- الإعلانات -

ہرے ہرے خواب!

نظام ظلم کا جب غلبہ ہوتا ہے تو عوام کو ہرے ہرے خواب دیکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کو لائینوں میں کھڑا کر کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے ۔ بجائے اس کے کہ عوام کی توانائیوں کو قومی ترقی کیلئے استعمال کیا جائے ان کو کبھی یوٹیلیٹی سٹوروں کے آگئے اور کبھی لنگر خانوں کے آگے پیٹ پوجا کیلئے قطاروں میں کھڑا کیا جاتا ہے ۔ سابقہ نون دور میں لوگوں کو مخصوص علاقوں میں تندوروں کے آگے سستی روٹی کیلئے قطاروں میں کھڑا کیا جاتا تھا اور اب تو ترقی کا دور ہے’’ کوئی بھوکا نہ سوئے’’ پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس کا دائرہ پورے ملک تک بڑھانے کا اعلان ہوگیا ہے ۔ موبائل کچن کی اصطلاح وضع کی گئی ہے اس پروگرام کے ذریعے غریب کو کھانا فراہم کیاجائیگا، وزیر اعظم صاحب نے کہا ہے کہ ہمارے حالات مشکل ہیں ، قرضے چڑھے ہوئے ہیں ، مشکل حالات کے باوجود اللہ کا حکم ہے کہ ہم اس راستے پر چلیں ، کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے ذریعے اللہ کی برکت آئےگی ۔ پنجاب کی موجودہ حکومت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی قائم کردہ ’سستی روٹی اتھارٹی‘ کو غیر فعال کرنے اور اسکیم کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیاتھاکہ سستی روٹی اتھارٹی کا آڈٹ کرایا جائے گا اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ صوبہ پنجاب میں 2008 سے 2013 کے دوران سستی روٹی اسکیم کے تحت محکمہ خوراک پنجاب کی طرف سے 5 لاکھ 4 ہزار 325 میٹرک ٹن گندم جاری ہوئی جس پر سبسڈی کی مد میں 13 ارب سے زائد رقم خرچ ہوئی ۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے بھی سستی روٹی اسکیم کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا ۔ معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوا;238; اور یہ جو موجودہ سکیم شوروع کی جا رہی ہے اس کی کامیابی کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ یہ کامیاب ہو اور ملک ترقی کرے ۔ موجودہ حکمران اعلانیہ یہ کہتے ہیں کہ پچھلی حکومت کرپٹ تھی اور حکمران طبقے نے اربوں روپوں کی کرپشن کی مگر موجودہ حکومت تو کرپٹ نہیں ہے نا ۔ اس کے آنے سے ان کے مسائل اور سنگین ہوگئے ہیں ۔ عوام مایوس اور بے زار کیوں ہیں ;238; دیکھا جائے تو عوام میں بڑی افرا تفری کی صورتحال اور تشویش پیدا ہو گئی اور اس کا لازمی نتیجہ انارکی ہے ۔ لوگ مضطرب اور بے چین ہیں اور ہر طرف سراسیمگی اور خوف کا ماحول طاری ہو ہے البتہ جمہوریت کا ظاہری چمک دمک عروج پہ ہے ۔ موجودہ حکومت کے خلاف ایک اتحاد بنایا گیا جسے پی ڈی ایم کا نام دیا گیاعوام کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ اتحاد عوامی مفاد کیلئے تھا یا ذاتی مفاد کیلئے پارٹیوں کا گٹھ جوڑ تھا;238; عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں اوریہ تاریخ کا سبق ہے کہ جب افراتفری، خوف اور سراسیمگی کے ماحول میں غلامی اپنا رنگ دکھاتی ہے اور لوگوں کے ذہنوں پر اس کا اثر بڑا گہرا رہتا ہے لوگ جمود و تعطل کے شکار ہو جاتے ہیں ، مایوسی عام ہوجاتی ہے اور عوام میں چھوٹے چھوٹے خانوں میں بٹنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے اگرچہ نظریات اور خیالات کا اختلاف فطری ہے، مگر اس کے درمیان سے قومی سوچ کو غائب کر کے مفاد پرستی اور اور انفرادیت پیدا کرنا زوال کی بدترین علامت ہے اس کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تمام مکاتب فکر، پارٹیاں ، فرقے، ذیلی مسالک اور گروہ آگھتم گھتا ہو جاتے ہیں اور باہمی مکالمہ اور گفت و شنیدو مذاکرات کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ شدت پسندی پیدا ہوتی ہے افہام و تفہیم کا راستہ مفقود ہوجاتا ہے ۔ افہام و تفہیم اور ربط و ضبط کا شدید بحران پیدا ہو جاتاہے ۔ مفاد پرست عناصر جو عوام کے نام نہاد لیڈر بنے ہوتے ہیں ان کی نظریں ایک دوسرے کی ٹانگوں پر رہتی ہیں کہ کب موقع ہاتھ آئیں اور پینترا اور پیچ لڑا کر مخالف کو کھینچ گرانی کی کوشش کی جائے ۔ اب تو لگتا ہے عوام کہ کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے ۔ ذاتی مفادات کی دیواریں اب بھی اتنی ہی اونچی ہوگئی ہیں اور ان سے باہر جھانکنا اب قومی جرم ہے اورقومی سوچ اور مشترکہ لاءحہ عمل پوری تسلسل کے ساتھ غائب ہے ۔ عوام میں کاہلی، سستی اور بے عملی کو فروغ دینے کا دھندا لگاتار جاری ہے ۔ ہر طرف مونگیری لال خواب بیچے اور خریدے جا رہے ہیں ۔ بہروپیوں اور مداریوں نے طوفان بدتمیزی برپا کیا ہے، گرگٹ جیسے رنگ پہ رنگ بدل کراچھل کود کی سیاست کرتے ہیں ۔ وسیع تر ذاتی مفاد کیلئے سب ایک بھی ہوجاتے ہیں ۔ جیسے پی ڈی ایم ۔ سب بے ڈھنگی چال چلتے ہیں اور گزشتہ تہتر برسوں سے چال بے ڈھنگی کا نظام قائم ہے ۔ سیاست کا مطلب عوام کیلئے سہولت فراہم کرنا ہے مگر یہ لیڈر عوام کا سہارا بننے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے بجائے اپنے پیٹ کے لیے تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں اور سادہ لوح عوام تسلسل کے ساتھ اسے مقبولیت کا درجہ دیتے چلے جا رہے ہیں اور بے چارے عوام مستقبل کا سنہرا خواب سجائے اندھیرے راستوں پر رواں دواں ہیں ۔ آخر کب تک عوام کو ہرے ہرے خواب دیکھائے جائیں گے;238; ۔