- الإعلانات -

بھارت مداخلت سے باز رہے

ضلع ژوب کے مانزکئی سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے حملے میں ایف سی کے 4 جوان شہید اور 6 زخمی ہوگئے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں نے باڑ لگانے والی ایف سی کی ٹیم پر فائرنگ کی ۔ شہید ہونیوالوں میں حوالدار نور زمان، سپاہی شکیل عباسی، سپاہی احسان اللہ اور نائیک سلطان شامل ہیں ۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے دوسلی میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا جس میں دو دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن فہیم‘ سپاہی شفیع اور سپاہی نسیم شہید ہوگئے ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد پاک فوج کے حوصلے پست نہیں کر سکتے ۔ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام ہر صورت مکمل کیا جائیگا ۔ وزیرستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں اور موقع ملتے ہی دہشت گردی کی کارروائیاں دہشت گردانہ لہر کا حصہ ہیں جس کی طرف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حوالہ دیتے ہوئے اسکے پس پردہ بھارت کا ہاتھ قرار دیا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف کشمیریوں کی مزاحمت اور جوابی کارروائیاں تیز ہوتی ہیں تو بھارت کی طرف سے پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کی سازشوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ مودی اور انکے قومی سلامتی کے مشیر اجیب دوول مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں مہمیز کو پاکستان کی پشت پناہی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کا بدلہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں چکانے کا اپنے اپنے طور پر واضح عندیہ دے چکے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ بھارت کے پاکستان میں موجود سلیپنگ سیل پھر سے متحرک ہو رہے ہیں ۔ بھارت پاکستان میں مداخلت کیلئے افغان سرزمین بھی استعمال کرتا رہا ہے ۔ اس کیلئے افغان امن عمل روح فرسا اور جان کنی کے مترادف ہے ۔ اسے اپنی سازشوں کی راہ میں بارڈر مینجمنٹ ایک بڑی رکاوٹ دکھائی دیتی ہے ۔ اسی کے ایما پر اشرف غنی انتظامیہ کٹھ پتلی اور طفیلی کا کردار ادا کرتے ہوئے بارڈر مینجمنٹ کی شدید مخالفت کرتی رہی ہے ۔ باڑ لگانے والے فوجیوں پر حملے ہوتے رہے ہیں جن میں کئی جوان اور افسر شہید ہو چکے ہیں ۔ امریکہ طالبان امن معاہدے کی افغان حکومت کی طرف سے مخالفت بھی بھارت ہی کی اکسانے پر کی گئی ۔ آج بھی افغانستان میں موجود بھارت کے قونصلیٹ دہشت گردوں کی تربیت گاہوں کا کام کررہے ہیں ۔ ضرب عضب کے دوران پاکستان سے راہِ فرار اختیار کرنیوالے دہشت گرد بھارت کے پے رول پر ہیں ۔ یہ چور راستوں اور ان علاقوں سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جہاں ابھی باڑ زیر تنصیب ہے ۔ وہاں آئے دہشت گرد موجود دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے اور ہر دو کو سہولت کاروں کی بھی مدد حاصل ہوتی ہے ۔ دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے پاک افغان سرحد مکمل طور پر سیل کرنے کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں کیخلاف سخت اقدامات کرنا ہونگے ۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں ‘ اسکے بعد وہ زیرزمین چلے گئے‘ ان کو افغان مہاجرین کے کیمپوں اور انکی بستیوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان انکی واپسی پر زور دیتا رہا ہے ۔ مگر آج ایک اور ایسے مہاجرین کے ریلے کاپڑوسی ممالک میں آنے کا خدشہ ہے ۔ امریکہ کی طرف سے انخلا میں بلاجواز تاخیر کی گئی اور وہ کوئی مناسب سیٹ اپ تشکیل کئے بغیر انخلا کر رہا ہے ۔ جس سے خانہ جنگی کی فضا استوار ہو رہی ہے ۔ افغان فوج امریکی فوج کے انخلا کے بعد کی صورت کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔ یہ ایک بار پھر ہتھیاروں سمیت طالبان کےساتھ مل سکتی ہے ۔ ایسا ہوا تو افغان سرزمین ایک بار پھر خوں رنگ ہو سکتی ہے ۔ افغان سرحد پر چوکی کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ۔ اس واقعہ میں پاک فوج کے چار سپوت شہید ہوئے ۔ اس واقعہ کو افغان امن عمل اور امریکی فوج کے انخلا کے تناظر میں ہی دیکھا جائیگا ۔ ایسے حملے کرانے والی وہی قوتیں ہیں جو سٹیٹس کو برقرار رکھنے کیلئے سرگرداں ہیں ۔ اس حوالے سے بھارت افغان انتظامیہ گٹھ جوڑ سرگرم عمل ہے ۔ افغان حکومت امریکہ طالبان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے سرگرم رہی ۔ امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جس میں ناکامی پرامن معاہدے کے تحت انٹرا افغان مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی ۔ امریکی افواج کے انخلا کو روکنے کی درخواست اور حکومتی مفادات پر حملوں کی ڈرامہ بازی بھی کی گئی ۔ ایسا ہی ایک ڈرامہ دو روز قبل بھی سامنے آیا ۔ سرکاری افغان میڈیا کے ذریعے ایک خبر جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ امریکی اور اتحادی فوجیوں کا انخلا شروع ہوتے ہی افغانسان کے مختلف صوبوں میں طالبان کے حملوں میں تیزی آگئی ۔ 24 گھنٹے کے دوران طالبان نے مختلف صوبوں زابل‘ قندھار‘ ننگرہار‘ بدخشاں اور تخار میں حملے کئے ۔ طالبان کے حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے ۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان سے انخلا کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے ۔ افغان انتظامیہ ہر صورت امریکی فوج کی موجودگی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ بھارت اس سازش میں افغان حکمرانوں کے شانہ بشانہ ہے ۔ امریکی انخلا کے بعد حالات مزید دگرگوں ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ طالبان امن کے قیام اور امریکی افواج کے پرامن انخلا کا یقین دلا چکے ہیں ۔ امریکہ کے پاس اب بھی وقت ہے پائیدار امن کیلئے مناسب سیاسی سیٹ اپ ترتیب دینے کی کوشش کرے ۔ امریکہ جمہوریت کا علمبردار ہے اسکی طرف سے انتخابات کراکے معاملات جیتنے والوں کے حوالے کر دیئے جانے چاہئیں تھے افغانستان سے امریکہ ونیٹو افواج کے انخلا کی تیاریوں اور فوجوں کی واپسی کیساتھ ہی نہ صرف افغانستان میں حملوں میں تیزی آگئی ہے بلکہ دہشت گرد پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوجیوں پر بھی حملے شروع کر دیئے ہیں ، جس سے اس خدشہ کی ازخود توثیق ہوتی ہے کہ خطے میں قیام امن اور استحکام امن کا پورا بندوبست کئے بنا فوجوں کی واپسی سے افغانستان میں خانہ جنگی اور پاکستانی سرحدوں پر دہشت گردانہ حملے بڑھ جائیں گے ۔ اس صورتحال میں روسی انخلا کے بعد کے حالات کے تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے جامع منصوبہ بندی اور خانہ جنگی وتصادم کوروکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ افغانستان میں بغیر منصوبہ بندی کے انخلاء سے تشدد میں اضافہ کے امکانات کی نشاندہی سبھی طرف سے ہورہی ہے ۔ پرامن افغانستان یقینا ان غیر ملکی ایجنسیوں اور طاقتوں کو کھٹکتا ہے جو یہاں بیٹھ کر خطے میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں ۔ اس حملے کا ایک مقصد پاکستان اور افغان حکومت کے مابین عدم اعتماد کو بڑھانا بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ دنوں کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے واضح طور پر کہا تھا کہ افغانستان سے فوج بلانے کے بعد ہ میں پاکستان اور افغانستان کے مابین اعتماد بحال کرنا ہے ۔ وقت آ گیا ہے کہ تمام فریق سنجیدہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے افغان مسئلے کو منطقی حل کی طرف لائیں ۔ طالبان سمیت تمام عسکری گروہوں کو جنگ ترک کرکے اقتدار میں اشتراک کیلئے جمہوری طریقہ اپنانا چاہیے جبکہ افغان حکومت کو بھی اپنی ضد ترک کرکے ملک کے مستقبل کا معاملہ ملک کے عوام کے حوالے کر دینا چاہیے ۔ افغانستان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کے خواہشمند تمام سیاسی و عسکری افغان گروہوں کو صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے ملک و عوام کے بہترین مفاد میں تمام تر معاملات کو افہام و تفہیم کیساتھ بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے ۔ اگرچہ اس حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا بھرپور اعتراف کیا گیا ہے مگر ہ میں اپنی کاوشیں مزید تیز کرنا ہوں گی کیونکہ پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے لیکن ایسا افغان حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف عناصر کو پوری طرح قابو کیے بغیر ممکن نہ ہوگا ۔ باڑ کی جلد از جلد تکمیل بھی از حد ضروری ہے کہ افغان سرزمین پر موجود پاکستان مخالف عناصر کی شرپسندی سے بچنا اس کے طفیل ممکن ہو سکے گا ۔