- الإعلانات -

انتخابی اصلاحات،اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت

ہرگزرتے ماہ و سال کےساتھ پاکستان میں قومی و ضمنی انتخابات کی ساکھ خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے ۔ اس ضمن میں دیکھا جائے تو انتخابی اصلاحات نہ صرف وقت کا تقاضہ ہیں بلکہ اس میں مزید تاخیر خود جمہوریت کے لئے زہر قاتل بھی بن سکتی ہے ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اصولی طور پر انتخابی اصلاحات کو اس مسئلہ کا بنیادی حل گردانتی ہیں ،تاہم بدقسمتی سے اس حوالے سے کبھی کوئی پیشرفت نہیں پاتی،اگر ہوتی بھی ہے تو اپوزیشن جماعتیں تعاون سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں ۔ موجودہ حکومت اس ضمن میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ الیکشن کا صاف شفاف اور قابل اعتبار بنانے کے ٹھوس اقدام اٹھائے ۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اس ضمن میں اپوزیشن کو دعوت دی ہے کہ انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن مذاکرات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ1970 کے سوا ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات نے نتاءج پر شکوک و شبہات پیدا کئے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تعاون کرتے ہوئے موجودہ انتخابی نظام کی اصلاح میں مدد کرے،ٹیکنالوجی کے باعث ٹرمپ کے دھاندلی الزام ناکام ہوئے،کوئی بے قاعدگی سامنے نہ آسکی،ہماری اپوزیشن بھی ساتھ بیٹھ کر ;698677;ماڈل کا انتخاب کرے ،انتخابات کی ساکھ صرف ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں مضمر ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ این اے 249 میں ٹرن آءوٹ انتہائی کم ہونے کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں دھاندلی کا شور مچا ر ہی ہیں ،اسی طرح ڈسکہ اور سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں بھی ہوا،بدقسمتی سے پاکستان میں ہر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے جس سے انتخابی نتاءج کی ساکھ پر سوال اٹھائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 2013کے انتخابات میں 133انتخابی حلقوں میں نتاءج کے خلاف عذرداریاں دائر کی گئیں ،ہم نے صرف چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا اور ان چاروں حلقوں میں دھاندلی ہوئی تھی‘‘ ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں ہر الیکشن کے بعد جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس سے ہمارے انتخابات عملًا مذاق بن گئے ہیں ۔ ڈسکہ میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب کے تجربے کے بعد امید کی جارہی تھی کہ کراچی کے ضمنی انتخاب میں ایسی کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہیں ہوگی ۔ نتاءج کی تیاری میں شفافیت کا ایسابے داغ اہتمام ہوگا کہ کسی کے لیے انگلی اٹھانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے لیکن افسوس کہ یہ امید پوری نہ ہوئی،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پورے انتخابی عمل میں بے شمار نقاءص موجودہیں جن سے شکوک شبہات کو ہوا ملتی ہے ۔ پوری دنیا میں جدید ٹیکنالوجی سے انتخابی عمل کے نقاءص کو دور کیا جا رہا ہے ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں دنیا کے بیشتر ممالک میں استعمال ہو رہی ہیں ،امریکہ برسوں سے ان مشینوں سے کام لے رہا ہے ۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ان مشینوں کو استعمال کر رہا ہے لیکن ہمارے ہاں ان مشینوں کے استعمال پر بھی ابھی سے کیڑے نکالنا شروع کر دیئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ووٹ چوری کا جدید ڈھنگ قبول نہیں ،یہ رویہ افسوسناک ہے ۔ عشروں سے جاری اس کیفیت کے باعث موجودہ طرز جمہوریت پر سے عام آدمی کا اعتبار ختم ہوتا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان میں زیادہ دلچسپ نہیں لیتے، ٹرن آوٹ کی شرح اس کا واضح ثبوت ہے ۔ لہٰذا انتخابی عمل کو ہر طرح کے نقاءص سے پاک کیا جانا چاہیے تاکہ دھاندلی اور ووٹ چوری کا کوئی امکان بھی باقی نہ رہنے پائے ۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے انتخابی اصلاحات کی خاطر حکومت کےساتھ تعاون کی دعوت کو اپوزیشن سنجیدگی سے لے ۔ قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات اور معاون خصوصی شہباز گل بھی اپوزیشن کو دعوت دے چکے ہیں ۔ بقول ان کے حالیہ ضمنی الیکشن اور نتاءج کے بعد کی الزام تراشی اور الیکشن کمیشن کی بے بسی کے بعد انتخابی اصلاحات کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے ۔ حکومتی ارکان کاکہنا ہے کہ شفاف انتخابات کیلئے اپوزیشن سے مل کر انتخابی اصلاحات کے خواہاں ہیں جبکہ وزیراعظم نے اس مقصد کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدنے کی ہدایت بھی کردی ہے ۔ جبکہ پارلیمانی امور کے مشیر ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کیلئے حکومت کا ہوم ورک مکمل ہوچکاہے ،اہم آئینی و قانونی ترامیم کیساتھ 13 نکاتی ایجنڈے کو انتخابی اصلاحات کا حصہ بنایا گیا ہے،آئندہ عام انتخابات اسی بنیاد پر ہوں گے،انتخابی اصلاحات کے بعد انتخابی عمل کی شفافیت پر کوئی سوال نہیں اٹھے گا، الیکشن کمیشن کو مضبوط اور زیادہ با اختیار بنانے کیلئے اسے مالی خود مختاری دی جائیگی ، آئین کے آرٹیکل226 میں ترمیم کی جائیگی ، سینٹ الیکشن میں پیسے کے استعمال کو روکنے اور ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے سینٹ الیکشن اوپن ہو گا ۔ ڈاکٹر بابر اعوان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے ذریعے سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت لائی جائیگی ،مشاورت اور اجتماعی دانش سے فیصلے کرنے کے جذبے فروغ پائیں گے ۔ حکومت کے ارادے اس ضمن میں نیک لگتے ہیں لہٰذا اپوزیشن آگے بڑھ کر تعاون کرے اوراپنی تجاویز پیش کرے ۔ انتخابی اصلاحات کا کام تنہاحکومت نہیں کر سکتی، اسکے لیے قومی اتفاق رائے لازمی ہے ۔ تمام شکوک و شبہات سے پاک انتخابات قومی سلامتی اور مستحکم جمہوریت کےلئے ناگزیر ہیں ، حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مل کر اس موقع کونتیجہ خیز بنانا ہو گا ۔

