- الإعلانات -

دو روزہ عالمی ماحولیاتی ورچوئل کانفرنس اورپاکستان

امریکہ میں دو روزہ عالمی ماحولیاتی ورچوئل کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ہے ۔ اسکاٹ لینڈ میں رواں سال نومبر میں اقوام متحدہ کی سالانہ موسمیاتی کانفرنس سے قبل امریکہ کی سربراہی میں یہ اجلاس ابہت اہمیت کا حامل ہے ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کےلئے مشترکہ کوششوں کا اعادہ کریں ۔ سمٹ کے دوسرے اور ;200;خری دن انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جنہوں نے مل کر قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی وہ اپنے شہریوں کے لیے اس کا ثمر پائیں گے ۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین ہاوَس گیسوں کے اخراج میں کمی کے2015پیرس معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے، تاہم نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے معاہدے میں دوبارہ واپسی کا اعلان کیا ہے ۔ ماحولیاتی ;200;لودگی کو محدود کرنے کےلئے امریکہ نے نئے ہدف کا اعلان کیا ہے جسکے تحت وہ 2030 تک 50 سے 52 فیصد گرین ہاوَس گیسوں کے اخراج میں کمی لائے گا ۔ دوسری جانب جاپان اور کینیڈا نے بھی اپنے اہداف میں اضافہ کیا ہے ۔ واءٹ ہاوَس نے دوسرے ممالک کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اخراج سے متعلق نئے ہدف کو پورا کر سکتا ہے ۔ کانفرنس میں پاکستان سمیت 40 ممالک کے سربراہان مملکت نے ورچوئل شرکت کی ۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکہ 2030 تک کاربن گیسوں کے اخراج کو کم کرے گا،یہ کمی 52 فیصد تک لائی جائے گی ، چینی صدر شی جن پنگ نے 2060 تک کاربن کے اخراج کو صفر کرنے کا اعلان کیا،چینی صدر نے کہا کہ چین 2026سے 2030کے درمیانی عرصے میں کوئلے پر انحصار کم کرے گا،برازیل اور جنوبی کوریا کے صدور نے 2050 تک ملک سے گرین ہاوس گیسز کے اخراج کو صفر کرنے کا اعلان کیا،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن گیسز کے اخراج میں کمی ناکافی ہے ،فضا میں پہلے ہی موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں ۔ انہوں نے تمام ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی پر مشترکہ سائنسی تحقیق کی تجویز دی ۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے سمٹ کو گیم چینجر قرار دیا ، سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا کہ سعودی عرب 2030تک ماحول کےلئے مضر گیسوں کا اخراج 50 فیصد تک کم کریگا ۔ صدر اردوان کاکہنا تھا کہ ترکی کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں تاریخی طور پر کوئی حصہ نہیں رہا ۔ جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ جاپا ن 2030 تک کاربن گیسز کے اخراج میں 46فیصد کمی کرے گا، کینیڈین وزیر اعظم ٹروڈو نے اپنے خطاب میں کہا کہ کینیڈا نے 40 سے 45فیصد کمی کا ہدف مقرر کیاہے ۔ اس کانفرنس میں پاکستان کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا تھا ۔ پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم نے کی ۔ اس موقع پر انہوں نے بین الاقوامی برادری کو یقین دلایا کہ پاکستان 2030 تک اپنی ساٹھ فیصد توانائی ماحول دوست ذراءع سے پیدا کریگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تیل اور ڈیزل پر چلنے والی 30 فیصد گاڑیوں کو بھی بجلی اور بیٹری پر منتقل کر دے گا ۔ امین اسلم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عملی کوششوں پر یقین رکھتے ہیں ،آبی وسائل کو استعمال کر کے کلین انرجی حاصل کریں گے ، پاکستان کی جانب سے اشتراک کی پیشکش کرتا ہوں ، عالمی برادری ماحولیات کیلئے 100 ارب ڈالر کی فراہمی یقینی بنائے ، پاکستان دس بلین ٹری سونامی منصوبے کے ساتھ سر فہرست ہے ۔ پاکستان 2030تک کلین توانائی پیدا کرنے والا ملک ہو گا ۔ ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں پی ٹی ;200;ئی حکومت کو ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں زیادہ سرگرم سمجھا جاتا ہے ۔ مبصرین کی نظر میں دوسری وزارتوں کے برعکس ماحولیات کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہے ۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نو برس میں ماحول دوست ذراءع سے60فیصد توانائی حاصل کرنے کا ہدف یقینا ایک مشکل ہدف ہے لیکن حکومت پر عزم ہے ۔ پاکستان یقینا متبادل انرجی کی طرف جا سکتا ہے اور ساٹھ فیصد سے بھی زیادہ توانائی ماحول دوست طریقوں سے حاصل کرسکتا ہے ۔ پاکستان نے متبادل توانائی کے تجربات سندھ اور پنجاب کے کئی علاقوں میں کیے ہیں اور یہ کامیاب رہے ۔ بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پر لوگ اپنی ضرورت کےلئے شمسی توانائی استعمال کر رہے ہیں ۔ شمسی توانائی کو پورے پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ٹارگٹ کو حاصل کرلے گی ۔ حکومت ماحولیات کے حوالے سے بہت کام کر رہی ہے اور مزید بھی کرنا چاہئے ۔ ان ذراءع کو کم کرنا چاہئے جو ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں ۔ اگرچہ حکومت نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے کئی منصوبے بند کر دیئے ہیں تاہم مزید بند کئے جائیں ۔ حکومت کی طرف سے ان سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی بھی خوش کن ہے جو متبادل توانائی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ دس ارب درختوں کاپروگرام بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکا ہے ۔ اسی طرح شمسی توانائی، ونڈ انرجی اور دوسرے متبادل ذراءع سے بھی بجلی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ اس ضمن میں دنیا پاکستان کی تعریفیں کرتی ہیں ۔ اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو حل کرنے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ عالمی اقتصادی فورم نے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے پاکستان کی کوششوں پر7ویڈیوز جاری کی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اجلاس سے خطاب کرنے والے دس ممالک میں پاکستان کا انتخاب بھی کیا گیا تھا ۔ برطانیہ اور سعودی عرب اسی طرح کے اقدامات کا ;200;غاز کرکے پاکستان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ عالمی سطح پر گرین ہاوَس گیسز کا حصہ بہت کم ہے جو امریکہ ، چین اور بھارت کے مقابلے میں قابل تحسین ہے جو سب سے زیادہ ;200;لودگی پھیلانے والے ہیں ۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلہ میں عالمی برادری کے ذمہ دار ممبر کی حیثیت سے پاکستان کے کردار لائق تحسین ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ایک جامع پالیسی تیار کی گئی ہے جس میں توانائی ، جنگلات ، زراعت اور مویشیوں جیسے شعبوں کے بارے میں اہم دفعات شامل ہیں ۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اعلیٰ تعلیم میں ;200;ب و ہوا میں تبدیلی لانے سے متعلق اقدامات کو بھی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف ہندوستان گرین ہاوَس گیسز کا ایک بڑا موجب ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار دنیا کا سب سے کمزور ملک ہے ، ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ ;200;لودہ ملک ہے ۔