- الإعلانات -

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملہ، مسلم امہ کی خاموشی

بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت اور مسلم امہ کا قبلہ اول ہے ۔ چند روز قبل غاصب صیہونی افواج نے مسجد اقصیٰ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا ۔ مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملہ اسلام پر حملے کے مترادف ہے ۔ امریکی حکومت کو فلسطین کا دارالحکومت بدلنے کا کائی اختیار نہیں ۔ غاصب اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ مسلم دنیا فلسطین کے مسئلے کو فراموش کر دے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سامراج امریکہ اور اسرائیل مسلم دنیا کی حکومتوں کو ان کے اندرونی مسائل میں الجھا رہی ہے تاکہ مسئلہ فلسطین کے لئے بلند کی جانے والی صدائے احتجاج کو بند کر دیا جائے ۔ مشرق و سطیٰ سمیت ایشیائی اور افریقی ممالک میں پھیلائی جانے والی انارکی میں امریکہ اور اسرائیل براہ راست ملوث ہیں اور خطے کے عدم استحکام کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان فلسطینی کاز کو پہنچ رہا ہے ۔ فلسطین کا دفاع پاکستان کا دفاع ہے اور پاکستان کا دفاع اسلام کا دفاع اور پوری انسانیت کا دفاع ہے ۔ حال ہی میں اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے مسجد اقصی میں گھس کر مقدس مقام کی بے حرمتی کرنے کے ساتھ وہاں پر نماز کی ادائیگی کے لئے روزہ داروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس موقع پر قابض فوج نے باب العامود کے مقام سے چھ فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ۔ قابض فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر لاوَڈ اسپیکروں کی تاریں کاٹ ڈالیں اور اذان پر پابندی لگادی گئی ہے ۔ صیہونی آباد کاروں کے لگاتار کئی دن سے مسجد اقصی پر وحشیانہ حملوں اور اسلام مخالف نعرے بازیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ فلسطینی عوامی، مذہبی اور قومی حلقوں کی طرف سے مسجد اقصی میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کو وحشیانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے ۔ اردن نے بھی مسجد اقصی میں اسرائیلی فوج کی مداخلت اور نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔ بیت المقدس کو یہودی بنانے کے صیہونی حکومت کے عمل کے تحت مسجد اقصیٰ پر حملے ہو رہے اور نیز اس مقدس مقام کے اسلامی ڈھانچہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کے ساتھ ہی القدس کے باشندوں کو اس مقدس مقام کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ صیہونیون کے جانب سے آئے دن مسجد اقصیٰ پر حملے کیے جارہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظی میں ان اقدامات کے باوجود خاموش رہیں ۔ مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری توہین پر مختلف فلسطینی گروپوں کے وسیع پیمانے پر احتجاج کے باوجود، عالمی برادری ان اقدامات کو روکنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کررہی ہے ۔ بعض کا تو کہنا ہے کہ ا س مقدس مقام کو صیہونیوں کے حوالہ کر دینا چاہیے ۔ یاد رہے کہ مسجد اقصی کے خلاف اسرائیلی کوششوں کا آغاز 7 جون 1967 سے ہوا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ 7 جون 1967 مسجد اقصی کا پچھمی دروازہ جسے باب مغاربہ کہا جاتا ہے، اس کی چابیوں کوزبر دستی اس وقت اپنے قبضے میں لے لیا گیا جب اسرائیلی فوج نے شہر پر قبضہ کر کے اردنیوں کو وہاں سے باہر نکالا تھا ۔ 9 جون 1967 اسرائیلی افسروں نے مسجد اقصی میں نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی لگا دی ۔ 21 جون 1969 ڈینس ماءکل روہان نامی ایک آسٹریلوی سیاح کا روپ دھارے دہشت گرد نے مسجد کو آگ لگادی جس سے اس کی شاندار محراب خاکستر ہوگئی جبکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا نصب کیا ہوا منبر بھی نذرِ آتش ہوگیا ۔ پوری دنیا میں اس کی مذمت کی گئی لیکن کچھ یہودی تنظیموں نے اس کی تعریف کی اور اسے بائبل کی پیشن گوئی قرار دیا ۔ 16 نومبر 1969 حرم شریف کے جنوب مغربی جانب موجود گوشہ فخریہ کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔ 14 اگست 1970 دی جیرشن سلمان گروپ نے جو کہنے کے لئے ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کا فیصلہ کئے ہوئے تھا‘ زبر دستی حرم میں داخل ہو گیا لیکن مسلمانوں کے مقابلے کی وجہ سے ہارنے پر مجبور ہو گیا البتہ اس گھمسان میں دسیوں نمازی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ۔ دوہزار آٹھ اور دوہزارنو میں اسرائیل نے حماس کے خلاف بڑی سخت لڑائی چھیڑی جس میں 22 دن تک خوب بربریت کا مظاہرہ کیا ۔ الغرض اسرائیل کا ٹارگٹ مسجد الاقصی کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کرنا‘ گنبد صخرہ کو ڈھا کر اس کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا اور اسرائیلی شدت پسندوں کو وہاں آباد کرنا ہے ۔ یہاں تک وہ حالات تھے جن کا براہ راست مسجد اقصی سے تعلق ہے لیکن اسرائیل کا مشق ستم جس طرح قبلہ اول ہے اسی طرح پوری سر زمین فلسطین بھی ہے ۔ اسرائیلی ظلم و ستم کا شکار فلسطینی آج بھی پتھروں کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ فلسطین میں دن بہ دن نا جائز قبضہ بڑھتا جا رہا ہے اور جگہ جگہ یہودی آباد یاں تعمیر ہو رہی ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ پچاس لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہیں ۔ لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ ہزاروں بے قصور اسرائیلی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں اور جو کچھ آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ بھی ہمہ وقت خوف و دہشت کے سائے میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ اسرائیل معصوم اور نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے جبکہ عالمی برادری فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کرنے سے گریزاں ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مسئلہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا ۔ فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام پر پوری انسانیت شرمسار ہے ۔ اقوام متحدہ نے دوہرا معیار اپنا رکھا ہے ۔ جب تک قبلہ اول اور فلسطین آزاد نہیں ہوتے دنیا امن کو ترستی رہے گی ۔ فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کے لئے قیام پاکستان والے جذبے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ عالم اسلام کے حکمرانوں سے اپیل ہے کہ باہمی اختلافات بھلا کر امت کی خاطر متحد ہو جائیں اور اسرائیل کے خلاف اعلان جہاد کیا جائے ۔ فلسطین امت مسلمہ کے جسم کا حصہ ہے ۔ امریکہ عالم اسلام کی تقسیم چاہتا ہے لہذا فلسطین کو یہودیوں کی بربریت اور درندگی سے بچانے کے لئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا ۔