مذہبی حلقے تعاون کریں

ملک میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اِس وقت صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ ہے ۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مساجد میں اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے تاہم رواں ماہ محکمہ اوقاف پنجاب نے ان اجتمات پر مکمل پابندی عائد کردی ہے،جبکہ دوسری طرف یوم علی;230; کے جلوسوں پر ملک بھر میں پابندی کی گئی ہے، صرف مجالس کی اجازت ہو گی، مجالس میں بھی ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا ۔ کورنا کے پیش نظر حکومت نے جو پابندیاں عائد کی ہیں امید ہے ان پر پوری طرح عملدرآمدہو گا اور متعلقہ مذہبی حلقے مکمل تعاون کو یقینی بنائیں گے ۔ اسلام بھی انسانی زندگی کو ترجیح دیتا ہے ،ایسا نہ ہو کہ پڑوسی ملک بھارت کی طرح حالات قابو سے باہر ہو جائیں ۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے کی وضاحت

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب ساءٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم کی ذات پر الزام لگائیں ، ہیڈلائنز بنیں اور بعد میں آرام سے یو ٹرن لے لیں ، ٹی وی چینل سے کہو تو میڈیا کی آزادی میں خطرہ اور اگر مہمان سے پوچھو تو سیاسی انتقام کا نعرہ، یہ سلسلہ بند ہونا ہو گا ۔ ادھروزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ شکر ہے میمن صاحب کو اپنی غلطی کا اندازہ ہو گیا ۔ وزیراطلاعات اوروزیراعظم کے معاون خصوصی نے یہ پیغامات سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن کے اس اقرار کے بعد جاری کئے جس میں انہوں ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ مجھ سے وزیراعظم نے قاضی فائز عیسیٰ کا نام لے کر بات نہیں کی تھی، بلکہ انہوں نے تومیری تعریف کی اور میرا حوصلہ بھی بڑھایا ۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے کی وضاحت کے بعدان عناصر کے منہ بند ہو جانے چاہئیں جو سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کرنے کے در پے ہیں ،پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین جیسے اپنے قریبی اور دست راست کوبلامتیاز احتساب کی خاطرناراض کر سکتے ہیں تو پھر کسی اور کے حوالے سے ایسے بودے الزامات کہاں سچ ہو سکتے ہیں ۔ قبل ازیں اس ضمن میں خود وزیر اعظم نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا اور دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ میں اس ضمن کبھی کوئی حکم نہیں دیا تھا،تمام الزامات بے بنیاد ہیں ۔