- الإعلانات -

پروگرام’’کوئی بھوکانہ سوئے‘‘ ملک بھر میں پھیلانے کی ضرورت

حکومت کی جانب سے ’’کوئی بھوکانہ سوئے‘‘پروگرام انتہائی قابل تحسین ہے اس اقدام سے کم ازکم غریب کو کھاناتو میسرہوجائے گا اوراس کےلئے یہ پریشانی دامن گیرنہیں رہے گی کہ آج دیہاڑی نہیں لگی توکھاناکیسے کھائے گا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پروگرا م کو ملک بھر اور خصوصی طورپروسطی پنجاب ،اندرون پنجاب، بلوچستان کے ان دوردرازعلاقوں تک پہنچایا جائے جہاں پرآج بھی لوگوں کو پینے کاصاف پانی تک میسرنہیں ۔ شہروں میں تومعاملات کسی نہ کسی صورت چلتے ہی رہتے ہیں اور یقینی طورپراس میں بھی کسی بھوکے کوکھاناکھلانا اجرعظیم سے کم نہیں ہے ۔ ضروری ہے کہ یہ کھانا اصل مستحق تک پہنچے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک ساتھ احساس کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کو لاہور، پشاور اور فیصل آباد تک وسعت دینے کی ورچوئل افتتاحی تقریب سے خطاب اعلان کیا ہے کہ پورے پاکستان میں کچن ٹرک کا جال بچھائیں گے ۔ پشاور اور فیصل آباد میں پروگرام شروع ہوگیا ہے جس سے مستحق اور پسماندہ طبقہ مستفید ہوگا ۔ جب ایک ریاست مستحق افراد کے گھر کھانا پہنچانے کی ذمہ داری لے گی اور مستحق افراد دو وقت کی روٹی کھا سکیں گے تو اللہ کی برکت پاکستان پر نازل ہو گی ۔ دوسرے شہروں سے مزدوری کے لیے آئے مزدوروں کےلئے مزید پناہ گاہیں کھولیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مقصد کے تحت وجود میں آیا تاہم اس راستے پر نہیں چل سکا ۔ آج ہم پر زیادہ قرضے ہیں مشکل حالات ہیں اور عوام پر خرچ کرنے کےلئے پیسہ کم ہے ۔ اس کے باوجود اللہ کا ہ میں حکم ہے کہ اس راستے پر چلیں تو یہ راستہ قانون کی بالا دستی اور انسانیت کا راستہ ہے ۔ یہ ہماری کلیدی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقے کی دیکھ بھال کو قبول کریں ۔ جب ایک ریاست مستحق افراد کے گھر کھانا پہنچانے کی ذمہ داری لے گی اور مستحق افراد دو وقت کی روٹی کھا سکیں گے تو اللہ کی برکت پاکستان پر نازل ہوگی ۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کی عوام سب سے زیادہ خیرات دیتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کی پالیسی ہے ملک میں کوئی شخص بھوکا نہ سوئے ۔ رمضان المبارک میں سحری اور افطاری مستحقین تک پہنچائی جائے گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے سال 2021 کیلئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پروگرام اس بات کو یقینی بنائے گا کوئی شخص خالی پیٹ نہیں سوئیگا ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے مہتمم جامعہ رحیمیہ کراچی مفتی رحیم نے ملاقات کی ۔ بلاشبہ حکومت قانون کی بالادستی کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے ۔ کمزور اور طاقتور کیلئے یکساں قانون ہو گا ۔ نیزوزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کے بعد مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خط لکھا ہے جس میں عمران خان نے موسمیاتی تبدیل کے خطرات پر کتاب لکھنے پر بل گیٹس کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ عمران خان نے اپنے خط میں عزم کیا کہ ;200;ئیں مل کر دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچائیں ۔ پاکستان ان ممالک میں ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات زیادہ ہیں ۔ پاکستان کو بھی گلیشیئر پگھلنا اور مون سون سمیت کئی طرح کے موسمی خطرات کا سامنا ہے ۔ پاکستان گرین اکانومی پالیسی کے تحت کاربن کی کمی کےلئے متبادل توانائی کے منصوبے شروع کررہا ہے جبکہ بلین ٹری سونامی، نیشنل پارکس، کلین گرین اور ویسٹ مینجمنٹ کے پروگرام بھی شروع کر رکھے ہیں ۔ پاکستان نے لاتعداد گرین جابز دیں ،10 لاکھ ایکڑ جنگلات کو محفوظ بنایا ۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کم کرنے کےلئے بھرپور تعاون کےلئے تیار ہے ۔ پوری دنیا کو موسمیاتی خطرات کو بھانپتے ہوئے ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے ۔ نئی نسل کو کلین گرین اور پر فضا ماحول فراہم کرنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وزیراعظم نے جس عزم کا اظہارکیاہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے پوری دنیا ملکراس کامقابلہ کرسکتی ہے اگر دنیا میں ترجیحی بنیادو ں پراس حوالے سے سلوک کیاگیاتو پھردرپیش موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے لہٰذا ایک متحدہ ا ورباہمی اتفاق سے پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے جس میں تمام متاثرہ ممالک مدعوہوں اور کسی قسم کی ذاتی پسندناپسندکاعمل دخل نہیں ہوناچاہیے اورنہ ہی کسی ملک کوبلاوجہ نظراندازکرناچاہیے ۔

