- الإعلانات -

مرکزی حکومت کا صوبوں سے یکساں سلوک

بلوچستان کی اہمیت سے انکار کسی طرح ممکن نہیں ۔ لیکن بلوچ قوم کی محرومیوں سے انکار بھی ممکن نہیں ۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ اگر پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ حقیقت نہ بنتا تو ہماری توجہ بلوچستان پر کبھی نہ ہو تی ۔ آج پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے بلوچستان پر توجہ نظر آ رہی ہےبارشیں معمول سے کم اور واٹر ریچارج نہ ہونے کی وجہ سے زیرزمین پانی کی سطح تشویش ناک حدتک نیچے گر گئی ہے، ماہرین کی جانب سے اس جانب بار بار توجہ مبذول کرانے اور حالات کی انتہائی سنگینی سے آگاہ کیے جانے کے باوجود کسی سطح پر بہت بڑئے اقدامات نظر نہیں آتے، بلوچستان میں موسمی تبدیلی ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے یہاں زیادہ نظر آرہے ہیں وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے اپنے حالیہ دورہ کوءٹہ کے دوران اس بات کا واضح طور پر اظہار بھی کیا کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات سامنے آرہے ہیں جن کے تدارک کےلئے درخت لگائے جارہے ہیں اور وزیراعظم کے پروگرام کے تحت بلوچستان میں 2023 تک 10 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ درخت لگانے کے بعد 3 سال تک انہیں پانی فراہم کرنے کے لئے میکانزم بھی بنالیا گیا ہے، وفاقی حکومت کلین گرین منصوبے کی تکمیل کیلئے بلوچستان کی ہر ضرورت پوری کرئےگاتاہم انہوں نے 10 کروڑ درخت لگانے کے بعد انہیں پانی فراہم کرنے کے میکانزم کے بارئے میں آگاہ نہیں کیا بلوچستان میں جہاں اکثر علاقوں میں جہاں پینے کے پانی کا حصول بھی انتہائی مشکل ہے وہاں اتنے درختوں کو پانی فراہم کرنا اگر ناممکن نہین لیکن مشکل ضرور ہوگا،تاہم وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے یہ یقین ضرور دلایا کہ صوبے میں خشک سالی کے اثرات کو زائل کرنے کےلئے نئے ڈیمز تعمیر کئے جائیں گے، وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے ماحولیات ملک امین اسلم نےواضح طور پر کہا کہ اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونےوالے 10 ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جبکہ رواں برس پاکستان آٹھویں نمبر پر رہا جس کی وجہ پاکستان نہیں بلکہ دوسرے ممالک ہیں ۔ مگر اس سے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان متاثرہورہا ہے بلوچستان قحط اور خشک سالی سے بہت زیادہ متاثر ہے خشک سالی کے اثرات سے بچنے کےلئے مصنوعی بارش کے بارے میں اسٹڈی کررہے ہیں ، وزیراعظم کےکلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام میں کوءٹہ اور زیارت سمیت بلوچستان کے 6 شہروں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ صوبے کے ساحلی علاقوں میں مینگروز کی پلانٹیشن اور کوءٹہ میں 2 ہزار ایکڑ رقبے پر درخت لگانے کا منصوبہ بھی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں پانی کے مسائل کے حل کےلئے ڈیلے ایکشن ڈیمز تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس پر موجودہ حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے، ملک میں بارشوں کے بعد سیلابی نالوں میں آنےوالا پانی محفوظ کرنے کےلئے حکومت ری چارج منصوبہ شروع کررہی ہے جس کی فزیبلٹی تیار کرلی گئی ہے ری چارج پاکستان منصوبے میں بلوچستان کو بھی شامل کیا جائے گا ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اعلانات اور یقین دہانیاں اگرچہ حوصلہ افزا ہیں لیکن اس حوالے سے ماضی کچھ حوصلہ افزا نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے بلوچستان پر خصوصی توجہ دی اور اعلانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیر اعظم نے کوءٹہ میں این ایچ اے کے مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا ۔ اس کے علاوہ 22 کلو میٹر کوءٹہ ویسٹرن بائی پاس این 25کو دورویہ کرنے اور 11 کلومیٹر ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس این 65 کی تعمیرکے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا ۔ بعد ازاں اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ بڑے صوبوں سے ایم این ایز کی اتنی تعداد میں دستیابی ہوتی تھی کہ اس صوبے کے ووٹوں کی ضرورت ہی درپیش نہیں آتی تھی،یہاں کے بڑے بڑے جاگیرداروں کو ساتھ ملا لیا جاتا تھا‘بلوچستان کی ترقی ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی ۔ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان کے ساتھ زیادتیوں میں اضافہ ہو،جس کے باعث بلوچ جوان اپنے حقوق کے حصول کےلئے پہاڑوں پر چلے گئے،بعد ازاں ملک دشمن عناصر نے انھیں اپنے مذموم مقاصد کے استعمال کیا،لیکن جیسے ہی مشرف کا دور ختم ہو ا اور پیپلز پارٹی کی حکومت آئی توبلوچستان کی محرومیوں کے ازالے اور ان کے زخموں پر مرحم رکھتے ہوئے،آغازبلوچستان پیکج کا اعلان کیا گیا تھا ، یہ پیکج اس قدر شاندار تھا کہ اگر دیانتداری سے خرچ ہوتا توبلوچستان کی قسمت بدلی جا سکتی تھی،لیکن ہمارے سیاستدانوں کی روایتی ہٹ دھرمی اور چور بازاری نے اس پیکج کے عوام تک ثمرات پہنچنے ہی نہیں دیئے، بلوچستان کے عوام کو حقوق سے محروم رکھنا کسی ایک شخص کا جرم نہیں بلکہ اس گناہ میں سب سیاستدان برابر کے شریک ہیں ۔ ماضی کی کسی بھی حکومت کو اس سے ماورا قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ موجودہ حکومت بلوچوں کو ان کے حقوق لوٹا رہی ہے، جن سے انہیں برسوں محروم رکھا گیا ۔ اگر ہم دفاعی لحاظ سے بھی اس کا جائزہ لیں تو بلوچستان ایشیا کا سب سے اہم علاقہ ہے ۔ بلوچستان کو وسطی ایشیا کی شہ رگ بھی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کیلئے بلوچستان سے قریبی اور آسان راستہ دوسرا کوئی نہیں ۔ بلوچستان مشرق وسطیٰ و جنوب مغربی ایشیا اور وسط ایشیا و جنوبی ایشیا کے درمیان ایسے پْل کا کردار ادا کرتا ہے جس کی دنیا میں کوئی نظیر موجود نہیں ۔ بلوچستان کو ترقیاتی فنڈز دیتے ہوئے ہ میں اس صوبے کی ڈیموگرافی کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا ۔ ہ میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بلوچستان میں صرف بلوچ ہی بستے‘ بلوچستان میں پشتون‘ پنجابی‘ مکرانی‘ فارسی بان‘ ہزارہ وال‘ بروہی اور دیگر قومیتیں بھی کثیر تعداد میں آباد ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان سے صرف نظر انداز کیا جانا چاہیے ۔ روزگار اور ملازمتوں میں ان سب قومیتوں کو انکی آبادی کے تناسب سے آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں اور یہی قرین انصاف ہے ۔ سڑکوں ، ہسپتالوں ، سکولوں اور یونیورسٹیوں پر سب کا برابر حق ہے ، اگر ہم کسی ایک علاقے کو نوازیں گے اور دوسرے کو محروم رکھیں گے،تو اس سے احساس محرومی بڑے گا ۔ اس سے قبل جب زرداری دور میں ’’آغاز بلوچستان پیکج‘‘ کا اعلا ن کیا گیا تھا،تب بھی اس کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کئی شقیں ترتیب دی گئی تھیں ،لیکن بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد نہ ہونے کی بنا پرعوام ان کے ثمرات سے محروم رہے،بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے،جس بنا پر وہاں ترقیاتی فنڈز خرچ ہوتے ہیں نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے ۔ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات سامنے آرہے ہیں جن کے تدارک کےلئے درخت لگائے جارہے ہیں اور وزیراعظم کے پروگرام کے تحت بلوچستان میں دوہزارتئیس تک دس کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