- الإعلانات -

کیا بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں ممکنہ جنگ کے خدشات سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت طویل جنگ میں الجھ سکتے ہیں جو دونوں میں سے کوئی فریق نہیں چاہتا ۔ خاص طور پر ایک ایسے دہشت گرد حملے کے بعد جسے بھارتی حکومت اہم قرار دیتی ہے ۔ مکمل جنگ ایسا نقصان پہنچا سکتی ہے جس کے معاشی اور سیاسی اثرات برسوں تک مرتب ہونگے ۔ چین اور بھارت کے درمیان گزشتہ برس سے سرحدی کشیدگی جاری ہے ۔ حالات اس وقت خراب ہوئے جب چینی اور بھارتی فوج آپس میں گتھم گتھا ہوئے اور 20 کے قریب بھارتی فوجی جاں بحق ہوگئے ۔ ڈوکلام، لداخ، پیانگ تسو جھیل کے آس پاس کا علاقہ چینی عمل داری میں چلا گیا اور تقریباً 38ہزار مربع کلومیٹر پر چین نے قبضہ کر لیا ۔ مذاکرات کے بعد چین نے بھارتی علاقہ خالی تو کر دیا مگر ساتھ ہی اسے بفر زون بنا دیا کہ وہاں چین یا بھارت میں سے کوئی بھی نہیں آئے گا ۔ یوں بھارت اپنے ہی علاقے سے بیدخل کر دیا گیا ۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ کے سلسلے میں حالیہ مذاکرات بھی ناکام ہو گئے ہیں جس کے بعد چین نے آئندہ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ بھارتی ذراءع ابلاغ نے بھی اس بات کی تائید کر دی ہے کہ چین کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ۔ دوسری طرف بھارت کے دو ہمسائے جو کل تک بھارت کے زیر دست تھے یعنی نیپال اور بھوٹان ، انہوں نے بھی چینی شہ پر بھارت کو آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں ۔ بنگلہ دیش نے بھی بھارتی مخالفت کے باوجود چین سے تعلقات استوار کر لیے ہیں ۔ لے دے کر ہمسایہ میں ایک پاکستان ہی رہ گیا ہے جس کے ساتھ بھارت کے تعلقات جنم دن سے کشیدہ ہیں ۔ ان حالات میں خطے میں چودھراہٹ کا بھارتی خواب ریزہ ریزہ ہو گیا ہے ۔ اگر بھارت کے اندرونی حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہ میں مودی کے دوسرے دور حکومت میں سیاسی، معاشی، معاشرتی عدم استحکام نظر آتا ہے ۔ 2019 میں کشمیر کی خود مختیار حیثیت کے خاتمے، کشمیر میں ڈومیسائل ایکٹ، شہریت کا قانون، آسام میں لاکھوں مسلمانوں کو بھارتی شہریت دینے سے انکار، نئی دہلی میں دھرنا اور اب کسانوں کا احتجاج، غرض ہر طبقہ بھارتی حکومت سے نالاں ہے ۔ بھارتی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب ماسکو میں منعقدہ افغان امن کانفرنس میں بھارت کو مدعو ہی نہیں کیا گیا ۔ اس کے علاوہ قطر میں ہونے والے امن مذاکرات میں بھارت کو شریک نہیں کیا گیا ۔ بھارت جو اب تک امریکہ کو اپنا حامی گردانتا تھا اور ٹرمپ کے دور میں مودی ، ٹرمپ تعلقات جس طرح عروج پر تھے، بھارت کا خیال تھا کہ بائیڈن کے آنے کے بعد بھی حالات بھارت کے موافق ہی رہیں گے ۔ مگر بائیڈن انتظامیہ نے کئی مواقع پر بھارت کو پس پشت ڈال دیا ۔ ابھی حال ہی میں امریکا کے ساتویں بحری بیڑے نے بتائے بغیر ہی بحرِ ہند میں بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں مشقیں کیں اور مودی سرکار منہ دیکھتی رہ گئی ۔ یوں امریکی کندھوں پر سوار ہو کر علاقے میں حکمرانی کا بھارتی خواب چکنا چورہو گیا ۔ امریکا نے موَقف اختیار کیا کہ اسے مشقیں کرنے کا حق بھی حاصل ہے اور آزادی بھی ۔ ساتویں بیڑے نے اس کارروائی کی انجام دہی کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق قرار دیا ہے ۔ تمام آپریشنز بین الا اقوامی قانون کے مطابق کئے گئے ۔ جہاں بھی قانون کی اجازت ہو گی امریکی جہاز جائیں گے اور کارروائی کرینگے ۔ ہر طرف سے مایوس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کو یوم پاکستان کے روز خط بھیجنے کے بعد سے دوبارہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہونے کی امید کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہم مودی کی نیت کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان امن کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا، دونوں ملکوں کے وزرا ء اعظم نے ماضی میں اچھے تعلقات کی امید ظاہر کرتے ہوئے مثبت بیانات دیے ہیں ۔ تاہم سکیورٹی مسائل، خاص کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال کے پس منظر میں یہ باتیں صرف بیانات کی حد تک ہی رہ گئیں ۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں کشمیر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت اور پاکستان نے اب تک جہاں اس معاملے پر دو جنگیں 1948 اور 1965 میں لڑی ہیں ، وہیں اگست 2019 کے بعد سے پاکستان اس بارے میں کئی بین الاقوامی فورم پر کشمیر کی خصوصی حیثیت بلدنے کے معاملے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکا ہے اور دیگر ممالک کے سربراہان سے بات کر چکا ہے ۔ ان حالات میں ہو سکتا ہے کہ مودی سرکار جھنجھلا کر پاکستان پر حملہ کر نے کی غلطی کر بیٹھے لیکن یہ خیال رہے کہ بھارتی فوج کو کسی بھی جارحیت اور مس ایڈونچر کا ہمیشہ منہ توڑ جواب ملے گا ۔ وطن عزیز کے وقار اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو پاکستانی عوام اور افواج تیارہیں ۔ بھارت کودوٹوک اعلان ہے کہ وہ امن سے رہے اور ہوش کے ناخن لے ۔ بھارت جارحیت پرتلا ہوا ہے ۔ بھارت کی جانب سےکوئی بھی جارحیت کی گئی تومنہ توڑجواب دیا جائےگا ۔ بھارت پاکستان کواشتعال دلانے کی کوشش کررہاہے ۔ ہم نے صبرکادامن نہیں چھوڑا اور نہ چھوڑیں گے ۔ ہم اپنے دفاع کا بھرپورحق رکھتے ہیں ۔ امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھاجائے ۔ بھارت اپنے اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور جو مقبوضہ وادی میں کر رہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے ۔