رمضان کی آمد۔۔۔مہنگائی آسمان پر

رمضان المبارک کے آغاز سے قبل بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی خریداری کرنے والوں کا انتہائی رش رہا ۔ پرچون سطح پر سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہ آیا ۔ چینی کی 85روپے فی کلو پر فروخت بھی ممکن نہ ہو سکی ۔ پھل اورسبزی فروشوں نے سرکاری نرخنامے کی بجائے من مانی قیمتیں وصول کیں ۔ شہریوں کی اکثریت نے رمضان المبارک کی مناسبت سے ایک ماہ کے اکٹھے راشن کی خریداری کو ترجیح دی ۔ تاہم شہری گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال قیمتوں میں 40 سے50 فیصد اضافے کی شکایات کرتے ہوئے نظر آئے ۔ دوسری جانب رمضان ریلیف پیکج کے تحت یوٹیلٹی سٹورز اتوار کے روز بھی کھلے رہے ۔ تاہم اشیا کی عدم دستیابی والی صورتحال جوں کی توں رہی ۔ اوپن مارکیٹ سے سستی اشیا کے حصول کے لیے خریداروں کا رش لگا رہا ۔ خریداروں کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں کسی یوٹیلٹی سٹور پر رمضان پیکج کی پوری طرح سپلائی نہیں کی گئی جس کے باعث لوگوں کو رمضان کےلئے خریداری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ یوٹیلٹی سٹورز پر خریداری کےلئے آنے والے صارفین نے بتایا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر دالوں ، چینی، گھی، کوکنگ آئل دیگر اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ اس کے علاوہ صارفین کو صرف چینی فروخت نہیں کی جارہی بلکہ اس کے ساتھ کوئی چیز لازمی خریدنے کی شرط عائد کی گئی ہے ۔ یوٹیلٹی سٹورز کے عملے کا کہنا تھا یہ شرط اس لئے عائد کی گئی ہے کہ لوگ یوٹیلٹی سٹوروں سے سستی چینی خرید کر کہیں اوپن مارکیٹ میں فروخت نہ کر دیں ۔ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر اشیا کی سپلائی کو بہتر بنایا جائے ۔ رمضان المبارک سے ایک روزقبل ہی مہنگائی کاجن بے قابوہوتانظرآرہاہے ۔ پچاس روپے درجن والاکیلا اب ڈیڑھ سو روپے میں فروخت ہورہاہے ۔ مافیا اورذخیرہ اندوزوں کو لگام ڈالنے کےلئے ادارو ں کومتحرک ہوناپڑے گا ۔

کشمیریوں پرمظالم،عالمی برادری نوٹس لے

بھارت کے غیرقانونی قبضے والے جموں و کشمیر میں قابض افواج نے فائرنگ کرکے مزید 5 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ۔ ضلع شوپیاں میں سرچ ;200;پریشن کے دوران فائرنگ کرکے 3 ، اسلام آباد میں 2نوجوانوں کو شہید کیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران بھارتی فوج کی فائرنگ سے اب تک 12کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں ۔ غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری کشمیریوں کی نسل کشی خاص طور پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے بےگناہ نوجوانوں کے بے رحمانہ قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کیخلاف مکمل ہڑتال کی گئی ۔ دریں اثنا بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف شوپیاں ، پلوامہ، کولگام اور اسلام ;200;باد اضلاع میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔ بھارتی فوجیوں کی طرف سے نوجوانوں کے قتل اور مسجد کی بے حرمتی قابل مذمت ہے ۔ بھارت کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ہے ۔ سیاہ برقعوں میں ملبوس درجنوں کشمیری خواتین نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کی سرپرستی میں کشمیریوں کے معاشرتی اقدار کیخلاف ہونےوالے ایک فیشن شو کے خلاف سرینگر میں جلوس نکالا ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس ;200;زاد جموں وکشمیر شاخ نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیر میں قتل عام کی تازہ لہر کے خلاف اسلام ;200;باد میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم تھمنے کانا م نہیں لے رہے ،بھارتی فوج نے آئے روزمظالم کاسلسلہ جاری رکھاہے ۔ عالمی برادری کوآنکھیں کھولنی ہونگی ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت بزور طاقت وجبرمسلم اکثریتی علاقے مقبوضہ کشمیر کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتا ہے جس کےلئے آئے روزوہ نت نئے ڈرامے اور مکاریوں کا سہارا لیتا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ۔ پاکستان بھارت کی تمام تر ریشہ دیوانیوں کو صبروہمت سے برداشت کررہاہے ۔ ظلم سہنے کے باوجود بھی برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا ۔ پاکستان امن چاہتا اور خیر اور بھلائی کا خوا ہشمند ہے ۔