دنیا بھر میں تعلیمی ادارے کھلے ہیں اب وفاق نے 18اور 28اپریل کی تاریخیں دیدی ہیں ،جن کے تحت سکول کھلے گے ، پنجاب میں 18اپریل سے تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا عندیہ دیدیا ہے ، سکولوں میں لازمی قرار دیا جائے کہ وہاں پر احتیاطی تدابیر کو اپنایا جائے ، خصوصی طور پر حکومت کے سرکاری سکولوں میں ایس او پی کو لاگو کرنا انتہائی ضروری ہے ، مارکیٹوں ، تجارتی مراکز ، پارکوں ، ہوٹلوں میں اکٹھ پر پابندی کرنا لازمی ہے ، کیونکہ یہاں سے ہی کرونا آگے پھیلتا ہے ، اس وقت امریکہ میں کرونا کی چوتھی لہر آچکی ہے اور یہ لہر معصوم بچوں سے لیکر 20سال کے نوجوانوں کو متاثر کررہی ہے ، اب اسلام آباد میں ان کو حالات کو پرکھا جائے تو یہاں پر بھی بچے اور نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، گو کہ نوجوانوں میں امیون سسٹم مضبوط ہوتا ہے لیکن یہ دوسروں کو کرونا لگانے کا سبب بنتے ہیں، اب یہ خود بھی متاثر ہورہے ہیں چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وبا ہے ، ایک عذاب ہے ، ایک وعید ہے لہذا اس کیخلاف جنگ نہیں لڑ ی جا سکتی ، اگر کرونا سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو ہمیں اللہ اور اس کے رسول ۖ کے احکامات کی طرف رجوع کرنا ہو گا، آج امت مسلمہ سے اللہ اور اس کے محبوب ۖ ناراض نظر آتے ہیں ، کیونکہ حرم پاک اور مدینہ منورہ کے دروازے بند ہیں اور مساجد کے بھی دروازے محدود انداز میں کھلے ہوئے ہیں، یہ تمام کے اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ ناراض ہوتا ہے تو وہ اپنے گھروں کے دروازے بند کردیتا ہے ، لہذا ہمیں توبہ کی جانب جانا ہو گااور دیکھنا ہو گا کہ ہمارے وہ کون سے اعمال ہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہے ، قرآن و سنت راہ نجات ہے ، یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں تمام احکامات موجود ہیں ، لہذا ان پر عمل کرنا ہو گا، قرآن پاک کی تلاوت الم سے والناس تک کرنا ضروری ہے ، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے جو اسرار و رموز رکھے ہیں ان کو سمجھا جائے ، دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کہاں اور کس کس موقع پر تحفے تحائف اتارے اور کب کب وعید آئی ، عذاب نازل ہوئے ، قہر برسا ، طوفان آئے ، سیلاب آئے ، پتھروں کی بارش ہوئی ، ان وجوہات کو دیکھنا ہو گا کیا آج ہم من حیث القوم تباہی اور بربادی کی طرف گامزن نہیں ہیں، ہمارے اندر کون سے گناہ نہیں بے ایمانی ہم کرتے ہیں، جھوٹ ہم بولتے ہیں ، غیبت گوئی ہم کرتے ہیں، قتل و غارت گری ہم کرتے ہیں، ملاوٹ ہم کرتے ہیں، ذخیرہ اندوزی ہم کرتے ہیں ، تہمت طرازی ہم کرتے ہیں، حیاء اور شرم کو خیر آباد کہہ دیا ہے ، چھوٹے بڑے کا ادب ختم ہو چکا ہے ، گھروں میں قرآن پاک جزدان میں لپٹے رکھے ہیں ، ان کو کھولنے اور تلاوت کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ، نماز کو ہم ترک کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ پانچ دفعہ آواز دے کر بلاتا ہے ، حی علی الصلاة ، حی علی الفلاح ، یعنی کے آئو نماز کی طرف ، آئو بھلائی کی طرف ، الصلوٰةُ خیر من النوم یعنی کے نماز نیند سے بہتر ہے ، لیکن ہم ہر طرف سے عاری نظر آتے ہیں ، پھر کیوں نہیں اللہ ناراض ہو گا، اور ایسے عذاب کیوں نہیں نازل ہونگے ، لہذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ توبہ و استغفار کریں ، اللہ سے رحمت طلب کریں ۔