- الإعلانات -

پاک روس تعلقات کا نیا تناظر

گزشتہ دنوں روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم شاہ محمود قریشی سے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور تجارت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کےئیے مذاکرات کیے ۔ افغانستان اور افغان امن عمل کو روسی وزیر خارجہ کے اس دورے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ خطے میں قیام امن اور سلامتی کے لیے افغانستان میں امن قائم ہونا ضروری ہے ۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ برسوں میں روس کا سیکیورٹی، دفاع اور انسداد دہشت گردی جیسے معاملات میں تعاون بڑھا ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار اور مستحکم تعلقات خطے کے تزویراتی استحکام اور توازن کے لیے اہمیت کے حامل ہیں ۔ خطے کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر روس افغان امن عمل میں بھارت کو مثبت کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ کرسکتا ہے ۔ لیکن پاکستان کو بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی ایسی صورتحال سے بچا جاسکے ۔ پاکستان کے خطے میں موجود چین اور روس جیسے اہم اور بڑے ممالک سے بڑھتے ہوئے تعلقات جہاں ہمارے لیے ترقی اور استحکام کی نوید ہیں وہیں ان سے ایسے ممالک کو بھی ٹھوس پیغام مل جائیگاجو پاکستان کو ترقی کرتے اور خوشحال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے ۔ اسی طرح پاکستان روس تعلقات کی بہتری سے خطے میں امریکہ کا بگاڑا گیا طاقت کا توازن بھی بہتر ہو جائیگا ۔ آج اس خطے میں امریکہ اور بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے توڑ کیلئے ایک نئے بلاک کی تشکیل کی ضرورت ہے جو پاکستان‘ چین‘ روس‘ ایران اور ترکی پرمشتمل ہو سکتا ہے ۔ اس کیلئے پاکستان روس وزرائے خارجہ کے مابین دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال ایک مثبت پیش رفت ہے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ناگزیر ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ پون صدی سے حل طلب ہے لیکن اقوام متحدہ سے لے کر یورپی یونین اور امریکہ تک کوئی بھی ملک اس مسئلے پر سنجیدہ نظر نہیں آتا ۔ کشمیر کا علاقہ جنوبی ایشیا میں ہونے کی بنا پر چین اور روس دونوں بڑی قوتیں اس مسئلے کے حل کےلئے سنجیدہ کاوشوں میں مصروف ہیں ۔ روس کے بھارت کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات قائم ہیں ، اس بنا پر روس کا کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنا ہمارے لئے بڑا معنی رکھتا ہے ۔ ویسے بھی روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں شامل ہے ۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو کسی بھی معاملے پر ویٹو کا اختیار حاصل ہوتا ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر پانچوں ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے متعلق حل پر زور دیتے ہیں ۔ روس نہ صرف سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے بلکہ اس خطے میں ہونے کی بنا پر وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے سرگرم ہے ۔ 5اگست 2019ء کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تو پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی عروج پر چلی گئی ۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے لئے بھی روس نے کردار ادا کیا ۔ تب بھی روس نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی، جسے بھارت نے مسترد کر دیا تھا ۔ بعدازاں روس نے یہ اعلان کیا کہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہونا چاہیے اور اس اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لایا جائے کیونکہ ایک طویل مدت سے کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نہیں آیا تھا ۔ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا دوست بھی ہے ۔ ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی دوستی کے بندھن میں بندھا ہوا ہے ۔ اس لئے چین ہمہ وقت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ چین کا کشمیر پر وہی موقف ہے جو پاکستان کا ہے جبکہ چین نے اس مسئلے کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر لے جانے کے لئے متعدد مرتبہ کوششیں بھی کی ہیں ۔ درحقیقت مسئلہ کشمیر آخری بار دسمبر 1957ء میں زیر بحث آیا تھا ۔ اس کے بعد سے اب تک کتنی تبدیلیاں آئی ہیں جبکہ پاکستان کا یہی موقف رہا ہے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، اسے پس پشت ڈال کر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کی خاموشی بھی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ جب سکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ہو سکتا ہے ۔ انڈونیشیا سے عیسائی آبادی پر مشتمل مشرقی تیمور کو آزاد مملکت قرار دلوایا جا سکتا ہے ۔ جنوبی سوڈان کی آزادی کا انتظام کیا جا سکتا ہے، تو پھر کشمیر بارے عالمی برادری کیوں خاموش ہے ۔ کیا یہ عالمی برادری کا دوہرا معیار نہیں ۔ اس مجرمانہ خاموشی پر اسے خود شرمندہ ہونا چاہیے ۔ عالمی برادری لالچ‘ مصلحت‘تجارت اور معیشت کی وجہ سے بھارت کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے ۔ 57اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی میں شامل ممالک دولت میں ثانی نہیں رکھتے ۔ لیکن وہ بھی خاموش تماشائی ہیں ۔ اگر بھارت نے اس بات کا اقرار نہ کیا ہوتا کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا، تو پھر بھی یورپی یونین‘او آئی سی اور سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کے پاس کوئی دلیل تھی لیکن 1948ء میں بھارت خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور وہاں پر خود اس بات کا اعلان کیا کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرے گا ۔ وعدے کے باوجود وہ اس سے راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہے ۔ لہٰذا یہ ممالک بھارت پر اس حوالے سے تو دباءو ڈال سکتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق کشمیر کو حق خود ارادیت دے ۔ اخلاقی طور پر بھی ان ممالک کو کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہیے،کیونکہ پون صدی سے کشمیری ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ روس نے ایک بار پھر پاکستانی موقف کی حمایت کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے سنجیدہ ہے، لہٰذا اس مسئلے کو حل کیے بغیر اس طے میں خوشحالی آ سکتی ہے نہ ہی اب اس مسئلے کو زیادہ دیر تک سرد خانے میں ڈالا جا سکتا ہے ۔ پاکستان‘روس‘چین‘ترکی‘ سری لنکا‘ ایران اور عرب ممالک کو مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ساتھ ملائے کیونکہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، تب تک خطے میں خوشحالی آ سکتی ہے نہ ہی خطرات کے منڈلاتے بادل ختم ہو سکتے ہیں ۔ روسی وزیر خارجہ کی پیشکش کو بھارت کو بھی قبول کرنا چاہیے تاکہ خطے میں غربت‘بے روز گاری اور افلاس کے خلاف جنگ کر کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے لئے تیار ہیں ،جس کےلئے خصوصی فوجی آلات بھی پاکستان کو دیں گے ،اس کے علاوہ دونوں ممالک کی فورسز پہاڑوں اور سمندروں میں مشقیں کرینگی ، انہوں نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا روس اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اعتماد اور ہم آہنگی سے عبارت ہیں ۔ روس اور پاکستان کے تعلقات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک دوسال سے دہشت گردی کے خلاف سالانہ مشترکہ مشقیں بھی کر رہے ہیں ،اب یہ سلسلہ وسیع تر ہو گا، پہاڑوں اور سمندروں میں بھی مشقیں ہوں گی اور دونوں ممالک کی فورسز ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گی ۔ گذشتہ برسوں میں جو مشقیں ہوئی ہیں اُن کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ روس کو انشراح صدر ہو گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور اس کی فورسز پامردی سے مقابلہ کر کے اس عفریت پر قابو پا چکی ہیں ۔ بین الاقوامی فورموں پر بھی اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کی پذیرائی ہوئی کہ جہاں کہیں یہ موضوع زیر بحث آیا روسی نمائندہ کھل کر پاکستان کی حمایت کرتا رہا ۔ (جاری ہے )