- الإعلانات -

ایشیاء کی بالادستی، اہم پیش رفت!

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صدی ایشیاء کی صدی ہوگی ، مختلف ممالک کے درمیان روابط اور معاہدات حالات کی بہتری کی دلیل ہے ۔ ایران اور چین نے آپس میں قریبی اسٹریٹیجک تعاون کے ایک پچیس سالہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں ۔ یہ طویل المدتی معاہدہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کے شکار ایران کو درپیش مشکلات سے نکالے گا ۔ 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مبنی 25 برس کے طویل اور جامع اقتصادی تعاون کے منصوبے کونہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی اقتصادی نظام میں ایک اہم ’گیم چینجر‘ قرار دے رہے ہیں ۔ اس دوطرفہ معاہدے کو ;39;جامع اسٹریٹیجک شراکت داری‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ اور عالمی تجزیہ نگا راسے ایران کی مجبوری اور چین کی ضرورت قرار دے رہے ہیں ۔ ادھر خطے کیلئے ایک اہم خبر یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے پانچ سال بعد اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت شروع ہوئی ہے ۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی کہا ہے سعودی عرب ایران سے اچھے تعلقات چاہتا ہے ، سعودی عرب ایران کو مشکل صورت حال میں نہیں دیکھنا چاہتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ، ایران پڑوسی ملک ہے، ہم ایران میں ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ایران کے حوثیوں سے مضبوط تعلقعات ہیں لیکن حوثی بھی عرب اور یمنی ہیں ، ہماری خواہش ہے کہ حوثی یمن میں بہتر طریقے سے رہیں ۔ دوسری طرف پاک بھارت کے درمیان تعلقات بھی بہتری کے جانب جا رہے ہیں ۔ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی ہے ۔ مذاکرات کا یہ دور رواں سال جنوری میں دبئی میں ہوا ۔ متحدہ عرب امارات نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا ۔ اس کے علاوہ اعلیٰ عہدے داروں کے درمیان تھائی لینڈ، دبئی اور لندن میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں ۔ ‘البتہ مصدقہ ذراءع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور ایک طرف سے اس کی تردید بھی آچکی ہے مگر کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے سرحدی معمولات مثبت اشارے ہیں ۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مزاکرات کو اہمیت دی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے 2019 میں کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیل کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بڑے پیمانے پر کمی کر دی تھی ۔ ادھرافغانستان کے مسئلے پر امریکا، روس، چین اور پاکستان کے نمائندوں کا دوحا میں اجلاس ہوا جس میں افغانستان، طالبان، قطر کے نمائندے بھی شریک ہوئے ۔ امریکا، روس، چین اور پاکستان نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں اور بین الافغان مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی پائیدار امن و استحکام کا واحد راستہ ہے ۔ اجلاس میں بین الافغان مذاکرات کے طریقہ کار پر غور کیا گیا جبکہ بین الافغان سیاسی حل کیلئے کوششیں بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔ بیان کے مطابق بین الافغان مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی پائیدار امن واستحکام کاواحد راستہ ہے اور فوجی انخلا کے دوران امن کی کوششوں میں خلل نہیں آنا چاہیے ۔ مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیاکہ فریقین افغانستان میں میں تشدد کی کارروائیوں کی سطح میں کمی لائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعدافغانستان کی اندرونی قوتیں ایک دوسرے کا کیا حشر کریں گے یہ ایک الگ موضوع ہے مگر بین الاقوامی روابط جیسے سعودی عرب اور ایران کا ایک دوسرے کے قریب آنا، پاک بھارت کے درمیان حالات کی بہتری کے اثرات اور روس کا کردار اور ایران اور چین کے درمیان تاریخی معاہدہ اور پاکستان اور چائنا کے درمیان سی پیک کا معاہدہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مستقبل میں دنیا میں ایشیاء کو بالادستی حاصل ہوگی اور اس بالادستی میں پاکستان کا اہم کردار ہوگا ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دنیایک سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا ایک دوسرے سرد جنگ کی طرف جارہی ہے امریکہ اپنے استعماری پیش قدمی میں چین کو رکاوٹ سمجھتا ہے گورباچوف دور میں روس کی اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے بعد چین امریکہ کی آنکھوں کا کانٹا ہے اور امریکہ اپنے لیئے اسے رکاوٹ سمجھتاہے اور ایشیا میں اپنا اثررسوخ بڑھانے کیلئے پاکستان کی محل وقوع سے فائدہ اٹھنا چاہتا ہے اس کو پاکستان کے اس اقدام سے بڑا صدمہ پہنچا ہے کہ گوادر امریکہ کی بجائے چائنا کے ہاتھ میں کیوں چلاگیا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس خطے میں ایران ، چین، روس اور انڈیا اسکے لیئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اس لیئے وہ بڑا سیخ پا ہے اور چین کے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ امریکہ بہت پریشان ہے اور چین کی بلوچستان اور خاصکر گوادر میں اس کی موجودگی کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا ہے بلکہ اسے چائنا اپنا رقیب نظرآتا ہے اور اسے پنے لیئے خطرہ اور مستقبل کی رکاوٹ سمجھتا ہے اسلئے وہ پاکستان اور خاص کر جہاں چائنا کا عمل دخل ہے وہاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شورش برپاکرتاہے اور کوشش اس کی یہ ہے کہ شاہراہ ریشم اور گوادر کو آپس میں کاٹ دیا جائے ۔ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ موجودہ وقت میں امریکہ کا کردار واضح طور پر سامنے آگیا ہے ۔ عام آدمی بھی اسکے کرتوتوں سے واقف ہوگیا ہے اور وہ یہ جان گیا ہے کہ امریکہ کیا کرتاہے اور کیا چاہتاہے اسلئے موجودہ حالات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ شعوری طور پر حالات کا مقابلہ کیا جائے اور نہایت ہوشمندی ، بردباری،اور سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے خطے کے ممالک کو اپنے اعتماد میں لیکر یورپی یونین کی طرز پر علاقائی اتحاد کے قیام کیلئے کوشش کی جائے جس سے سامراج کے لگائی بجھائی کی کو ششوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے اور یہی وقت کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط اور معاہدات کو بڑھایا جائے ۔